چائنا موبائل کو امریکہ میں پابندی کا سامنا

شیئر کریں

ٹرمپ انتظامیہ نے کہا ہے کہ قومی سلامتی کے خطرات کی وجہ سے وہ نہیں چاہتی کہ دنیا کی سب سے بڑی فون کیریئر کمپنیوں میں سے ایک چائنہ موبائل امریکہ میں اپنی ٹیلی کام کی خدمات فراہم کرے۔

واضح رہے کہ چین کی ریاستی کمپنی چائنہ موبائل نے سنہ 2011 میں اس کے لیے امریکہ کی وفاقی مواصلات کمیشن (ایف سی سی) سے لائسنس حاصل کرنے کے لیے درخواست دی تھی۔ تاہم امریکی محکمہ کامرس نے تجویز دی ہے کہ لائسنس کی درخواست کو مسترد کردیا جائے۔

امریکی محکمہ کامرس کی جانب سے یہ ہدایت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔

امریکی محکمہ کامرس کے سیکریٹری برائے مواصلات اور انفارمیشن ڈیوڈ جے ریڈل کا کہنا ہے ’چائنہ موبائل کے ساتھ اہم بات چیت کے بعد امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور قومی سلامتی کے مفادات کے بارے میں خدشات حل کرنے سے قاصر تھے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’چنانچہ امریکی حکومت کی ایگزیکٹو برانچ نے قومی مواصلات اور انفارمیشن ایڈمنسٹریشن (این ٹی آئی اے) نے تجویز دی ہے کہ ایف سی سی چائنہ موبائل کمپنی کو لائنسس جاری نہ کرے۔

اس فیصلے کے بعد نہ چین موبائل اور نہ ہی ایف ایف سی فوری تبصرے کے لیے موجود تھے کہ ان کا اگلا اقدام کیا ہو گا؟ این ٹی آئی اے کی جانب سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو دی گئی یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی معاملات پر کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ واضح ہے کہ اپریل میں امریکی محکمہ کامرس کو معلوم ہوا تھا کہ چین کی ریاستی ٹیکنالوجی کمپنی زیڈ ٹی اے نے شمالی کوریا اور ایران کے حوالے سے تجارتی پابندیوں کی خلاف ورزی کی ہے۔


شیئر کریں