President Donald Trump points out an embattled Alabama Republican Senate candidate Roy Moore supporter as he speaks at a campaign-style rally at the Pensacola Bay Center, in Pensacola, Fla., Friday, Dec. 8, 2017. (AP Photo/Susan Walsh)

ٹرمپ کا نیٹو اتحادیوں کے لیے انتباہی خط

شیئر کریں

نیٹو کے رکن ممالک کا دفاعی بجٹ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک اہم ترین موضوع ہے۔ رکن ممالک کے سربراہان کو عسکری اخراجات بڑھانے پر راضی کرنے کے لیے ٹرمپ نے ایک غیر معمولی انداز اپناتے ہوئے ذاتی طور پر خط لکھا ہے۔

گیارہ جون کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے ہونے والے سربراہی اجلاس سے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس دفاعی اتحاد کے ارکان سے ایک خط کے ذریعے مخاطب ہوئے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنے خط میں سربراہان حکومت و مملکت سے اپنی اپنی افواج پر زیادہ رقم خرچ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ ٹرمپ نے کا خط جون میں ہی متعلقہ ممالک تک پہنچ گیا تھا تاہم اخبار نیو یارک ٹائمز نے اسے اب شائع کیا ہے۔ جن ممالک کو یہ خط ارسال کیا گیا ہے، ان میں جرمنی، کینیڈا، ناروے، بیلجیم، اٹلی، لکسمبرگ، ہالینڈ، پرتگال اور اسپین بھی شامل ہیں۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل کو ٹرمپ نے کچھ یوں مخاطب کیا، ’’اپریل میں آپ کے دورے کے دوران ہم نے بات کی تھی کہ امریکا میں اس امر پر بے چینی بڑھتی جا رہی ہے کہ (نیٹو) کے چند رکن ممالک اپنے وعدے پورے نہیں کر رہے۔‘‘ اس خط کے مطابق امریکی کانگریس بھی یقین دہانیوں کے باوجود دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کرنے پر چند ارکان سے غیر مطمئن ہے۔

امریکی جریدے ’فارن پالیسی‘ کو سفارتی ذرائع سے علم ہوا ہے کہ جرمنی کو بھیجے جانے والے خط میں سخت موقف اختیار کیا گیا ہے، ’’امریکا پہلے کی طرح اب بھی یورپ کے دفاع پر زیادہ رقم خرچ کر رہا ہے، حالانکہ براعظم یورپ کی اقتصادی صورتحال اچھی ہے اور جرمنی کی بھی۔ سلامتی کے چیلنجز متنوع ہیں۔ اب یہ ہمارے لیے مزید قابل برداشت نہیں‘‘۔

ڈونلڈ ٹرمپ اس تناظر میں جرمنی کو پہلے بھی تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ نیٹو نے سن 2014ء میں اتفاق کیا تھا کہ اس کے تمام 29 رکن ممالک اپنے اپنے جی ڈی پی (مجموعی قومی پیداوار) کا کم از کم دو فیصد دفاع کے شعبے میں سن 2024ء تک خرچ کرنے کو یقینی بنائیں گے۔

نیٹو ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ برسوں کے دوران اس سلسلے میں سب سے کم لکمسبرگ نے خرچ کیا، جو اس کی مجموعی قومی پیداوار کا 0.46 فیصد بنتا ہے۔ اس کے بعد 0.90 فیصد کے ساتھ بیلجیم دوسرے اور  0.92 فیصد کے ساتھ اسپین تیسرے نمبر پر ہے۔


شیئر کریں