انڈیا الیکشن، 542 ارکان کی لوک سبھا میں گنتی کے مسلمان

شیئر کریں

بھارتی لوک سبھا کی 542 کے ایوان میں صرف 22 مسلمان ارکان ہی جگہ بنا پائے ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ پارلیمان کے مسلم ارکان کے مقابلے میں بھی کم ہے۔ نو منتخب مسلم ارکان میں سے صرف دو خواتین ہیں۔

مغربی بنگال کی ریاست سے گزشتہ پارلیمان میں آٹھ مسلمان ارکان منتخب ہو کر آئے تھے تاہم اس مرتبہ صرف چار مسلمان ہی اس ریاست سے لوک سبھا میں پہنچ پائے ہیں جن میں نصرت جہاں روحی سمیت دو خواتین بھی شامل ہیں۔

ایسی ہی صورتحال بہار میں ہے جہاں اس مرتبہ صرف دو مسلم امیدوار کامیاب ہو سکے ہیں۔ اس کے علاوہ جنوبی ریاست کیرالہ اور شمال مشرقی ریاست آسام میں بھی مسلم نمائندگی میں کمی آئی ہے۔

آل انڈیا یونائٹیڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے سربراہ بدرالدین اجمل آسام سے خود تو کامیاب ہو گئے لیکن ان کی دوسری نشست اس بار ان کے ہاتھوں سے نکل گئی۔

آسام میں غیرقانونی شہریت کا مسئلہ بہت سنگین ہے اور مسلمانوں کی ایک بڑی آبادی کو شہریت چھننے کا خطرہ ہے۔

ملک کی سب سے بڑی ریاست اترپردیش میں البتہ صورتحال اس رجحان کے برعکس رہی ہے۔ گذشتہ پارلیمان میں یہاں سے مسلم نمائندگی صفر تھی لیکن حالیہ پارلیمان میں وہاں چھ امیدوار منتخب ہوئے ہیں۔ ان میں سماجوادی پارٹی کے اہم رہنما اعظم خان بھی ہیں جنھوں نے بی جے پی کی امیدوار اور اپنے زمانے کی مشہور اداکارہ جیا پردا کو شکست دی ہے۔

اس کے علاوہ پنجاب اور مہاراشٹر سے بھی ایک ایک مسلم امیدوار محمد صادق اور امتیاز جلیل کامیاب ہوئے ہیں۔ ان علاقوں میں ایک عرصے کے بعد کسی مسلم امیدوار کو کامیابی ملی ہے۔

امتیاز جلیل اورنگ آباد سے مجلس اتحاد المسلمین کے ٹکٹ پر کامیاب ہوئے ہیں جبکہ کانگریس کے ٹکٹ پر محمد صادق رکنِ اسمبلی بنے ہیں۔

معروف مسلم رہنما اور مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی گزشتہ الیکشن میں آندھر پردیش سے منتخب ہوئے تھے لیکن اس بار ان کی سیٹ تلنگانہ میں آئی۔

انڈین پارلیمان کی تاریخ میں مسلم نمائندوں کی سب سے بڑی تعداد یعنی 49 نمائندے 1980 کے انتخابات میں منتخب ہوئی تھی جب ایمرجنسی کی ہزیمت کے بعد اندراگاندھی کی قیادت میں کانگریس واضح اکثریت سے حکومت میں آئی تھی۔ اس پارلیمان میں کانگریس کی جانب سے 30 مسلم امیدوار کامیاب ہوئے تھے۔ اس کے برعکس سب سے کم 11 مسلم امیدوار پہلی لوک سبھا میں منتخب ہوئے تھے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں انٹرنیشنل سٹڈیز میں استاد محمد سہراب نے اس بارے میں کہا کہ مسلمانوں کو حاشیہ پر لانے اور ان کے ووٹ کے حقوق کو ختم کرنے کا عمل ہے جو ایک عرصے سے جاری ہے اور رواں انتخاب تو مسلمانوں اور اسلام کے خلاف لڑا گیا ہے جس میں مسلمانوں کو ایک خطرے کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس کے اثرات مزید یہ ہوں گے کہ ان کے آزادی کے آئینی حقوق پر قدغن لگائی جا سکتی ہے۔


شیئر کریں