اورنج ٹرین منصوبے میں تاخیر پر بھاری جرمانے

شیئر کریں

پنجاب حکومت کو پاکستان کے سب سے بڑے ماس ٹرانزٹ منصوبے میں تاخیر پر چینی حکومت کو جرمانے کی مد میں روزانہ کی بنیاد پر کروڑوں روپے ادا کرنے ہوں گے۔ ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت ’لاہور اورنج لائن میٹرو ٹرین‘ منصوبے کو مقررہ وقت تک پورا کرنے میں ناکام ہوگئی تو وہ چینی حکومت کو روزانہ کی بنیاد پر 5 کروڑ 10 لاکھ روپے ادا کرنے کی پابند ہوگی۔ چینی حکومت کے اشتراک سے جاری اس منصوبے کی مقررہ تاریخ سے اعلیٰ حکام ابھی تک لاعلم ہیں۔

پنجاب حکومت کی ویب سائٹ پر جاری اعداد و شمار کے مطابق چینی حکومت کو منصوبے کے کام کے حوالے سے کانٹریکٹ کی کل لاگت پر اداشدہ ہرجانے کی شرح 0.2 فیصد (کم از کم) سے 10 فیصد (زیادہ سے زیادہ)، مقامی ٹھیکیداروں کی بے روزگاری کے چارجز وغیر ادا کرنے ہوں گے جو روزانہ کی بنیاد پر 5 کروڑ 10 لاکھ روپے بنتا ہے۔

دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اگر قرض کا معاہدہ طے مشاورت کے باوجود پورا نہیں ہوتا تو اس صورت میں اس معاملے کو ثالثی کے لیے چین کے بین الاقوامی معاشی اور تجارتی ثالثی کمیشن (سی آئی ای ٹی اے سی) کے پاس بھیجا جائے گا۔

دستاویزات میں منصوبے کی تفصیل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اس منصوبے کے لیے بین الاقومی ٹینڈر 29 جنوری 2014 کو کھلا تھا جس کے بعد صدرِ مملکت ممنون حسین نے چینی وزیرِاعظم سے 19 فروری کو بیجنگ سے ملاقات کی۔

اس ملاقات کے دوران چینی وزیرِاعظم نے اورنج لائن منصوبے میں فنڈنگ کا فیصلہ کیا اور ایک شرط عائد کی کہ چینی کمپنی اس منصوبے کو چینی آلات سے چلائے گی۔ اس کے علاوہ چینی وزیرِاعظم نے اس منصوبے کو چین کی جانب سے پاکستان کے لیے ایک تحفہ قرار دیا۔

اسی برس 24 جون کو چین نے سی آر نوریکو کو اس منصوبے کی تکمیل کے لیے تجویز کیا اور یہ کمپنی 4 اگست کو ہونے والی نیلامی میں 2 ارب 13 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے ساتھ ٹینڈر کی سب کم بولی لگانے والی کمپنی بن کر سامنے آئی۔

چینی کمپنی کو گرین سگنل ملنے کے بعد لاہور ڈیولپمنٹ اتھارٹی (ایل ڈی اے) نے منصوبے کی تکمیل کے لیے حصولِ اراضی ایکٹ 1894 کے تحت 2015 میں زمین لینے کے لیے کام شروع کردیا تھا۔ سرکاری ذرائع نے ڈان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس منصوبے کی تکمیل اور رقوم کی ادائیگی کے حوالے سے تمام لوگ لاعلم ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر ہم اکتوبر 2015 کو اس منصوبے کا ابتدائی مہینہ تصور کرتے ہیں تو پھر اس کی تکیمل کے لیے 27 ماہ کی مقررہ حد جنوی 2018 بنے گی۔ تاہم اگر اس منصوبے کا ابتدائی ماہ دسمبر 2015 تصور کیا جاتا ہے، جس دوران پاکستان اور چین کے درمیان ایک سو 62 ارب روپے کا معاہدہ ہوا تھا تو پھر اس کی تکمیل کی حتمی تاریخ مارچ 2018 بنے گی۔

ذرائع نے کہا کہ اگر چین کی جانب سے فنڈ کی پہلی قسط کے اجرا کے ماہ مئی 2016 کو منصوبے کے آغاز کا پہلا مہینہ تصور کیا جائے گا تو پھر اس کی مقررہ تاریخ اگست 2018 بنے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ تینوں تاریخیں گزر چکی ہیں، جبکہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچے میں مزید 6 سے 7 ماہ درکار ہیں۔


شیئر کریں