آئی ایم ایف سے مذاکرات، وزیراعظم نے مالیاتی امور پر پیر کو اہم اجلاس بلالیا

شیئر کریں

 آئی ایم ایف سے مذاکرات اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کے معاملے پر وزیراعظم نے پیر کو مالیاتی امور اجلاس طلب کرلیا۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئی ایم ایف سے مذاکرات اور ٹیکس ایمنسٹی اسکیم کا معاملہ زیر غور آئے گا جب کہ مالیاتی امور پر بریفنگ بھی دی جائے گی۔

بریفنگ میں کابینہ اور پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی شریک ہوں گے جب کہ مشیر خزانہ حفیظ شیخ سمیت حکومتی معاشی ٹیم کے ارکان بھی شرکت کریں گے۔

حکومت کی جانب سے یہ کہا گیا تھا کہ وزیراعظم نے وزارت خزانہ اور آئی ایم ایف کے سٹاف لیول پر طے پانے والے معاہدے کے مسودے کو مسترد کردیا تھا۔ حکومتی اطلاعات کے مطابق وزیراعظم افراط زر کے معاملے پر نرم شرائط چاہتے ہیں جبکہ انہوں نے ٹیکس وصولی کے ہدف میں کمی کیلئے بھی آئی ایم ایف کو راضی کرنے کی ہدایت کی ہے۔

ماہرین کی رائے میں نرم شرائط والا ڈھونگ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہے۔ معاہدہ دراصل وہی ہے جس پر گزشتہ رات آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کی رضا مندی حاصل کر کے اسی رات واشنگٹن ڈی سی روانہ ہو گیا۔ اب آئی ایم ایف کا بورڈ اس کی منظوری دے گا اور پاکستان کے عوام اسے بھگتیں گے

تاہم یہ بات حیران کن ہے کہ وزارت خزانہ کے اعلیٰ عہدیدار جو آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے وہ وزیر اعظم کی ‘نرم شرائط’ کے بارے آگاہ ہی نہ تھے، اور انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسے معاہدے پر اتفاق کر لیا جو وزیر اعظم کو قابل قبول نہ ہو۔

ایف کے ساتھ مذاکرات کر رہے تھے وہ وزیر اعظم کی ‘نرم شرائط’ کے بارے آگاہ ہی نہ تھے، اور انہوں نے آئی ایم ایف کے ساتھ ایسے معاہدے پر اتفاق کر لیا جو وزیر اعظم کو قابل قبول نہ ہو۔

ماہرین کی رائے میں نرم شرائط والا ڈھونگ عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہے۔ معاہدہ دراصل وہی ہے جس پر گزشتہ رات آئی ایم ایف کا وفد پاکستان کی رضا مندی حاصل کر کے اسی رات واشنگٹن ڈی سی روانہ ہو گیا۔ اب آئی ایم ایف کا بورڈ اس کی منظوری دے گا اور پاکستان کے عوام اسے بھگتیں گے


شیئر کریں