اپوزیشن کا عید کے بعد آل پارٹیز کانفرنس میں مشترکہ لائحہ عمل بنانے کا فیصلہ

شیئر کریں

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ عیدالفطر کے بعد مولانا فضل الرحمن کی سربراہی میں آل پارٹیز کانفرنس میں حکومت کے خلاف مشترکہ سیاسی حکمت عملی تشکیل دی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ افطار پارٹی میں پاکستان کے موجودہ سیاسی، اقتصادی، انسانی حقوق اور دیگر مسائل پر سیر حاصل گفتگو کی گئی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ تمام جماعتیں پارلیمان کے اندر اور باہر علیحدہ علیحدہ احتجاج کریں گ۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقات اور مذکرات جاری رکھنے کا بھی عندیہ دیا۔

چیئرمین پی پی پی کا کہنا تھا کہ کوئی سیاسی جماعت تنہا کے مسائل کا حل نہیں نکال سکتی۔ نے افطار پارٹی میں شرکت کرنے پر تمام جماعتوں کے رہنماؤں کا شکریہ ادا کیا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ میثاق جمہوریت کا یہ فائدہ ہوا کہ دو جمہوری طاقتوں نے اپنی حکومت کی مدت پوری کی۔ ان کا کہنا تھا کہ میثاق جمہوریت کا سلسلہ محض ادھر ہی ختم نہیں ہوا بلکہ اس کو اگلے لے کر چلیں گے۔

مریم نواز نے کہا کہ پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) روایتی سیاسی حریف رہے لیکن ایک دوسرے کے دکھ میں کھلے دل سے شریک ہوتے ہیں۔ انہوں نے میڈیا رپورٹس کی تردید کی جس میں دعویٰ کیا گیا کہ افطار ڈنر میں میری اور بلاول کی پہلی ملاقات ہے۔

جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ نااہل لوگوں کو اقتدار سونپنے کی وجہ سے ملک متعدد مسائل سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 6 سے 7 ماہ میں ملک ایسے ’گہرے سمندر‘ میں جاپڑا ہے جہاں سے اسے نکالنے کے لیے تمام جماعتوں کا قومی فریضہ بن گیا ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن نے بلاول بھٹو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ’آئندہ بھی اسی طرح کے ڈنر میں شریک ہوجائیں‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈنر میں تمام جماعتوں نے ملک کو درپیش صورتحال اور اقتصادی مسائل پر بات چیت کی۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ احتساب کے نام پر انتقام کی جو کوشش کی جارہی ہے یہ آمریت کا حصہ ہوتی تھی مگر آج یہ جمہوریت کا حصہ بن گئی ہے تاہم آج کا ہدف حکومت گرانا نہیں ہے کیونکہ حکومت پہلے ہی گری ہوئی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج کا ہدف حکومت گرانا نہیں ہے بلکہ اس کے مقاصد پاکستان کے عوام کے مسائل کو حل کیاجاسکے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک چلانے میں ناکام ہوگئی ہے اور عام انتخابات میں جو ہوا اس کا خمیازہ ملک کے عوام بھگت رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے افطار ڈنر میں کوئی بات ذاتی کی اور نہ ہی نام نہاد احتساب کی کی۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ’آج پارلیمان میں بات کرنے کی گنجائش نہیں، عید کے بعد مولانا فضل الرحمٰن آل پارٹیز کانفرنس کریں گے جس میں مشترکہ طور پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا‘۔

قومی وطن پارٹی کے آفتاب احمد شیر پاؤ نے کہا کہ ملک جن حالات سے گزر رہا ایسی صورتحال میں اپوزیشن جماعتیں بیٹھی نہیں رہ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے اور اس ملک کو بحران سے نکالنے کے لیے اپوزیشن جماعتیں جب اکھٹے ہوں گی تو عوام کو بھی روشنی کی کرن نظر آئے گی۔

حکومت کے خلاف اپوزیشن ممکنہ طور پر گرینڈ الائنس کے مشن کا آغاز کرنے جارہی ہے جہاں حکومت مخالف تمام بڑی سیاسی جماعتیں آئندہ کی حکمتِ عملی طے کریں گی۔

زرداری ہاؤس اسلام آباد میں منعقد افطار ڈنر میں مریم نواز کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے وفد اور چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری کے مابین ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کے وفد میں مریم نواز کے ہمراہ پارٹی کے نائب صدر حمزہ شہباز، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، سابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق اور پارٹی رہنما پرویز رشید موجود تھے۔

اجلاس میں جماعت اسلامی کے لیاقت بلوچ، عوامی نیشنل پارٹی کے ایمل ولی خان، زاہد خان، میاں افتخار حسین کے علاوہ قومی وطن پارٹی آفتاب احمد خان شیر پاؤ، نیشنل پارٹی کے حاصل بزنجو، بلوچستان نیشنل پارٹی کے جہانزیب جمالدینی اور دیگر زرداری ہاؤس میں موجود تھے۔


شیئر کریں