اے بسا آرزو کہ خاک شد

شیئر کریں

گہرے سمندر میں چھ ماہ کی ڈرلنگ کے بعد گیس/ تیل کی بجائے پانی نکل آیا

 وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی برائے پیٹرولیم ندیم بابر نے کراچی کے قریب گہرے سمندر میں ڈرلنگ کے دوران تیل و گیس کے ذخائر نہ ملنے کی تصدیق کردی۔ 

معاون خصوصی ندیم بابر کا کہنا تھا کہ کراچی کے قریب گہرے سمندرمیں ڈرلنگ کےدوران تیل و گیس کےذخائر نہیں مل سکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کیکڑا ون کے مقام پر 5500 میٹر سے زیادہ گہرائی تک ڈرلنگ کی گئی تاہم ذخائر نہ ملنے کے بعد اب ڈرلنگ کا کام ترک کردیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹیسٹنگ کے نتائج سے ڈی جی پیٹرولیم کنسیشنز کے آفس کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

ندیم بابر کے مطابق کیکڑا ون کے مقام پر اٹلی کی کمپنی ای این آئی کی قیادت میں جوائنٹ وینچر نے ڈرلنگ کی جس میں امریکی کمپنی ایگزون موبل کے علاوہ او جی ڈی سی اور پی پی ایل شامل تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈرلنگ کے منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ کا رہا۔

وزیراعظم عمران خان نے عوام سے دعا کی اپیل بھی کی تھی اور کہا کہ کراچی سے آگے سمندر میں گیس کا کنواں کھودا جارہا ہے، لگتا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر پتا چل جائے گا ، ہوسکتا ہے وہاں سے گیس کا اتنا ذخیرہ ملے کہ پاکستان کو 50 سال گیس باہر سے منگوانی ہی نہ پڑے۔


شیئر کریں