تاجک جیل میں پرتشدد ہنگامہ، بتیس افراد ہلاک

شیئر کریں

وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان کی ایک جیل میں ہونے والے پر تشدد ہنگامے میں کم از کم 32 افراد کی ہلاک ہو گئے ہیں۔ تاجک وزارت انصاف کے مطابق مرنے والوں میں تین اہکار اور 29 قیدی شامل ہیں۔

یہ پرتشدد ہنگامہ آرائی دارالحکومت دوشنبے سے مشرق میں 17 کلومیٹر دور واقع نواحی شہر وحدت کی جیل میں ہوئی۔

تاجک حکومت کے مطابق اتوار کے دن ہنگامہ داعش سے تعلق رکھنے والے قیدیوں نے شروع کیا۔ ان قیدیوں نے چاقو کے وار کر کے پہلے تین جیل گارڈز اور پھر پانچ قیدیوں کو ہلاک کر دیا۔

ان ہلاکتوں کے بعد صورت حال کو کنٹرول کرنے کے لیے سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی میں چوبیس انتہا پسند قیدی مارے گئے۔

افغانستان کے شمال میں واقع وسط ایشیائی ریاست تاجکستان کو 1991 میں آزادی کے بعد سے انتہا پسندی کے خطرات در پیش ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سرگرم انتہا پسندوں میں بھی تاجک اور ازبک نسل کے لوگوں کی بڑی تعداد موجود تھی اور ان کا اچھا خاصا اثر و رسوخ تھا۔ اب بتایا جاتا ہے کہ 1000 کے قریب تاجک داعش کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔


شیئر کریں