یہ خوشنوا، خوشنما جاندار خواب و خیال ہو جائیں گے

شیئر کریں

جانوروں کی قريب ايک ملين انواع ناپید ہونے کو ہیں

عالمی اقتصاديات کے ماحول پر پڑنے والے اثرات سے متعلق رپورٹ ميں خبردار کيا گيا ہے کہ پودوں، کيڑے مکوڑوں اور جانوروں کی تقريباً آٹھ ملين اقسام اس وقت زندہ ہيں جن ميں سے ايک ملين اقسام کو ناپيد ہو جانے کا خطرہ لاحق ہے۔

جانوروں کی دس لاکھ سے زائد اقسام معدوم ہونے کے خطرے سے دوچار ہيں۔ يہ انکشاف پيرس سے جاری کردہ ’گلوبل اسسمنٹ‘ نامی رپورٹ ميں کيا گيا ہے۔ رپورٹ کے مطابق جانوروں کو لاحق اس خطرے کی مرکزی وجوہات ميں اقتصادی ترقی کی دوڑ  اور موسمياتی تبديليوں کے اثرات شامل ہيں۔

رپورٹ مرتب کرنے والی تحقيقاتی باڈی اس نتيجے پر پہنچی ہے کہ آلودگی، ماحول کی تباہی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج جيسے مسائل کی وجہ سے سامنے آنے والے خطرات سے بچنے کے ليے اقتصادی ترقی کے بعد اقتصاديات کے کسی ايسے نئے طريقہ کار پر متفق ہونا ہو گا جس سے ان مسائل سے بچنا ممکن ہو سکے۔

130 ممالک کی حمايت يافتہ اس رپورٹ ميں خبردار کيا گيا ہے کہ عالمی مالياتی و اقتصادی نظام ميں از سر نو اور کثير الجہتی تبديلياں، انسان کو تباہی کی دہانے سے واپس لانے کے ليے ناگزير ہيں۔ اس مطالعے کو ترتيب دينے والی ٹيم کے شريک سربراہ پروفيسر جوزف سيٹل نے بتايا کہ زمين پر زندگی کا پيچيدہ اور ايک دوسرے سے جڑا ہوا جال سکڑتا جا رہا اور کمزور پڑتا جا رہا ہے۔ ’انٹر گورمنٹل سائنس پاليسی پليٹ فارم آن بايو ڈائیورسٹی اينڈ ايکو سسٹم سروسزکی جانب سے کرائی گئی اس سٹڈی ميں واضح کيا گيا ہے کہ يہ نقصان براہ راست انسانی سرگرميوں کا نتيجہ ہے اور دنيا کے تمام خطوں ميں انسان کی خوش حالی کے ليے ايک حقيقی خطرہ ہے۔

يہ رپورٹ پچاس ممالک سے تعلق رکھنے والے 145 ماہرين نے تيار کی ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والی تحقيقاتی باڈی اس نتيجے پر پہنچی ہے کہ آلودگی، ماحول کی تباہی اور کاربن ڈائی آکسائڈ کے اخراج جيسے مسائل کی وجہ سے سامنے آنے والے خطرات سے بچنے کے ليے اقتصادی ترقی کے بعد اقتصاديات کے کسی ايسے نئے طريقہ کار پر متفق ہونا ہو گا جس سے ان مسائل سے بچنا ممکن ہو سکے۔ رپورٹ کے مطابق دنيا بھر ميں اس وقت پودوں، کيڑے مکوڑوں اور جانوروں کی تقريباً آٹھ ملين اقسام زندہ ہيں تاہم ان ميں سے ايک ملين اقسام کو آئندہ چند دہائيوں ميں ہی ناپيد ہو جانے کا خطرہ لاحق ہے۔ محققين نے ماہی گيری اور

صنعتی سطح پر زراعت کو اس ضمن ميں سب سے مضر قرار ديا ہے۔ رپورٹ ميں مزيد بتايا گيا ہے کہ نامياتی ايندھن سے تيار کردہ کوئلے، تيل اور گيس کو جلانے سے سامنے آنے والی موسمياتی تبديلياں ان نقصانات کی رفتار بڑھا رہی ہيں۔

ماحوليات سے متعلق برطانوی سائنسدان رابرٹ واٹسن کے بقول رپورٹ يہ بھی بتاتی ہے کہ تبديلی لانے کے ليے اب بھی وقت ہے، بشرطيہ کہ مقامی و عالمی ہر سطح پر فوری طور پر کوششيں شروع کی جائيں۔



شیئر کریں