حتمی مذاکراے کے لیے ایف اے ٹی ایف کی ٹیم اسلام آباد پہنچ گئی

شیئر کریں

پاکستان اور فنانشل ایکشن ٹاسک فورس  (ایف اے ٹی ایف) کی ایشیا پیسفک ٹیم کے درمیان حتمی مذاکرات جاری ہیں۔ایف اے ٹی ایف کا ایشیاء پیسیفک کا اعلیٰ سطح کا وفد کل رات اسلام آباد پہنچا تھا، جو 19 اکتوبر تک پاکستان میں قیام کرے گا۔ پاکستان کی طرف سے وزارت خزانہ، اسٹیٹ بینک، سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)،قومی احتساب بیورو (نیب)، فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے حکام شریک ہیں۔

مذاکرات کے دوران ایف اے ٹی ایف کی ٹیم پاکستان کے دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے انتظامی و قانونی اقدامات اور اداروں کی جانب سے ان پر عملدرآمد کا جائزہ لےگی اور 21 اکتوبر تک پاکستان کو گرے لسٹ سے نکالنے یا بلیک لسٹ کرنے کی سفارشات مرتب کرے گی۔

گزشتہ ماہ ایشیاء پیسفک گروپ کے چند حکام نے پاکستان کا دورہ کرکے فائنل مذاکرات کے ایجنڈے کو حتمی شکل دی تھی، جس کے بعد ایف اے ٹی ایف کی سفارشات کی روشنی میں حکومت نے اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔ حکومت نے ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر ریگولیشنز 2018 میں ترامیم کی منظوری دے دی ہے جب کہ اینٹی منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے سے متعلق ریگولیشنز میں بھی ترامیم کی گئی ہیں۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے منی ٹریل کی نشاندہی کے لیے مختلف تجاویز کی بھی منظوری دی گئی ہے اور مبینہ مشکوک مالی سرگرمیوں میں ملوث الرحمن ٹرسٹ نامی تنظیم کو بھی کالعدم قرار دیا جاچکا ہے۔

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے ارکان کی تعداد 37 ہے جس میں امریکہ، برطانیہ، چین، بھارت اور ترکی سمیت 25 ممالک، خیلج تعاون کونسل اور یورپی کمیشن شامل ہیں۔ اس تنظیم کی بنیادی ذمہ داریاں عالمی سطح پر منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے اقدامات کرنا ہیں۔

عالمی واچ لسٹ میں پاکستان کا نام شامل ہونے سے اسے عالمی امداد، قرضوں اور سرمایہ کاری کی سخت نگرانی سے گزرنا ہوگا، جس سے بیرونی سرمایہ کاری متاثر ہوگی اور ملکی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ اس سے قبل 2012 سے 2015 تک بھی پاکستان ایف اے ٹی ایف کی واچ لسٹ میں شامل تھا۔


شیئر کریں