حکومت کا 21 مئی سے پہلے ٹیکس ایمنسٹی سکیم لانے کا فیصلہ

شیئر کریں

مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ٹیکس ایمنسٹی سکیم 21 مئی سے پہلے لائی جارہی ہے، اور یہ آخری موقع ہوگا جس کے بعد صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کریک ڈاؤن کریں گے۔

وزیراعظم عمران خان کی زیرِ صدارت حکومتی وزرا اور ارکان پارلیمنٹ کےاجلاس میں مشیر خزانہ نے آئی ایم ایف پیکیج اور ٹیکس ایمنسٹی سکیم پر بریفنگ دی جبکہ وزیراعظم اور مشیر خزانہ نے ارکان پارلیمنٹ کے سوالوں کے جوابات بھی دیے۔

ارکان پارلیمنٹ نے بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے پر تحفظات کا اظہار کیا، جس پر مشیر خزانہ نے بتایا کہ 300  سے کم یونٹ استعمال کرنے والے صارفین پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا جائے گا، بجلی اور گیس کے شعبے میں 216 ارب روپے کی سبسڈی دے رہے ہیں۔

مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ بجٹ میں ترقیاتی فنڈ 800 ارب روپے رکھا جائے گا۔غریب طبقے کو سہولت دینے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ فنڈ میں 80 ارب روپے کا اضافہ کرکے اس بار فنڈ میں 180 ارب روپے رکھے جائیں گے۔ ایک رکن نے سوال کیا کہ کیا یہ درست ہے کہ ڈالر اور شرح سود کا تعین آئی ایم ایف کرے گا؟ مشیر خزانہ نے جواب دیا کہ شرح سود اور ڈالر کا تعین اسٹیٹ بینک کرے گا۔

ٹیکس ایمنسٹی سکیم کی تاریخ کا اعلان کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ کا کہنا تھا کہ ٹیکس ایمنسٹی اسکیم 21 مئی کو آئندہ بجٹ اجلاس سے پہلے لائی جارہی ہے۔ سکیم کے تحت 4 فیصد ٹیکس ادا کرکے اثاثہ جات ظاہر کیے جا سکیں گے جبکہ بیرون ملک اثاثوں پر 6 فیصد ٹیکس ادا کرکے اثاثے ظاہر کیے جا سکیں گے۔ مشیر خزانہ عبد الحفیظ شیخ نے کہا ہے کہ ایمنسٹی سکیم آخری موقع ہوگا، اس کے بعد کریک ڈاؤن کریں گے۔


شیئر کریں