سانحہ مستونگ کے شہدا کی نماز جنازہ آج ادا کی جائے گی

شیئر کریں

بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے درینگڑھ میں خودکش حملے کے نتیجے میں بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوارنوابزادہ سراج رئیسانی سمیت 128 سے زائد افراد کی شہادت کے واقعے کے بعد صوبے کی فضا سوگوار ہے۔

حکومت بلوچستان کی جانب سے سانحہ مستونگ پر 2 روزہ سوگ کے اعلان پر تمام سرکاری عمارات پر قومی پرچم سرنگوں ہے۔ بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی سانحہ مستونگ پر 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے جبکہ پارٹی کا کوئٹہ میں ہونے والا آج کا انتخابی جلسہ بھی منسوخ کردیا گیا ہے۔

سانحہ مستونگ میں شہید ہونے والے قبائلی اور سیاسی رہنما نوابزادہ سراج رئیسانی کی نماز جنازہ آج شام ساڑھے چار ایوب سٹیڈیم میں ادا کی جائے گی۔ ان کی تدفین مستونگ کےعلاقے کانک میں ہوگی۔

یاد رہے کہ نواب زادہ سراج رئیسانی بلوچستان عوامی پارٹی کے امیدوار تھے اور حلقہ پی بی 35 مستونگ سے الیکشن میں حصہ لے رہے تھے۔

نوابزادہ سراج رئیسانی کون تھے؟

 بلوچستان کے سابق گرنر اور سیاسی جماعت بلوچستان متحدہ محاذ کے بانی نواب غوث بخش رئیسانی کے بیٹے سراج رئیسانی 4 اپریل1963 کو ضلع بولان کے علاقے مہر گڈھ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم بولان سے حاصل کی اور بعد ازاں زرعی یونیورسٹی ٹنڈو جام سے ایگر و نومی میں بی ایس سی کیا جس کے بعد نیدرلینڈ سے انہوں نے فلوری کلچر کا کورس کیا۔

سراج رئیسانی سابق وزیر اعلٰی بلوچستان نواب اسلم رئیسانی اور سابق سینیٹر و بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما نوابزادہ لشکری رئیسانی کے چھوٹے بھائی تھے۔

سراج رئیسانی نے چند سال قبل بلوچستان متحدہ محاذ کے چیئرمین منتخب ہوئے تھے۔ انہوں نے رواں سال تین جون کو اپنی جماعت کو بننے والی نئی سیاسی جماعت بلوچستان عوامی پارٹی میں ضم کرنے کا اعلان کیا اور اسی جماعت کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست حلقہ پی بی35 مستونگ سے الیکشن لڑرہے تھے۔

اس سےقبل مستونگ میں جولائی2011 میں ایک بم دھماکے میں نوابزادہ سراج رئیسانی کا بیٹا اکمل رئیسانی شہید ہو گیا تھا۔


شیئر کریں