شبر زیدی ایف بی آر کے بابووں کو کیوں منظور نہیں؟

شیئر کریں

عون علی

7 مئی 2019

فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے لاعلاج امراض پاکستان کی حکومتوں کے لیے مشکلات کا باعث ہیں، تاہم اس ادارے پر چھائے ہوئے سرکاری بابو ہی نہیں چاہتے کہ یہ مسائل دور ہوں یا ملکی ریونیو کی کمی کا کوئی مناسب حل نکل سکے۔

ایف بی آر میں سب سے بڑا مسئلہ اس ادارے کی سٹرکچرل ریفارمز کا ہے، یعنی ایسی اصلاحات کی جائیں کہ ٹیکس چوری کے امکانات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ یہ کسی مریض کا میجر آپریشن کرنے کے مترادف ہے۔  جس کے لیے مریض کی رضا مندی ضروری ہوتی ہے۔ کم سے کم علاج کروانے پر آمادگی تو ظاہر کرے۔ تاہم حیران کن طور پر یہ نظر آتا ہے کہ ہمارامیریض جوں ہے جیسا ہے ویسا ہی رہنا چاہتا ہے ۔

  ایف بی آر کی  اپنی حالت میں تبدیلی  کی کوششوں کے خلاف تازہ مزاحمت اس وقت سامنے آئی جب  وزیر اعظم کی جانب سے ٹیکس کے شعبے کے معروف ماہر سید شبر زیدی کو چیئرمین ایف بی آر کے عہدے پر تعینات  کرنے کا اعلان کیا گیا تاہم وزیر اعظم کے اس فیصلے کی سب سے پہلی مزاحمت این لینڈ ریونیو ڈیارٹمنٹ کے افسروں کی جانب سے سامنے آئی۔ شبر زیدی وہ پہلے شخص نہیں جنہیں سرکاری افسر نہ ہونے کے باوجود چیئرمین ایف بی آر کے عہدے پر تعینات کیا گیا ہے۔ مگر شاید ایسا پہلی بار ہے کہ ریونیو کے افسر اپنے چیئرمین کی تعیناتی پر اعتراض کر رہے ہوں۔

اس سلسلے میں ان لینڈ ریونیو کے افسروں کی تنظیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کا سہارا لیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کو ملکی عدلیہ میں یہ امتیاز حاصل رہا ہے کہ غیر منطقی اور بظاہر ملکی مفاد کے خلاف اقدامات کو اس عدالے کی جانب سے تحفظ دیا  گیا ۔ایسے درجنوں واقعات تلاش کئے جا سکتے ہیں جن میں اس عدالت کے فیصلوں سے سٹیٹس کو  ؛کو تحفظ حاصل ہوا۔ ایسے  متعدد فیصلے سپریم کورٹ کی سطح پر رد بھی  کر دئیے گئے مگر ایسی کئی نظائر اب بھی موجود ہیں جن کا رد کیا جانا ضروری ہے ؛کیونکہ بادی النظر میں یہ فیصلے وسیع تر ملکی مفاد کے خلاف نتائج دے رہے ہیں۔ بے شک ان کا منشا یہ نہ ہی ہو   مگر ماحصل یہی ہے۔  

شبر زیدی کی نامزدگی کے اعلان کے ساتھ ہی ایف بی آر کے گرگ ہائے باراں دیدہ  بد حواسی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے ایک فیصلے کے تنکے کا سہارا لے رہے ہیں، اور یہ، یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ شبر زیدی میں واقعی کوئی ایسی بات ہے جو ایف بی آر جیسے ناکام ادارے کے کام چور افسروں کے گلے سے نہیں اتر رہی۔   دراصل وہ ٹیکس کے شعبے کے  ایک ایسےبھیدی ہیں جسے خبر ہے لٹیروں کے ہر ٹھکانے کی۔ ملک میں ٹیکس کے   مسائل کو پوری طرح سمجھتے ہیں ، ان بیماریوں کے اسباب کی نشاندہی  بھی کرتے رہے ہیں اور ایک سے زائد مرتبہ جامع انداز میں ان مسائل کا حل بھی  پیش کر چکے ہیں۔

 ہم نہ مانتے کہ شبر زیدی واقعی کچھ جراحی کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں، مگر ایف بی آر کے افسروں کی کھلبلی سے یقین ہو چلا ہے کہ واقعی وہ بہت کچھ کر سکنے کی اہلیت رکھتے ہیں اسی لیے تو قبول نہیں کئے جا رہے۔ لوگوں کو اپنی سالہا سال کی مضبوط کرسیاں اور لاکھوں ، کروڑوں کی دہاڑیاں خطرے میں نظر آرہی ہیں۔

اگر ایسی بات ہے تو شبر زیدی کو روکنے والے صرف ایف بی آر کے یہ بابو نہیں بلکہ یہ تو صرف ٹپ آف دی آئس برگ ہیں۔ ان کے پیچھے بہت بڑے بڑے پیٹوں اور گہری جیبوں والے سرمایہ دار ہیں، ٹیکس چور پروفیشنلز ہیں،ٹیکس چوروں کے معاون ٹیکس ایڈوائزر ہیں ، یعنی اسے آرام سے درجنوں ارب روپے کی طاقت سمجھ لینا چاہیے۔

کیا وزیر اعظم عمران خان میں اتنا دم خم ہے کہ درجنوں ارب روپے کے اس دھکے کو سہار سکیں اور ان بد قماشوں کو پچھاڑ سکیں؟ کیا اس ریاست میں طاقت کا استعارہ سمجھے جانے والے ادارے اس کام میں وزیر اعظم یا دوسرے لفظوں میں ریاست کے ساتھ کھڑے ہیں؟ غریب عوام تو خیر کہاں جائیں گے، کیا سیاست دان ساتھ ہیں؟ اگر ایسا ہے تو ایف بی آر میں ناگزیر اصلاحات کو کوئی نہیں روک سکتا۔ ایسی اصلاحات جن پر ملکی معیشت کے مستقبل کا دارومدار ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو خان صاحب سے کہنا چاہیے کہ یہ کام آپ کے کرنے کا نہیں۔ سرکاری افسروں کا مافیا اور ان کے پشت پناہ گاڈ فادر جو کہتے ہیں چپ کر کے آمین کہہ دیں۔ سمجھیں یہ کام آپ کے کرنے کا تھا ہی نہیں۔


شیئر کریں