شرجیل انظر کی تصویر

شیئر کریں

طاہر اصغر

ایک شاعر جب کیمرے کی آنکھ سے دیکھتا ہے تو منظر کچھ اور نکھر جاتا ہے. شرجیل انظر نظم و غزل کہتے کہتے تصویر کشی کرنے لگے, مگرانہوں نے اپنے تخیل کو بروئے کار لاتے ہو ئے ان مناظر میں کچھ ایسے رنگ بھی دریافت کئے ہیں جو عام طور سے دیکھے ۔۔نہیں جاسکتے۔

انہوں نے پورٹریٹ بنائے اور پھر تھیم فوٹوگرافی کے ذریعے مختلف ثقافتوں کو اپنی تصاویر کے ذریعے پیش کیا۔ شرجیل انظر کی تصاویر کی نمائش الحمرا آرٹس کو نسل لا ہو ر میں ہو چکی ہے۔ دوسری نمائش اسلام آباد میں ہو ئی اور اب وہ کر اچی میں اپنی تصاویر کی تیسری نمائش کرنے کا پر وگرام بنا رہے ہیں۔گزشتہ دنوں انہوں نے تھرپارکر میں دوہفتے گزارے اور وہاں کے صبح وشام اور ثقافت کے رنگوں کو اپنے کیمرے میں مقید کیا۔

 

شرجیل انظر کی تصاویر لا جواب، دل نشین اور کئی رنگوں سے آباد ہیں۔ تصویر کشی ان کا شوق ہے۔ انہیں فلم میکنگ کا شوق تھا مگر یہ ادھورا خواب، اب وہ تصویر یں بنا کر پورا کر تے ہیں۔ بقول غالب
سیکھے ہیں مہ رخوں کے لئے ہم مصوری
ٓ تقریب کچھ تو بہر ملاقات چاہیے

کیمرا کندھے پر دھرے وہ نگر نگر گھومتے اور پھر جو کچھ بھر لاتے ہیں انہیں تصاویر کی صورت اپنے احباب کے سامنے رکھتے ہیں، جو انہیں بے پناہ داد و تحسین پیش کرتے ہیں۔

 

 


شیئر کریں