صدارتی انتخاب کا چیستان

شیئر کریں

حسنین جمیل

hassnainjamil@yahoo.com

چار ستمبر کو ملک کا 13واں صدارتی انتخاب ہونے جا رہا ہے۔ 18ویں ترمیم کے بعد صدر کے تمام اختیارات وزیراعظم کو منتقل ہو چکے ہیں۔ وزیراعظم آفس سے آئی ہوئی فائلوں پر دستخط کرنا وفاقی محکموں اور ریاستی مشینری کی نگرانی کرنا ہی صدر مملکت کی سب سے بڑی مصروفیت رہ گئی ہے۔ پاکستان کے آخری طاقت ور صدر آصف علی زرداری تھے۔ انہوں نے ازخود اپنی جماعت پیپلزپارٹی کوآئین میں ترمیم کرنے کا اختیار دیا اور ازخود اپنے اختیارات سے دستبردار ہو گئے۔ حکمران سیاسی جماعت کے سربراہ تھے لہٰذا اختیارات ان کی ذات کے گرد ہی گھومتے رہے۔ اپنے اختیارات سے دستبرداری کے باوجود طاقت کا مرکز ان کی ذات ہی رہی۔ مسلم لیگ (نون) کی حکومت آنے کے بعد ممنون حسین کو صدر پاکستان بنایا گیا، جن کا عہدہ نمائشی بن کر رہ گیا۔ جیسے ماضی میں وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے صدر چوہدری فضل الٰہی کا ہوتا تھا۔ 4ستمبر کو صدر ممنون حسین کے عہدے کی میعاد ختم ہو جائے گی۔ اس وقت تک تین صدارتی امیدوار میدان میں ہیں۔ تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی، پیپلزپارٹی کے اعتزاز احسن اور مشترکہ اپوزیشن اتحاد کے مولانا فضل الرحمن، جو حالیہ الیکشن میں قومی اسمبلی کی دونوں سیٹوں سے الیکشن ہار گئے ہیں۔ صدر کا انتخاب کا الیکٹرول کالج،سینٹ قومی اسمبلی چاروں صوبائی اسمبلیاں ہیں۔

قومی اسمبلی کے ہر رکن، سینٹ کے ہر رکن اور بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کو ایک ایک ووٹ کا حق حاصل ہے، دیگر تین صوبائی اسمبلیوں کو سب سے چھوٹی بلوچستان اسمبلی کے ارکان کی تعداد کے برابر یعنی 65ووٹ ملتے ہیں۔ یوں ان اسمبلیوں کے ارکان کی تعداد کو 65پر تقسیم کرنے سے جو نمبر نکلتا ہے اسے تین اسمبلیوں کے اتنے اتنے ارکان مل کر ایک ووٹ رکھتے ہیں۔ گویا پنجاب اسمبلی کے 5.70سندھ کے 2.58اور خیبرپختونخواہ کے 1.90ارکان کو ایک ووٹ کا حق حاصل ہے۔ اس طرح قومی اسمبلی کے 342سینٹ کے 104اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے 4×65ارکان کا مجموعہ 706نکلتا ہے جو الیکٹورل کالج کا مجموعی نمبر ہے۔ قومی اسمبلی میں اس وقت 342میں سے 330ارکان موجود ہیں۔ 12سیٹیں خالی ہیں۔ 330میں 176ارکان تحریک انصاف اتحاد کے ہیں۔150ارکان حزب مخالف اتحاد کے ہیں اور 4آزاد ارکان ہیں۔ سینٹ میں 68ارکان حزب مخالف اتحاد میں سے ہیں 25کا تعلق تحریک انصاف اتحاد سے11آزاد ارکان ہیں۔

یوں وفاقی پارلیمان میں سے تحریک انصاف کو 201اپوزیشن کو 216ووٹ حاصل ہیں۔ چار سینیٹروں کی تحریک انصاف میں شمولیت کے بعد ان کے ووٹ 205ہو جاتے ہیں- پنجاب اسمبلی میں371 ٪65کریں تو تحریک انصاف اتحاد189 ٪ 5.70کریں تو ووٹ 33ہوتے ہیں۔ حزب اختلاف کو 171 ٪ 5.70کریں تو ووٹ 30ہوتے ہیں آزاد ارکان کا ایک ووٹ ہے۔ سندھ اسمبلی میں تحریک انصاف اتحاد 168 ٪65ہے۔ تحریک انصاف اتحاد 65 ٪2.58کریں ووٹ 26ہوتے ہیں۔ دیگر جماعتوں98٪2.58 کریں 336ووٹ ہوتے ہیں۔ ایک ووٹ تحریک لبیک کا ہے۔ خیبرپختونخواہ اسمبلی 124 ٪65 ہے تحریک انصاف اتہاد 65٪1.90ووٹ 45ہوتے ہیں۔ حزب اختلاف 33 ٪1.90 کریں ووٹ 16ہوتے ہیں آزاد ارکان کے دو ووٹ ہیں۔بلوچستان اسمبلی 65تمام ووٹ ہیں۔ تحریک انصاف اتحاد41اور حزب مخالف کے پاس 16ووٹ ہیں۔ آزاد 4ارکان ہیں۔ ان سب کا مکمل ٹوٹل کیا جائے۔

تحریک انصاف
204+33+26+45+41 = 350

ووٹ ہوتے ہیں

مخالف جماعتوں کے
218 + 30 + 36 + 16 = 320

بن جاتے ہیں۔ آزاد ارکین کے 19ووٹ موجود ہیں۔

اس طرح تحریک انصاف کے عارف علوی 350سے زائد ووٹ لے کر کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ باقی 320ووٹ پیپلزپارٹی کے بیرسٹر اعتزاز احسن اور اپوزیشن کے مولانا فضل الرحمن کے درمیان تقسیم ہو جائیں گے۔اس طرح ڈاکٹر عارف علوی ملک کے 13ویں صدر منتخب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ اگر حزب مخالف کا ایک امیدوار ہوتا تو عارف علوی کو سخت مقابلہ درپیش ہوتا تاہم جیت کے امکانات ان کے ہوتے۔


شیئر کریں