افغانستان: بم دھماکے میں سکھ برادری نشانے پر، 19 ہلاک

شیئر کریں

مشرقی افغانستان کے شہر جلال آباد میں ایک خودکش حملے میں 19 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے زیادہ تعداد سکھوں کی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اتوار کو اس وقت پیش آیا جب یہ لوگ صدر اشرف غنی سے ملاقات کے لیے جا رہے تھے۔ ہلاک شدگان میں وہ سکھ شخص بھی شامل تھا جو کہ ملک میں آئندہ اکتوبر میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں واحد سکھ امیدوار بننے والا تھا۔ یاد رہے کہ افغانستان میں سکھ برادری ایک اقلیت ہے۔ دہشتگرد تنظیم دولتِ اسلامیہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

افغانستان میں انڈین سفارتخانے نے اس حملے کی مذمت کی ہے۔ سفارتخانے نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ آئندہ انتخابات میں کھڑے ہونے والے واحد سکھ امیدوار اتوار سنگھ خالصہ کی ہلاکت ہو چکی ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ حملے بین الاقوامی دہشتگردی کے خلاف متحدہ عالمی جنگ کی ضرورت کی تائید کرتا ہے۔‘

ننگرہار کے شعبہِ صحت کے ڈائریکٹر نجیب اللہ کماوال نے اے ایف پی کو بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں 17 سکھ اور ہندو افراد تھے اور اس کے علاوہ 20 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ صوبے کے گورنر کے ترجمان کا کہنا تھا کہ حملہ آور نے گاڑی کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ مکھابرات سکوئر سےگزر رہی تھی اور دھماکے کی وجہ سے آس پاس کی دکانوں اور عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔


شیئر کریں