ماحولیاتی آلودگی ذیابیطس کی افزائش میں اہم ہے، ریسرچ

شیئر کریں

ایک نئی امریکی ریسرچ کے مطابق ماحولیاتی آلودگی بھی انسانوں میں شوگر یا ذیابیطس کے مرض کا سبب بنتی ہے۔ ریسرچ کے مطابق شوگر کے ہر سات مریضوں میں سے ایک کے اندر یہ مرض ماحولیاتی آلودگی سے پھیلنے کے شواہد ملے ہیں۔

امریکا میں ماحولیاتی آلودگی اور ذیابیطس کے حوالے سے جس طبی تحقیق کے نتائج عام کیے گئے ہیں، وہ 2016 میں شروع کی گئی تھی۔ اس ریسرچ میں شامل افراد کے خون کے نمونوں پر کیے جانے والے کلینیکل ٹیسٹس سے محققین کو معلوم ہوا کہ سات میں سے ایک مریض کو شوگر کا مرض ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے لاحق ہوا۔

امریکی ریاست میسوری کے شہر سینٹ لوئی میں قائم واشنگٹن یونیورسٹی کے سکول آف میڈیسن کے معالجین نے اپنی ریسرچ میں یہ ضرور واضح کیا ہے کہ ذیابیطس کا تعلق انسانی لائف اسٹائل سے پیدا ہونے والے امراض سے ہے۔ اس تناظر میں ماحولیاتی آلودگی بھی انسانی لائف اسٹائل کو متاثر کرتی ہے۔ ریسرچ میں محققین نے اس پہلو پر خاص طور پر فوکس کیا۔

محققین نے اندازہ لگایا ہے کہ ماحولیاتی آلودگی سے دنیا بھر میں قریب 32 لاکھ افراد میں شوگر کا مرض پیدا ہوا اور یہ مجموعی تعداد کا تقریباً 14 فیصد بنتا ہے۔ واشنگٹن یونیورسٹی میں کی جانے والی ریسرچ کے ایک سینیئر محقق زیاد العلی کا کہنا ہے کہ تحقیق میں خاص طور پر فضائی آلودگی سے انسانی جسم میں ذیابیطس کی افزائش واضح طور پر دیکھی گئی ہے۔

العلی نے اس مناسبت سے وضاحت دیتے ہوئے کہا کہ ریسرچ نے ثابت کیا ہے کہ فضائی آلودگی انسانی جسم میں انسولین کی پیداوار کو کم کرتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسی آلودگی انسانی خون میں پائی جانے والی شوگر کو توانائی میں تبدیل ہونے کے عمل میں بھی رکاوٹ کا باعث بنتی ہے۔ یہ طبی حقیقت ہے کہ خون سے حاصل ہونے والی اس انرجی کو انسانی صحت برقرار رکھنے کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جاتا ہے۔ امریکی شہر سینٹ لوئی کے سکول آف میڈیسن میں کی جانے والی ریسرچ کے نتائج پر مبنی رپورٹ طبی جریدے لینسیٹ پلینیٹری ہیلتھ میں شائع کی گئی ہے۔


شیئر کریں