مسجد کے چندے سے لینن کے مجسمے کی بحالی

شیئر کریں

وسطی ایشیائی ریاست تاجکستان میں مسلمان علما اپنے ہفتہ وار چندے کی رقم لینن کے مجسمے کی مرمت پر خرچ کر رہے ہیں۔ ریڈیو لبرٹی کی تاجک سروس کے مطابق شہر طوس کی مساجد کے امام اور خطیبوں نے جمع ہونے والی رقم سے روسی کمیونسٹ رہنما کے مجسمے کو شہر کے مرکز میں اسی ستون پر دوبارہ کھڑا کر دیا ہے جہاں پر دو سال پہلے اسے گرایا گیا تھا۔ اس مجسمے پر دوبارہ سنہری رنگ کیا گیا ہے اور اس کے ٹوٹے ہوئے ہاتھ کی جگہ نیا ہاتھ لگایا گیا ہے۔

شہرطوس کونسل کی مہرینیسو راجابووا کا کہنا یہ خیال تاجکستان کے اماموں کا اپنا ہے۔ انھوں نے آزادی ریڈیو کو بتایا ’انھوں نے مجسمے کی مرمت کی اور اس یادگار کے گرد پارک کی صفائی کی اور فواروں کی بھی مرمت کر رہے ہیں۔‘ایک امام مسجد نے آزادی ریڈیو سے بات کی۔ انھوں نے بتایا کہ ہر مسجد نے ہر ہفتے تقریباً 100 ڈالر چندہ لیا۔

شہرطوس میں لینن کا یہ مجسمہ سنہ 1980ء میں سویت دور میں نصب کیا گیا تھا اور جنوبی تاجکستان میں یہ سب سے بڑا مجسمہ تھا۔

آزادی کے 11 سال بعد ملک میں سویت یونین کے بانی کے بیشتر مجسموں کو گرا دیا گیا تھا، لیکن اس یادگار کو تاریخی طور پر اہم سمجھا گیا اور یہ نقصان سے محفوظ رہی۔ تاہم 2016 ء میں مقامی حکام نے سویت دور کے مجسموں کو تاجک کے قومی ہیروز سے تبدیل کرنے کا سلسلہ شروع کیا۔ انھوں نے لینن کے اس مجسمے کو اوبشورون گاؤں پہنچا دیا جہاں وہ ایک گودام میں خراب ہوتا رہا۔

امام مساجد نے یہ واضح نہیں کیا کہ انھوں نے لینن کے مجسمے کو دوبارہ شہرطوس میں نصب کرنے کے لیے رقم کیوں جمع کی لیکن شہر کا مرکزی ستون تقریبا دو سال تک خالی رہا تھا۔

اس واقعے کا سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا اور بہت سے تبصرے ایسے تھے کہ انھیں اس حقیقت کا یقین نہ آرہا ہو۔ آزادی کی ویب سائٹ پر ایک صارف کا تبصرہ تھا کہ ’انھوں نے ٹھیک کیا۔ اگر لینن نہ ہوتا تو تمام وسطیٰ ایشیائی افغانستان کی طرح ان پڑھ ہوتے۔‘

کچھ صارفین کا کہنا تھا کہ انھیں ملک کے ماضی کو تسلیم کرنا چاہیے۔ آزادی نیوز سائٹ پر ایک اور تبصرہ تھا کہ ’رہنما تھا یا نہیں، یہ ہماری تاریخ ہے اور ہمارے بچوں کو اس بارے میں علم ہونا چاہیے۔‘


شیئر کریں