مشترکہ صدارتی امیدوار کے لیے اپوزیشن جماعتوں کا مشترکہ اجلاس

شیئر کریں

 اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کا اہم اجلاس آج مری میں ہو رہا ہے، جس کے دوران صدارتی انتخاب کی حکمت عملی کا جائزہ لینے کےساتھ حزب اختلاف کی جانب سے مشترکہ صدارتی امیدوار لانے پر بات چیت بھی کی جائے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف کی صدارت میں ہونے والی کُل جماعتی کانفرنس میں پاکستان پیپلز پارٹی، متحدہ مجلس عمل، عوامی نیشنل پارٹی، پختونخواہ میپ، نیشنل پارٹی، قومی وطن پارٹی اور پاک سرزمین پارٹی کے مرکزی رہنما شریک ہوں گے۔ مسلم لیگ (ن) اجلاس میں صدارتی انتخابات کے لیے پیپلز پارٹی کے نامزد امیدوار اعتزاز احسن کی جگہ متفقہ امیدوار لانے پر زور دے گی۔

اجلاس میں صدارتی انتخابات کی حکمت عملی طے کرنے کے ساتھ یہ مشاورت بھی کی جائے گی کہ سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کی اکثریت کے باعث متفقہ چیئرمین سینیٹ اور اپوزیشن لیڈر لانے کے لیے کب کارروائی شروع کی جائے۔ اجلاس میں عام انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے خلاف پارلیمان اور اس سے باہر احتجاج کی حکمت عملی پر بھی غور کیا جائے گا۔

مسلم لیگ (ن) ‘نواز شریف کو انصاف دو’ نامی احتجاجی تحریک کے لیے الائنس میں شامل دیگر جماعتوں سے تعاون طلب کرے گی، خاص طور پر (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے ایک ساتھ چلنے کی حکمت عملی بھی زیر غور آئے گی ۔ مسلم لیگ (ن) اتحاد میں شامل جماعتوں کی قیادت کو راولپنڈی میں جلد ہی ہونے والے احتجاجی جلسے سمیت مستقبل کے احتجاجی جلسوں میں شرکت کی دعوت بھی دے گی۔

واضح رہے کہ صدارتی انتخاب کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 4 ستمبر کو طلب کیا گیا ہے۔ صدراتی انتخابات کے لیے پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے عارف علوی امیدوار ہیں جب کہ پیپلزپارٹی نے اعتزاز احسن کو امیدوار نامزد کیا ہے، تاہم مسلم لیگ (ن) نے ان کی نامزدگی کو مسترد کردیا تھا۔

21 اگست کو پارٹی صدر شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) نے صدارتی امیدوار کے لیے اعتزاز احسن کی نامزدگی مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے اعتزاز احسن کے نام پر اعتماد میں نہیں لیا۔

اجلاس میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ صدارتی امیدوار کی متفقہ نامزدگی پاکستان الائنس کے ذریعے کی جائے گی اور اگر پیپلز پارٹی نےاتفاق نہ کیا تو (ن) لیگ کے عبدالقادر بلوچ صدارتی امیدوار ہوں گے۔


شیئر کریں