مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق اور پرویز خٹک کو حلف نامہ جمع کروانے کا حکم

شیئر کریں

الیکشن کمیشن نے نازیبا زبان استعمال کرنے پر مولانا فضل الرحمان، ایاز صادق اور پرویز خٹک کو حلف نامہ جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

 چیف الیکشن کمشنر سردار رضا کی سربراہی میں چار رکنی کمیشن نے مولانا فضل الرحمان، پرویز خٹک اور ایاز صادق کی جانب سے نازیبا زبان کے استعمال کے معاملے پر سماعت کی۔ چیف الیکشن کمشنر نےپرویز خٹک کے وکیل سے سوال کیا کہ پرویز خٹک نے پشتو میں تقریر کی کیا آپ نے سنی ہے؟ وہ ہنسنے کی نہیں رونے کی بات ہے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ہدایت کی کہ پرویزخٹک بیان حلفی جمع کروائیں، الیکشن میں نتیجہ کچھ بھی ہواس مقدمے کے فیصلہ سےمشروط ہوگا۔

ایاز صادق کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو یقین دہانی کرائی کہ ضابطہ اخلاق پر عمل درآمد کیا جائے گا، اس پر چیف الیکشن کمشنر نے ایاز صادق کے وکیل کو بھی جواب کے ساتھ بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو اپنے الفاظ پر ندامت تو ہونی چاہیے، ممبر کے پی کے نے سوال کیا کہ بطورسپیکر انہوں نے ایسی زبان کیوں استعمال کی؟ ایاز صادق کے وکیل نے کہا کہ آئندہ ایسا نہیں ہو گا، اس پر چیف الیکشن کمشنر نے کہا کہ ہم آئندہ کیلئے یقین دہانی نہیں مانگ رہے، آئندہ بھی انہوں نے ایسا کیا تو ہم نوٹس لیں گے۔ الیکشن کمیشن نے ایاز صادق کو حلف نامہ جمع کرانے اور باقی ماندہ مہم کے دوران احتیاط کرنےکی ہدایت کی۔ الیکشن کمیشن نے مولانا فضل الرحمان کو بھی بیان حلفی جمع کرانے کی ہدایت دیتے ہوئے مزید سماعت 9 اگست تک ملتوی کردی۔

واضح رہےکہ الیکشن کمیشن نے نازیبا زبان کے استعمال پر چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کو بھی طلب کیا تھا لیکن ان کی جانب سے بھی وکیل پیش ہوئے، جنہوں نے الیکشن کمیشن میں تحریری یقین دہانی جمع کرانے کی حامی بھری۔


شیئر کریں