مہمند ڈیم ، سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

شیئر کریں

پانچ دہائیوں کے انتظار کے بعد بالآخر دریائے سوات پر مہمند ڈیم کا سنگ بنیاد آج دو مئی کورکھ دیا گیا۔ سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب میں وزیر اعظم عمران خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ اس موقع پرچیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ اور سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار بھی موجود تھے۔

اس ڈیم کے سنگ بنیاد رواں سال جنوری میں رکھا جانا تھا تاہم اس ڈیم کی تعمیر میں وزیر اعظم کے مشیر  کامرس زاق داود کی کمپنی ڈیسکون کا نام سامنے آنے پر سنگ بنیاد کی تقریب دو دفعہ ملتوی کی گئی۔

اس مفادات کے ٹکراؤ کے سبب حزب اختلاف نے ٹھیکے کے خلاف اعتراض کیا تھا لیکن مارچ میں واپڈا نے اعلان کیا کہ تعمیر کا ٹھیکہ دینے کے سلسلے کا از سر نو جائزہ لینے کے بعد ہر قسم کی رکاوٹ کو ختم کر دیا گیا ہے اور منصوبہ ڈیسکون اور چائنا گژوبا پر مشتمل جوائنٹ وینچر کو ہی دیا جائے گا۔

مہمند ڈیم کے تعمیراتی کام کے لیے اشتہارات گذشتہ سال جولائی میں دیے گئے تھے اور واپڈا کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ہر طرح سے تسلی کر لی گئی ہے کہ ٹھیکے میں کسی قسم کا کوئی غیر قانونی کام نہیں ہوا ہے۔

یاد رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے درخواست قومی احتساب بیورو میں جمع کروائی ہوئی ہے۔

مہمند ڈیم، اہم نکات

ڈیم ٹائپ: کنکریٹ

اونچائی:  700 فٹ

سٹوریج کیپسٹی:  1.293  ملین ایکڑ فٹ

   بجلی کی پیداوار:  800 میگا واٹ

تکمیل: 2024

لاگت: 219 ارب روپے

مہمند ڈیم کی تفصیلات کیا ہیں؟

واپڈا کی جانب سے دی گئی تفصیلات کے مطابق پشاور شہر سے 48 کلومیٹر کا فاصلے پر دریائے سوات پر کنکریٹ کی مدد سے تعمیر کیے جانے والے  اس ڈیم کی اونچائی 213 میٹر ہوگی اور منصوبے کے تحت اس سے آٹھ سو میگا واٹ بجلی حاصل کی جا سکے گی۔ ڈیم کی تعمیر سے بننے والی مصنوعی جھیل میں 13 لاکھ ملین ایکڑ فیٹ پانی سٹور ہو سکتا ہے اور امید کی جا رہی ہے کہ سات گیٹ پر مشتمل ڈیم کی تعمیر سے نہ صرف سالانہ 2800 گیگا واٹ سے زیادہ بجلی بنائی جائی گی بلکہ اس کی مدد سے چارسدہ اور نوشہرہ ضلع کو سیلاب سے متاثر ہونے سے بچایا جا سکے گا۔

مہمند  ڈیم کی تعمیر سے 16000 ایکڑ زمین قابل  کاشت ہو جائے گی اور ساتھ ہی پشاور شہر کے باسیوں کو 460 کیوسک پینے کا پانی مہیا ہو جائے گا۔ماہرین کو امید ہے کہ کنکریٹ سے بننے والے ڈیم کے لیے ملک میں سمینٹ کی صنعت کو فروغ ملے گا کیونکہ اس کی تعمیر کے لیے اگلے چھ سالوں میں 15 لاکھ ٹن سیمنٹ کی ضرورت پیش آئے گئ۔

ڈیم کی تعمیر میں اتنا وقفہ کیوں؟

تقریباً 20 سال قبل فیزیبلٹی رپورٹ آنے کے بعد بھی ڈیم پر تعمیر کا کام متعدد وجوہات کی بنا پرشروع نہ ہو سکا۔ 2003 میں اس وقت کی حکومت نے ایک امریکی کمپنی سے معاہدے کا اشارہ دیا جس کے تحت اُس وقت ایک ارب ڈالر کی لاگت والے ڈیم کی تعمیر کا کام شروع ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔ 2010 کے تباہ کن سیلاب کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سے جاری کی گئی رپورٹ میں حکومت پر زور دیا گیا کہ وہ ڈیم کی تعمیر جلد از جلد شروع کریں۔اسی مد میں حکومت نے 2012 میں ڈیم کی تعمیر سے پہلے انجینئیرنگ ڈیزائن کا عمل شروع کیا جس کے بعدفرانسیسی حکومت کی عالمی ترقیاتی ادارے اے ایف ڈی نے منصوبے میں دلچسپی دکھائی لیکن اس بار بھی منصوبے کی تکمیل ایک خواب ہی رہی۔

طویل انتظار کے بعد گذشتہ سال اپریل میں نیشنل اکنامک کونسل نے مہمند ڈیم کی تعمیر کے سلسلے کو شروع کرنے کی منظوری دی جس کے تحت حکومت نے منصوبے کے لیے دو ارب روپے سے زیادہ رقم مختص کی۔جولائی 2018 میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کی جانب سے پاکستان میں پانی کی کمی پر ڈیم فنڈ کا آغاز ہوا جس کے تحت دیا میر بھاشا اور مہمند ڈیمز کے لیے دنیا بھر سے رقم جمع کرنے کا سلسلہ شروع ہوا لیکن دس ماہ بعد اس فنڈ میں صرف دس ارب روپے ہی جمع ہو سکے ہیں۔

خیال رہے کہ دیامیر بھاشا ڈیم 4500 میگا واٹ بجلی پیدا کرنے والا منصوبہ ہے جس کی تعمیر پر آنے والی لاگت کا تخمینہ 15 ارب ڈالر کے قریب لگایا گیا ہے اور تعمیر ہونے کی صورت میں اس کا شمار دنیا کے سب سے بڑے ڈیموں میں ہوگا لیکن یہ منصوبہ فوری طور شروع نہیں کیا جا سکتا۔


شیئر کریں