نائجیریا کے حکام شیعہ مسلمانوں کے خلاف چلنے والی پرتشدد مہم کو روکیں، ہیومن رائٹس واچ

شیئر کریں

انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس واچ نے نائجیریا کے حکام سے کہا ہے کہ وہ شیعہ مسلمانوں کے خلاف چلنے والی پرتشدد مہم کو روکیں اور تحقیقات کریں کہ اس گروہ کے خلاف وسیع پیمانے پر طاقت کا استعمال کیوں کیا گیا۔

پیر کو دارالحکومت ابوجا میں پرتشدد مظاہروں میں شیعہ تنظیم اسلامک موومنٹ آف نائجیریا سے منسلک 11 مظاہرین ہلاک ہو گئے تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ مظاہروں میں ایک سینیئر پولیس افسر بھی ہلاک ہوئے جبکہ گولی لگنے سے ایک صحافی کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ کچھ زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دینے سے بھی انکار کیا گیا۔

ملک میں یہ مظاہرے شیعہ برادری کی جانب سے اپنے مذہبی رہنما اور اسلامک موومنٹ آف نائجیریا کے سربراہ شیخ ابراہیم الزکزکی کی رہائی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔

واضح رہے کہ شیخ ابراہیم کو سنہ 2015 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ چار برس قبل فوج نے جب انھیں گرفتار کیا تو کارروائی میں ان کے 300 حامی ہلاک ہو گئے تھے۔ ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ بظاہر نائجیریا کی پولیس نے پرامن شیعہ مسلمان مظاہرین پر 22 جولائی کو غیرقانونی طور پر گولیاں چلائیں۔

حکام اور واقعے کے عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ حالیہ واقعات میں 11 مظاہرین، ایک صحافی اور ایک پولیس افسر ہلاک ہوئے ہیں جبکہ درجنوں افراد زخمی یا گرفتار ہوئے ہیں۔

اسلامک موومنٹ سے منسلک افراد کا مطالبہ ہے کہ سنہ 2015 سے زیرِ حراست شیخ ابراہیم الزکزکی کو طبی امداد دی جائے۔

نائجیریا
Image captionہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ کچھ زخمیوں کو ہسپتال میں طبی امداد دینے سے بھی انکار کیا گیا

نائجیریا میں ہیومن رائٹس واچ سے منسلک انیتی واگ کہتی ہیں کہ بظاہر نائجیریا کی پولیس اسلامک موومنٹ کے خلاف آتشیں اسلحہ استعمال کر رہی ہے اور یہ غیر قانونی ہے۔

22 جولائی کو ہونے والے احتجاج کی شروعات مقامی وقت کے مطابق دوپہر ساڑھے بارہ بجے اس وقت ہوئی جب ہزاروں مظاہرین نے فیڈرل گورنمنٹ سیکریٹریٹ کی جانب مارچ شروع کیا۔ مظاہرین کو روکنے کے لیے نائجیریا کی پولیس نے فائرنگ شروع کر دی۔

انڈیپینڈنٹ میڈیا نیوز سے منسلک محمد ابراہیم گماوا کہتے ہیں کہ انھوں نے پولیس کو دو خواتین اور دو مردوں پر فائرنگ کرتے ہوئے دیکھا۔ ایک مقامی صحافی نے کہا کہ انھوں نے 11 لاشیں دیکھی ہیں۔ شیعہ اسلامک موومنٹ کے مطابق ان کے 11 کارکن ہلاک ہوئے ہیں۔

ابوجا میں موجود ایک یونیورسٹی طالب علم نے بتایا کہ انھوں (پولیس) نے ہماری جانب گولیاں چلانی شروع کر دیں۔ انھیں پرواہ نہیں تھی کہ گولیاں کہاں لگ رہی ہیں۔ ایک گولی میری بائیں ٹانگ پر لگی پھر میرا بھائی مجھے وہاں سے دور لے کر گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یونیورسٹی ہسپتال کے ایمرجنسی روم میں گئے لیکن انھیں وہاں سے جانا پڑا کیونکہ پولیس زخمی مظاہرین کو گرفتار کرنے کے لیے ہسپتال آ گئی۔

’ہم نے دو مرتبہ اپنی جگہ تبدیل کی کیونکہ ہم پولیس سے خوف زدہ تھے۔ گولی اب بھی میری ٹانگ میں ہے، میرا خیال ہے کہ میری ٹانگ ٹوٹ چکی ہے اور مجھے پورے جسم میں بہت درد محسوس ہو رہا ہے۔‘

ہیومن رائٹس واچ کا کہنا ہے کہ سنہ 2015 سے نائجیریا کے حکام اسلامک موومنٹ کے خلاف بہت زیادہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں۔

شیخ ابراہیم
Image captionاسلامک موومنٹ آف نائجیریا کے سربراہ شیخ ابراہیم الزکزکی سنہ 2015 سے ریاستی تحویل میں ہیں اور ان کی رہائی کے لیے گاہے بگاہے مظاہرے ہوتے رہتے ہیں

12 دسمبر 2015 کو نائجیریا کی آرمی نے ملک کے شمال مغرب میں کاڈونا ریاست میں ہونے والے شیعہ اسلامک موومنٹ کے مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال اس لیے کیا تاکہ مبینہ طور پر آرمی چیف کے کانوائے کے گزرنے کے لیے راستہ کلئیر کیا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد تین روز جاری رہنے والے کریک ڈاؤن میں آرمی نے شیعہ اسلامک موومنٹ کے 347 اراکین کو ہلاک جبکہ سینکڑوں مظاہرین کو گرفتار کیا گیا۔ گرفتار افراد میں موومنٹ کے لیڈر شیخ ابراہیم الزکزکی اور ان کی بیوی بھی شامل تھیں۔


شیئر کریں