آئندہ انتخابات کے لیے مبصرین کی ملک گیر تیاریاں عروج پر  

شیئر کریں

پاکستان میں عام انتخابات کے تناظر میں یورپی یونین ملک بھر میں مبصرین کا جال بچھا رہی ہے۔ پاکستانی تنظیم ‘فافن’ کی ٹیم بیس ہزار تربیت یافتہ افراد پرمشتمل ہے اور پاکستان انسانی حقوق کمیشن نے درجنوں حلقوں کا انتخاب کیا ہے۔

    
EU-Wahlbeobachter in Pakistan 2018 (European Union Election Observation Mission to Pakistan, 2018)

عالمی میڈیا کے نمائندوں نے بھی پاکستان کے مختلف شہروں میں انتخابی تیاری کے سلسلے میں اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔ اس حوالے سے الیکشن کمیشن کو ملنے والی درخواستوں کو تیزی سے نمٹایا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سفارت خانے بھی اپنے طور پر، محدود سطح پر، انتخابات کی نگرانی کی تیاریاں کر رہے ہیں۔چونکہ ماضی میں فوجی آمروں کے جعلی ریفرنڈم، دھاندلیاں، خفیہ اداروں کی جانب سے حکومتوں کی اکھاڑ پچھاڑ، اراکین اسمبلی کی خرید و فروخت جیسے مسائل منظر عام پر آتے رہے ہیں اور تقریبا” ہر انتخابات کے بعد ہارنے والوں نے دھاندلی کا الزام لگایا ہے لہذا عالمی اور ملکی مبصرین کی اہمیت بہت بڑھ گئی ہے۔

اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سوشل میڈیا میں گردش کرنے والی چند خبروں کی تردید کے لیے الیکشن کمیشن نے ایک بیان جاری کیا جس میں واضح کیا گیا تھا کہ غیر ملکی نگران ٹیموں کو مکمل تعاون فراہم کیا جائے گا۔ کمیشن کی پریس ریلیز کے مطابق، “انتخابی نگرانی کا عمل درحقیقت انتخابی قوانین کا حصہ ہے جس کی تفصیل اور طریقہ کار الیکشن ایکٹ 2017 کے سیکشن 238 میں درج ہے۔ الیکشن کمیشن مبصرین (ملکی و غیر ملکی ) کو انتخابی عمل کا اہم جزو سمجھتا ہے۔”

تاہم انتخابی نگرانی کے عمل میں کمیشن کی جانب سے جاری کردہ ضابطہ اخلاق پر عمل لازم ہو گا۔ دستاویز کے مطابق، تمام غیر ملکی مبصرین “پاکستان کی خود مختاری اور پاکستانی عوام کے حقوق اور آزادیوں کا احترام کریں گے، پاکستان کے آئین و قوانین کا مکمل احترام کریں گے، الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کی اتھارٹی کو کلیتا تسلیم کریں گے،انکی گاہے بگاہے جاری کی جانے والی ہدایات پر من و عن عمل کریں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کا مکمل احترام کریں گے۔”

خواتین کی شرکت

پاکستان میں انتخابات کی نگرانی کرنے والی سب سے بڑی تنظیم ‘فافن’ سے وابستہ سرور باری نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’پاکستان کے ہر ضلع میں ہمارا ایک رابطہ کار، متعلقہ جماعتوں اور ریاستی اداروں کے ساتھ رابطہ میں رہتے ہوئے، مشاہدہ کرے گا کہ تمام سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے کے یکساں مواقع فراہم کیے جارہے ہیں یا نہیں۔ اس کے علاوہ ہم قومی اور علاقائی میڈیا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں تاکہ ہمیں مانیٹرنگ میں آسانی ہو۔‘‘

پاکستان انسانی حقوق کمیشن کے ایک مرکزی رہنما اسد بٹ نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہم نے سندھ میں بیس انتخابی حلقوں کو نگرانی کے لیے چننا ہے،جہاں ہمیں سخت مقابلے کی توقع ہے۔ اسی طرح دیگر صوبوں میں درجنوں حلقے نگرانی کے لیے منتخب کیے گئے ہیں۔ ہمارے کارکن پولنگ اسٹیشنوں کا دورہ کریں گے، پولنگ ایجنٹوں اور عملے پرنظر رکھیں گے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کام کا بھی مشاہدہ کریں گے۔‘‘

سرور باری کے خیال میں بیشتر امیدواروں نے انتخابی عمل پر اطمینان کا اظہار کیا ہے، ’’نوے فیصد امیدواروں نے اس حوالے سے کوئی شکایات نہیں کیں۔ تاہم امیدواروں کو ہراساں کیے جانے کے کچھ واقعات ضرور ہوئے ہیں اور ایسے واقعات کی بڑی تعداد سندھ میں ہے۔‘‘ اسی طرح یورپی یونین کے چیف الیکشن آبزرور، مائیکل گاہلر کے مطابق، “ابھی تک یہی محسوس ہو رہا ہے کہ مبصر مشن کے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔”


شیئر کریں