وزرائے خارجہ ملاقات منسوخ

شیئر کریں

پاکستان نے بھارت کے ساتھ وزرائے خارجہ کی سطح پر ہونے والی مجوزہ ملاقات کو انڈیا کی جانب سے منسوخ کرنے کے فیصلے پر گہری مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کا بیان مہذب دنیا اور سفارتی روابط کے منافی ہے۔ خیال رہے کہ دونوں ممالک کے وزرائے خارجہ کی نیویارک میں مجوزہ ملاقات کے اعلان کے 24 گھنٹے بعد ہی انڈین وزارت خارجہ کی جانب ملاقات منسوخ کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔

بھارت کا کہنا ہے کہ ملاقات کے اعلان کے بعد رونما ہونے والے بعض واقعات سے پاکستان کے نئے وزیر اعظم عمران خان کا اصلی چہرہ سامنے آگیا اور اب نیو یارک میں دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان ملاقات نہیں ہوگی، کیونکہ اس ملاقات کا کوئی مطلب باقی نہیں رہ جاتا۔

جمعے کی رات پاکستانی دفتر خارجہ نے اس پر تحریری بیان جاری کیا اور کہا کہ انڈین سکیورٹی اہلکاروں کی مبینہ ہلاکت کا واقعہ ملاقات کے لیے بھارت کی آمادگی سے دو دن پہلے کا ہے اور پاکستان نے انڈین باڈر سکیورٹی حکام کو بتایا تھا کہ پاکستان کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔ پاکستان اس کی مشترکہ تحقیقات میں شامل ہونے کو تیار ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کشمیر کے حوالے سے ڈاک کے ٹکٹ 25 جولائی سے قبل جاری کیے گئے تھے اور عمران خان کی حکومت اس کے بعد آئی۔ یہ بھی کہا گیا کہ ان ٹکٹوں میں کشمیر میں ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کیا گیا ہے جس کے بارے میں رواں برس جون میں اقوام متحدہ نے ایک رپورٹ بھی جاری کی تھی۔

دوسری جانب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ (بھارت) خود کہتے ہیں کہ وہ دہشت گردی پر بات کرنا چاہتے ہیں،ہم بھی بات کرنا چاہتے ہیں لیکن اب وہ پیچھے ہٹ رہے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ہمارے پاس بھی شواہد موجود ہیں کہ بلوچستان میں کچھ عناصر بدامنی پھیلا رہے ہیں لیکن ان سب کے باوجود ہم عوام کے لیے آگے بڑھنا اور بات کرنا چاہتے تھے۔

وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے نجی ٹی وی چینلز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا موقف ہے کہ امن ہونا چاہیے لیکن بظاہر ایسا لگتا ہے کہ بھارت داخلی دباؤ کا شکار ہے اور اندرونی دباؤ کے نتیجے میں مذاکرات سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔


شیئر کریں