پانی کا بڑھتا ہوا بحران

شیئر کریں

حسنین جمیل
hassnainjamil@yahoo.com

پانی قدرت کا ایک شاہکار ہے جس کے بغیر انسانی زندگی کا تصور بھی محال ہے۔ دو بوند پانی پینے کو میسر نہ ہو تو انسانی جان بچانا مشکل ہو جاتا ہے اور اگر یہی پانی بے رحم موجوں کی صورت میں سونامی بن جائے تو ہزاروں جانوں کو نگل جاتا ہے۔ پاس سمندر ہو تو پیاس بجھانے کے لیے فلٹر واٹر پلانٹ ڈھونڈ نا پڑتا ہے۔ پانی قدرت کی ایک نعمت ہے۔ اس کی قدر بہت ضروری ہے۔ اگر آج ہم نے اپنے زیر زمین پانی کے ذخائر محفوظ نہ کیے تو آنے والے سالوں میں ہم پانی کی شدید قلت کا شکار ہو سکتے ہیں۔

70سالوں میں ہمارے ارباب اختیار نے پانی جیسے حساس مسئلے پر غوروفکر کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ آج وطن عزیز کے حالات اس قدر بگڑ چکے ہیں کہ ہم پینے کے صاف پانی کو ترسنے پر مجبور ہوتے جا رہے ہیں۔ اور یہ حالت مزید خراب ہو سکتے ہیں اگر بروقت توجہ نہ دی گئی ۔وطن عزیز میں اس وقت 21ملین لوگوں کو اپنے گھروں کے قریب صاف پانی تک رسائی حاصل نہیں ہے۔ 1947ءمیں 5300افراد کے لیے زیر زمین پانی 3CM دستیاب تھا۔ اب 2017میں یہ تعداد 1000اافراد تک رہ گئی ہے اور اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی 2047میں 500افراد تک رہ جائے گا۔ یہ تعداد میں پاکستان پانی فی کس افراد کی دستیابی ہے۔ پاکستان اب دس ممالک کی فہرست میں داخل ہو چکا ہے جن کو پینے کا محفوظ پانی دستیاب نہیں ہے۔ پینے کا پانی 90%زمین سے نکالا جاتا ہے ہر 10میں 4سکولوں میں پینے کا پانی دستیاب نہیں ہے۔

وطن عزیز میں 11.5%افراد رفع حاجت کھلی جگہ پر کرتے ہیں۔79ملین افراد کو صاف ستھرے بیت الخلا دستیاب نہیں ہیں۔ صرف فاسد پانی کو استعمال کے قابل بنایا جاتا ہے۔ باقی سارا پانی صاف کیے بغیر دریاﺅں اور نکاسی آب کے نظام میں جانے دیا جاتا ہے ہر 3سکولوں میں 1سکول میں واش روم کی سہولت دستیاب نہیں ہے۔ اس میں سرکاری اور نجی دونوں سکول شامل ہیں۔وطن عزیز کی 46%آبادی کو گھروں میں صابن اور پانی سے ہاتھ دھونے کی سہولتیں میسر نہیں ہے۔ 56%دیہاتی آبادی شامل ہے۔ شہروں میں 57%گھر کوڑا جمع کرنے کا نظام رکھتے ہیں صرف 6%دیہاتی گھروں میں کوڑا جمع کرنے کا نظام ہے۔

بچوں میں حفظان صحت سے متعلق حقائق خاصے تشویش ناک ہیں۔ ہر سال 5سال سے کم عمر 19500بچے دست سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پانی کے ذرائع کو بہتر بنا کر دست کے امکانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اور ضروری اوقات میں ہاتھ دھونے سے دست لگنے کے امکانات کو 35%تک کم کیا جا سکتا ہے۔ صابن سے ہاتھ ودھو نے کی وجہ سے صحت میں بہتری اور سکولوں میں بیماری کی وجہ سے غیر حاضری میں 43%تک کمی لائی جا سکتی ہے۔ناقص غذائیت کے 50%کیسوں کی بڑی وجہ بار بار دست لگنا اور پیٹ کے کیڑوں کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں ہیں جو پانی اور صفائی کی ناکافی سہولیات کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ پانچ سال سے کم عمر 45%بچوں کی نشوونما رکی ہوئی ہے۔

قومی سطح پر 23%افراد کی پینے کے صاف پانی تک رسائی ہے۔ حفظان صحت کے اصولوں پر عمل درآمد نہ ہونے کے برابر ہے۔ فضلہ محفوظ طریقے سے اسی جگہ سٹور کیا جائے۔ کسی دوسری جگہ لے کر دفن کر دیا جائے۔ ہر گھر کی سہولیت اپنی ہو مشترکہ سہولیات مشکلات کا باعث بن جاتی ہے۔ فلش کا استعمال مناسب جگہ پر کیا جائے۔ کھلے مقامات پر فضلہ رکھنا اس کا مناسب انتظام نہ کرنا انسانی صحت کو خراب کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ہر رہائشی جگہ پر ہاتھ دھونے کے لیے صابن اور پانی دستیاب ہو ۔رہائش ہاتھ دھونے کی عدم دستیابی بہت سی بیماریوں کا باعث بن جاتی ہے۔

آنے والی نئی حکومت ان تمام مسائل سے بخوبی آگاہ ہے۔ وزیراعظم عمران خان اپنی پہلی تقریر میں ان مسائل کا ذکر کر چکے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے وہ اپنے پانچ سالوں میں ان مسائل سے کس حد تک نمٹنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ماضی میں اگر ان مسائل پر توجہ دی جاتی تو ہم آج ایک بہتر مقام پر ہوتے۔ سابق صوبائی وزیر قانون نے اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہا تھا کہ ہم نے صاف پینے کے پانی کے منصوبے کے پیسے اورنج لائن ٹرین پر لگائے تھے اور آج سابقہ پنجاب حکومت کی قائم کی گئی جن 56کمپنیوں کا کیس نیب میں چل رہا ہے ان میں سے ایک صاف پانی منصوبہ بھی شامل ہے۔

پانی اس وقت ملک کا ایک حساس ترین موضوع بن چکا ہے۔ تمام صوبائی حکومتوں اور وفاقی حکومت کو انتہائی سنجیدگی سے پانی کے مسئلے پر فوکس کرنےکی ضرورت ہے۔ ورنہ اگلے 10سال ہمیں شدید تری پاپنی کے بحران میں مبتلا کر سکتے ہیں۔ آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔


شیئر کریں