پنجاب اسمبلی میں چوہدری پرویز الٰہی کی دبنگ انٹری

شیئر کریں

حسنین جمیل
hassnainjamil@yahoo.com

چوہدری پرویز الٰہی کی پنجاب اسمبلی میں دبنگ واپسی ہو گئی۔ وہ 201ووٹ لے کر پنجاب اسمبلی کے نئے سپیکر منتخب ہو گئے۔ ان کے مدمقابل مسلم لیگ (نون) کے چوہدری اقبال گجر نے 147 ووٹ حاصل کیے۔ پچھلے چند روز سے مسلم لیگ(نون) کے اندر جس فارورڈ بلاک کے بارے میں قیاس آرائیاں کی جا رہی تھیں، وہ کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ نون لیگ کے پنجاب اسمبلی اراکین کی تعداد 162 ہے جبکہ ان کے امیدوار کو 147ووٹ پڑے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی تحریک انصاف اور مسلم لیگ قاف کے مشترکہ امیدوار تھے۔

جب پنجاب اسمبلی کا اجلاس شروع ہوا تو سپیکر رانا اقبال نے سپیکر کے الیکشن کی کارروائی کا آغاز کیا۔ مسلم لیگ نون کی طرف سے خواجہ سعد رفیق اور رانا مشہود نے سپیکر کے الیکشن میں شفافیت پر سوال اٹھایا۔ جس پر تحریک انصاف کی طرف سے مراد راس،یاسمین راشد اور چوہدری ظہر الدین نے بھرپور مخالفت کی۔ درحقیقت مسلم لیگ نون کو پہلے سے اپنی شکست کا اندازہ ہو چکا تھا کیونکہ اس وقت ایوان میں تحریک انصاف 176اراکین کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے۔ مسلم لیگ (قاف) کے10ارکان ہیں۔ آزاد رکن صوبائی اسمبلی نامور صحافی جگنو محسن نے اعلان کیا تھا وہ اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھیں گی۔ تاہم وہ اپنا ووٹ تحریک انصاف کو دیں گی۔

نون لیگ کو اس بات کا اندازہ بھی تھا کہ چوہدری پرویز الٰہی جو پنجاب اسمبلی کے سپیکر اور صوبے کے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں ان جیسی بھاری بھر کم شخصیت اکثر دوبارہ سپیکر کے الیکشن میں اتری ہے تو وہ نون لیگ کے ووٹ بھی توڑنے میں کامیاب ہوں گے۔ لہٰذا انہوں نے حسب روایت الیکشن کے انعقاد میں تاخیری حربے استعمال کرنے شروع کر دیئے۔ اسمبلی کی روایت کے مطابق سپیکر کی پشت کے دایاں اور بایاں پولنگ بوتھ بنائے جاتے ہیں جن کے اردگرد پردے لگے ہوتے ہیں۔ اراکین وہاں جا کر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں۔ نون لیگ نے پردے ہٹانے کا کہا جس پر خاصی ہنگامہ آرائی ہوئی۔ طے یہ پایا جو بھی رکن اندر ووٹ کاسٹ کرنے جائے گا وہ اپنا موبائل پریذیڈنگ آفیسر کے پاس چھوڑ جائے گا۔

 پولنگ کے عمل کے دوران نون لیگ کے اراکین اسمبلی بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر ایوان میں آئے تھے۔ پولنگ کے عمل کے دوران ایک بار پھر شورشرابہ اور ہنگامہ آرائی ہوئی جب تحریک انصاف کی خانون رکن صبا قمر صاحب داد خان نے ووٹ بیلٹ بکس میں ڈالنے سے پہلے کھول لیا۔ جس پر ان کا ووٹ کینسل کر دیا گیا۔ پیپلزپارٹی نے الیکشن کے عمل میں حصہ نہیں لیا، ان کے سات ارکان ایوان میں آئے حاضری لگانے کے بعد چھ چلے گئے، ایک ایوان میں موجود رہے، انہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ دیا۔ جس پر پیپلزپارٹی نے ان کے خلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ چوہدری پرویز الٰہی کی کامیابی کا اعلان کیا گیا تو ایوان میں شورشرابہ انتہا کو پہنچ گیا۔ ایک طرف ان کے اردگرد مبارک باد دینے والوں کا ہجوم تھا۔ دوسری طرف چوہدری پرویز الٰہی کے خلاف نون لیگ نے شدید نعرے بازی شروع کر دی۔

بدقسمتی سے بحیثیت قوم ہمارے اندر شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں ہے۔ تحمل مزاجی اور بردباری کی روایت ہمارے اندر ختم ہو چکی ہے۔ پورے پاکستان میں سوائے غلام احمد بلور کے کسی نے کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم نہیں کی۔ پنجاب اسمبلی کی روایت ہے جب قاف لیگ طاقت میں ہو تو نون لیگ کے بندے وہاں چلے جاتے ہیں ۔ جب نون لیگ طاقت میں آئے تو قاف لیگ کے بندے نون لیگ میں چلے جاتے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی نے وہی کچھ کیا ہے۔ جو 2008ءکے الیکشن میں شہبازشریف نے ان کے ساتھ کیا تھا۔ کوئی نئی بات نہیں ہوئی۔ سب کو پتا ہے چھانگا مانگا کی سیاست کس نے شروع کی۔

نون لیگ کو بلامقصد احتجاج کرنے کی بجائے کھلے دل سے اپنی شکست تسلیم کرنی چاہیے۔ اور نئی حکومت پر ایوان کے اندر مثبت تنقید کرنی چاہیے۔ چوہدری نثار علی خان ابھی تک پنجاب اسمبلی میں حلف اٹھناے نہیں آئے۔ ان کے مستقبل کے سیاسی کردار کے حوالے سے چہ میگوئیاں جاری ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے نون لیگ کے اراکین حمزہ شبہاز سے بھی ناخوش ہیں۔ نون لیگ کے جن 15اراکان نے چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ دیا وہ خاموش فارورڈ بلاک بن گیا ہے۔

ڈپٹی سپیکر کے الیکشن میں تحریک انصاف کے دوست مزاری نے 187ووٹ لیے جبکہ ان کے مدقابل نون لیگ کے وارث کلو نے 159ووٹ حاصل کیے۔ مستقبل میں پنجاب کی سیاست میں چوہدری پرویز الٰہی کا کردار بہت اہم ہو گی اہے۔ کیونکہ نون لیگ کے فارورڈ بلاک نے چوہدری پرویز الٰہی کو ووٹ دیا ہے۔ دوست مزاری کو نہیں لہٰذا آنے والے منظرنامے میں تحریک انصاف پنجاب میںنون لیگ کو مزید کمزور کرنے کے لیے چوہدری پرویز الٰہی کی ضرورت ہر قدم پر پڑے گی۔


شیئر کریں