پی آئی اے کے چیف ایگزیکٹو کی تقرری کالعدم

شیئر کریں

عدالت عظمیٰ نے قومی ائیرلائن (پی آئی اے) کے چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) مشرف رسول کی تقرری کو کالعدم قرار دے دیا۔ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی آئی اے نجکاری خصوصی آڈٹ کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکیس دیئے کہ مشروف رسول کی تعیناتی کے خلاف پی آئی اے افسرز ایسوسی ایشن نے عدالت سے رجوع کیا تھا اور موقف اختیار کیا تھا کہ جس کمیٹی نے مشرف رسول کا نام تعیناتی کے لیے بھجوایا تھا وہ غیر قانونی تھی۔

واضح رہے کہ 26 اگست کو آڈیٹر جنرل آف پاکستان نے قومی ایئر لائن کے چیف ایگزیکٹو افسر مشرف رسول سیاں کو فوری طور پر برطرف کرنے کی تجویز پیش کی تھی۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ کے مطابق حکام نے زور دیا کہ سی ای او کو ملنے والی تمام تنخواہیں اورمراعات بھی واپس لی جائیں اور وزیراعظم کے سابق مشیر سردار مہتاب عباسی کے خلاف تحقیقات شروع کی جائے کہ ’کیا وہ مشرف رسول سیاں کی تعیناتی میں ملوث تھے۔ دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ مشرف رسول کو تقرری سے قبل سول ایوی ایشن کا تجربہ بھی نہیں تھا، جب بنیاد ہی غلط ہو تو پوری عمارت گر جاتی ہے۔ عدالت نے چیف ایگزیکٹو کی تعیناتی کا طریقہ قانون اور رولز کے خلاف قرار دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ مشرف رسول کی تقرری میں گائیڈ لائین کی خلاف ورزی ہوئی، کیا مشرف رسول کا بورڈ نے انٹرویو لیا؟ انہوں نے کہا کہ سردار مہتاب عباسی کا بطور سیاستدان احترام کرتے ہیں، پی آئی اے کے سی ای او مشرف رسول سردار مہتاب کے پی ایس او رہ چکے ہیں۔

عدالت نے کہا کہ پی آئی اے خسارے میں چل رہا ہے، ایسے اداروں کو چلانے کے لیے اچھے لوگوں کی ضرورت ہے، اتنے بڑے ادارے کو چلانے کے لیے گورنر کے عہدے سے ہٹا کر مہتاب عباسی کو سول ایوی ایشن میں تعینات کیا گیا، حالانکہ ان کا ہوا بازی کے حوالے سے کوئی تجریہ نہیں ہے۔

اس دوران پی آئی اے کے وکیل نعیم بخاری نے عدالت کو بتایا کہ آڈٹ حکام کو 95 فیصد ریکارڈ فراہم کردیا۔ اس ضمن میں عدالت کو بتایا گیا کہ پی آئی اے کے کچھ افسران ریکارڈ نہیں دینا چاہتے۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے کہ کوئی افسر ریکارڈ دینے سے انکار کیسے کر سکتا ہے۔

عدالت نے مشرف رسول کی بطور سی ای او تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کیا جائے گا۔


شیئر کریں