چینی حکومت، مسلمانوں کی گرفتاری کی تردید کر دی

شیئر کریں

چین نے سنکیانگ صوبے میں اویغر مسلمان کیمونٹی کو حراست میں لینے کی خبروں کو مکمل طور پر بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اویغر کمیونٹی کو مساوی شہری حقوق حاصل ہیں۔ حکام نے تسلیم کیا ہے کہ اویغر مسلمانوں کو تمام حقوق حاصل ہیں لیکن مذہبی انتہاپسندی کے شکار افراد کی آبادکاری اور ان کی دوبارہ تعلیم و تربیت کے ذریعے مدد کی جائے گی۔

گذشتہ برس چین کے سنکیانگ صوبے سے متعلق رپورٹس کے مطابق وہاں اقلیت مسلم کمیونٹی سے کہا گیا تھا کہ وہ قرآن اور نماز میں استعمال ہونے والی دیگر اشیا کو جمع کرائیں۔ تاہم اس وقت بھی چینی حکومت نے کہا تھا کہ یہ محض افواہیں ہیں اور سنکیانگ میں سب کچھ ٹھیک ہے۔ اس سے قبل، اپریل کے آغاز میں، سنکیانگ میں حکومت نے اسلامی شدت پسندوں کے خلاف مہم کے تحت اویغر مسلمانوں پر نئی پابندیاں عائد کی تھیں۔

چین کے صوبے سنکیانگ میں اویغر کمیونٹی آباد ہے جس کا شمارملک کی مسلمان اقلیتوں میں ہوتا ہے۔ صوبے میں اُن کی آبادی 45 فیصد ہے۔ سرکاری طور پر سنکیانگ کا شمار تبت کی طرح خودمختار علاقے کے طور پر ہوتا ہے۔ گذشتہ چند مہینوں سے یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ سنکیانگ میں مسلمان اویغر کیمونٹی کو حراست میں رکھا جا رہا ہے۔


شیئر کریں