کراچی میں انتہا پسندوں کا گٹھ جوڑ، گرفتار دہشت گردوں نے سچ اُگل دیا

شیئر کریں

پولیس کے محکمہ انسدادِ دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ایک سینئر پولیس افسر نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں انتہا پسند گروہ انصار الشریعہ پاکستان، تحریک طالبان پاکستان اور لشکرِ جھنگوی کا ایک گٹھ جوڑ وجود میں آیا ہے جو یہاں سیاسی جماعتوں کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بناسکتے ہیں، جس کا مقصد ملک میں افرا تفری پھیلانا اور آئندہ انتخابات کو سبوتاژ کرنا ہے۔

سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس (سی ٹی ڈی) جنید احمد شیخ کے حوالے سے اخبار ڈان کی ویب رہورٹ میں بتایا گیا یے کہ مذکورہ جماعتیں کراچی میں جاری آپریشن کے بعد اپنی طاقت کو دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں اور اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے ان کالعدم تنظیموں نے ایک اتحاد ترتیب دیا ہے۔

یہ تمام انکشافات 17 جولائی کو گرفتار ہونے والے 4 دہشت گردوں کی جانب سے ابتدائی تفتیش کے بعد سامنے آئے ہیں، ان گرفتار دہشت گردوں میں سے ایک سرکاری جامعہ کا طالبِ علم تھا۔

پولیس افسر کا کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد سے ان تنظیموں کے خلاف کارروائی تیز کردی تھی جبکہ اے ایس پی سے تعلق رکھنے والے متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا تھا۔

قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گھیرا تنگ ہوتے ہی اس گروپ کے 2 ارکان عبدالکریم سروش اور مذمل مبینہ طور پر افغانستان فرار ہوگئے، جو اس وقت وہیں مقیم ہیں اور ٹی ٹی پی کی مدد سے کراچی میں دوبارہ اپنی تنظیم کو فعال بنانا چاہتے ہیں۔

ابتدائی تفتیش کی تفصیلات پیش کرتے ہوئے ایس ایس پی سی ٹی ڈی جنید احمد شیخ کا کہنا تھا کہ ایک گرفتار ملزم محمد جاوید خیبرپختونخوا کے علاقے دیر سے تعلق رکھتا ہے، اور اس کا خاندان کراچی میں مقیم ہے، اس نے کراچی کے مدرسے میں دینی تعلیم حاصل کی اور بعد میں اس نے 8 سال کا عالم کا کورس بھی کیا۔ بعد ازاں محمد جاوید گلشنِ اقبال کے علاقے سکاؤٹس کالونی میں ایک مسجد کا خادم بن گیا اور اس نے بعد میں اپنے پڑوسی عبدالکریم سروش سے دوستی کرلی، تاہم اسی دوران عبدالکریم سروش کالعدم جیشِ محمد سے منسلک ہوگیا۔

محمد جاوید نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ خواجہ اظہار الحسن پر ہونے والے حملے کا ماسٹر مائنڈ عبدالکریم سروش ہی ہے جبکہ اس نے حملے کی منصوبہ بندی کی تھی۔ اس نے بتایا کہ اس نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ انصار الشریعہ پاکستان کی بنیاد رکھی تھی، اس نے کبھی افغانستان کا دورہ نہیں کیا لیکن وہاں لوگوں کو جہاد کے لیے بھیجا تھا۔

دوسرے گرفتاردہشت گرد محمد ابراہیم کے حوالے سے سی ٹی ڈی حکام نے بتایا کہ وہ کوئٹہ میں پیدا ہوا جہاں اس نے چھٹی جماعت تک تعلیم حاصل کی اور پھر قرآن پاک حفظ کیا، اس کے والد بھی ایک عالم تھے۔ وہ مدرسے میں زمانہ طالبِ علمی کے دوران اہم مذہبی جماعت سے وابستہ ہوگیا اور بہت جلد ’افغان طالبان‘ سے آشنا ہوگیا کیونکہ اس وقت کوئٹہ میں طالبان بڑی تعداد میں مقیم تھے۔

محمد ابراہیم نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ کوئٹہ کے عوام کے لیے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کے لیے طالبان سے تعلقات استوار کریں۔ زمانہ طالبِ علمی میں محمد ابراہیم نے افغانستان کا دورہ کیا جہاں اس نے ٹریننگ حاصل کی اور پھر پاکستان میں بھی کئی افراد کو ٹریننگ دی اور انہیں افغانستان بھیجا۔ محمد ابراہیم نے تفتیش کاروں کے سامنے اعتراف کیا کہ اس نے کوئٹہ میں زخمی طالبان کو پناہ دی تھی جس کے بعد وہ کراچی منتقل ہوا اور ایک مدرسے میں رہنے لگا۔

سی ٹی ڈی نے ایک اور گرفتار ملزم ابوبکر کے بارے میں بتایا کہ اس کا تعلق خیبرپختونخوا کے علاقے سوات سے ہے، جو کراچی منتقل اور منگھوپیر کے علاقے میں رہائش پذیر ہوا، جہاں اس نے اپنی ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ ابو بکر نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ ان کا ایک دوست اسے افغانستان لے گیا تھا جہاں اس نے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں سے ملاقات کی تھی۔

ایس ایس پی سی ٹی ڈی جنید احمد شیخ نے بتایا کہ چوتھے گرفتار دہشت گرد محمد فہد کا تعلق کالعدم لشکرِ جھنگوی سے ہے، جس نے جامعہ کراچی سے گریجویشن کیا اور کراچی میں ایک بیوریج کمپنی میں بطور سیلز آفسر کام کرتا تھا۔ پولیس افسر کے مطابق محمد فہد نے اپنے پڑوس میں رہنے والے القاعدہ برِ صغیر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص سے دوستی کی اور وہ اسے اکثر کراچی کے علاقے ماڈل کالونی لے جایا کرتا تھا جہاں وہ جہادی فلمز دیکھا کرتے تھے۔

پولیس کے مطابق ملزم نے جنوبی وزیرستان میں تربیت حاصل کی اور بعد میں افغانستان گیا جہاں وہ ایک ماہ تک رہتا رہا، جس کے بعد وہ واپس پاکستان آگیا اور یہاں اس نے کالعدم تنظیم کے لیے فنڈز جمع کرنے اور لوگوں کو بھرتی کرنے کا کام شروع کردیا۔


شیئر کریں