گرین پنجاب منصوبہ کھٹائی میں

شیئر کریں

عمران باجوہ

پنجاب میں شجر کاری کو شدید رکاوٹیں درپیش ہیں، جس کی بڑی وجہ پاکستان تحریک انصاف حکومت کی سیاسی سوچ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی نے عملی ہے،حالانکہ پی ٹی آئی پچھلے چار سال سے خیبر پختونخوا میں ‘گرین پاکستان’ کا ڈھنڈوراپیٹتی رہی ہے۔

خیر پختونخوا کی سابقہ حکومت نے غیرمعمولی رفتار اور ساڑھے بارہ ارب روپے کے معمولی بجٹ کے ساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے ایک ارب کے قریب درخت لگائے۔ بلین ٹری منصوبے کو عالمی پذیرائی بھی حاصل ہوئی۔ اس منصوبے میں جنگلات کے رقبے پر موجود 60 کروڑ درختوں کو بچانے کے علاوہ 40 کروڑ نئے پودے بھی لگائے گئے۔

یہ اس لئے ممکن ہوا کیونکہ یہ منصوبہ اس صوبے کی کسی سابقہ حکومت کی سیاسی باقیات کے اثر سے پاک، ایک نئی شروعات تھی۔ مگر جب معاملہ پنجاب کا ہو تو موجودہ حکومت کے پہلے 100 روز کے دورانیے میں اس درجے کا کوئی منصوبہ شروع نہیں کیا جا سکا، بلکہ 2017 میں شروع ہونے والا پنجاب کی مسلم لیگ (ن) حکومت کا شروع کیا ہوا شجر کاری کا ایک بڑا منصوبہ، جس کے تحت پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ساتھ 13 کروڑ درخت لگائے جانے تھے، تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد سے نامعلوم وجوہ کی بنا پر روک دیا گیا ہے۔

پنجاب میں شجر کاری کے مقاصد کے ساتھ سابقہ مسلم لیگ (ن) حکومت نے کمپنیز ایکٹ 2017 کے تحت ساوتھ پنجاب فارسٹ کمپنی (ایس پی ایف سی) تشکیل دی۔ حکومت پنجاب کی منظوری کے بعد محکمہ جنگلات کی جانب سے ایس پی ایف کو 99027 ایکڑ رقبہ الاٹ کیا گیا۔ پہلے مرحلے میں بولی کے شفاف اور کھلے عمل کے نتیجے میں کامیاب بولی دہندگان کو61749 ایکڑ رقبے کے 124 بلاک الاٹ کئے گئے۔

منصوبہ یہ تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت جنوبی پنجاب کی بنجر زمینوں پر 13 کروڑ درخت اُگائے جائیں، جس میں 100فیصد سرمایہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں نے کرنا تھی، جبکہ 15 سال کے پٹے پر رقبہ حکومت کی جانب سے الاٹ کیا جانا تھا۔ بولی کے اصولوں کے تحت سرمایہ کاروں سے یہ رضامندی بھی حاصل کی گئی کہ وہ تیار درختوں کا اوسطاً 36 فیصد حصہ ایس پی ایف سی /حکومت پنجاب کو دیں گے۔ اس سے حکومت کو بغیر کچھ خرچ کئے قریباً 20 ارب روپے کی آمدن ہوتی۔ حکومت پنجاب اور ساوتھ پنجاب فارسٹ کمپنی کے لئے یہ ہر لحاظ سے نفعے کا سودا تھا۔

مگر یہاں قابل غور ستم ظریفی یہ ہے کہ موجودہ حکومت جو ہمہ وقت فارن انویسٹمنٹ کی اہمیت کا راگ الاپتی پائی جاتی ہے،غیر معمولی تاخیری حربوں اور پالیسی پر نظر کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو مایوس کر رہی ہے۔

ایس پی ایف سی اپنے مالی لین دین میں قطعی طور پر شفاف پائی گئی ہے اور آڈیٹر جنرل پاکستان کی جانب سے اس کمپنی کے خلاف آج تک ایک بھی الزام نہیں لگایا گیا، جس کا مطلب ہے کہ یہ کمپنی ہر طرح کے شکوک سے پاک ہے، اور اس کمپنی کے بیرونی آڈٹ بھی اس کی تصدیق کرتے ہیں۔

اس منصوبے پر ایک الزام یہ ہے کہ رقبہ دوستوں اور مسلم لیگ (ن) کے فرنٹ مینوں کو بانٹ دیا گیا۔ مگر یہ نکتہ قابل غور اس لئے نہیں کہ سرمایہ کاروں نے 189 بلاکس میں سے صرف 124 کے لئے بولی دی۔ تمام بولیاں بولی دہندگان کی موجودگی میں کھولی گئیں اور بولی ہارنے اور جیتنے والے، سبھی اس عمل کی شفافیت سے مطمئن تھے۔ اگر یہ مان لیا جائے کہ زمینوں کی بندر بانٹ ہوئی، تو پھر بولی دہندگان نے صرف 60 فیصد رقبے کے لئے ہی بولی کیوں دی؟ بقیہ 40 فیصد کو کیوں چھوڑ دیا گیا؟

سرمایہ کاروں نے حکومت کو تیار درختوں میں سے 36 فیصد حصہ دینے کی حامی بھری، حالانکہ ایس پی ایف سی کا مطالبہ کم از کم 15 فیصد کے لئے تھا۔ مگر سخت مقابلے کی وجہ ہی سے بولی دہندگان حکومت کو اس کے اصل مطالبے سے ڈبل حصہ دینے پر رضا مند ہوئے۔ اگر بولی کے نظام میں شفافیت کا عنصر شامل نہ ہو تو، عام طور پر ایسی سخت مقابلے کی فضا دیکھنے کو نہیں ملتی۔

اور یہ بھی قابل غور نکتہ ہے کہ الاٹ کئے گئے رقبے کا 60 فیصد بیرونی سرمایہ کاروں اور سمندر پار پاکستانیوں نے حاصل کیا، اور یہ لوگ کسی کے فرنٹ مین کے طور پر کام نہیں کرتے بلکہ سنجیدہ کاروباری اور سرمایہ کار ہوتے ہیں۔

ایس پی ایف سی کے توسط سے حکومت پنجاب کی جانب سے حوالگی کے معاہدے پر دستخط کے باوجود، موجودہ حکومت کی تاخیری حربوں کی وجہ سے سرمایہ کاروں کا ایک سیزن ضائع کیا جا چکا ہے۔ جن سرمایہ کاروں سے بات ہوئی، ان کا یہی ماننا ہے کہ ایس پی ایف سی کے معاملات کوتحریک انصاف حکومت کے ان سرکردہ لوگوں کے ایما پر لٹکایا جا رہا ہےجو پٹے کے غیر واضح نظام اورسینکڑوں معاہدوں کےبل پر جنوبی پنجاب میں دسیوں ہزار ایکڑ رقبہ بنانے کے دھندے میں ملوث ہیں۔

پی ٹی آئی حکومت پر پارلیمنٹ میں اس کے مخالف یوٹرن حکومت کا لیبل لگاتے ہیں۔ مگر اس قسم کے قومی اہمیت کے معاملات، جن میں پورے کا پورا مقامی اور غیر ملکی سرمایہ شامل ہو، سے یوٹرن، سرمایہ کاروں کے عتماد کو بری طرح متاثر کرے گا۔ دوسرے نمبر پر یہ کہ اس کا الٹا ردعمل بھی ہو سکتا ہے،جب یہ دیکھا جائے گا کہ حکومت اخراجات کم کرنے اور محصولات بڑھانے کے لئے کچھ شہری جائیدادیں بیچ رہی یا پٹے پر دے رہی ہے، مگرپنجاب میں اس بنجر رقبے کی الاٹمنٹ کے معاہدوں کو ختم کر رہی ہے، جس کی آبادکاری کے لئے 100 فیصد نجی سرمایہ خرچ ہونا تھا، اور ایک دھیلا خرچ کئے بغیر حکومت کو اس سے 20 ارب روپے کی بچت بھی ہو رہی تھی، جبکہ اس منصوبے کا اضافی فائدہ یہ تھا کہ اس سے ہمارے ماحول پر نہایت اچھے اثرات مرتب ہوتے۔

اس منصوبے سے کم از کم 15000 ماحول دوست ملازمتیں پیدا ہوں گی، علاوہ ازیں ساڑھے تین کروڑ ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اثرات زائل ہوں گے۔

ساوتھ پنجاب فارسٹ کمپنی کے ذریعے شجرکاری ہونے دی جائے، اور اس کے ساتھ یقینی بنایا جائے کہ محکمہ جنگلات موجودہ جنگلات کی قدرتی بڑھوتری یقینی بنائے، جیسا کہ خیبر پختونخوا میں ہوچکا ہے۔


شیئر کریں