ہمالیہ کی گود میں

شیئر کریں

حسنین جمیل

hassnainjamil@yahoo.com

ایک سفر جو درپیش تھا‘ لاہور سے کھٹمنڈو یاترا کا‘ لاہور پنجاب کا میدانی علاقہ اور کھٹمنڈو ہمالیہ کی گود میں‘ ہماری قومی ایئر لائن کی مہربانیوں کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے کراچی تا کھٹمنڈو براہ راست پرواز ختم کر دی ہے‘ چند سال قبل یہ سہولت دستیاب تھی۔ کراچی تا کھٹمنڈو ساڑھے تین گھنٹے میں آپ پہنچ سکتے تھے۔ خدا جانے پی آئی اے کو نیپال جہاز لے جانے کا خوف ہے(پی آئی اے کے دو طیارے نیپال میں گر کر تباہ ہو چکے ہیں) یا قومی ایئر لائن کے آفیسروں نے غیر ملکی ایئرلائنوں سے کمیشن کھائے ہیں۔ بہرحال اب براہ راست پروازیں نہیں ہیں۔ نیپال جانے کے 4روٹ ہیں‘لاہور سے ملائیشیا کے دارلاحکومت کولالمپور پھر وہاں سے کھٹمنڈو، لاہور سے دبئی اور وہاںسے کھٹمنڈو یا لاہور سے دوحہ اوروہاں سے کھٹمنڈو اور لاہور سے بنکاک پھر وہاں سے کھٹمنڈو۔ میں مذکورہ پہلے روٹ اور آخری روٹ کے سفر کر چکا ہوں۔ ہماری قومی ایئر لائن کی مہربانی سے جو سفر ساڑھے تین گھنٹے میں براہ راست ہوتا تھا‘ اب تقریباً سات سے آٹھ گھنٹوں میں دوسرے ملک سے ہو کر ہوتا ہے؛ چنانچہ جب کھٹمنڈو ایئرپورٹ پر اترتے ہیں تو تھکاوٹ سے چُور ہوتے ہیں۔ امیگریشن حکام سے فارغ ہونے میں مزید ایک گھنٹہ لگ جاتاہے۔

ہمارا دورہ صحافیوں کی ایک تنظیم کے ساتھ تھا جو سارک ممالک کے مزدوروں کے حالاتِ زندگی کے بارے میں وقائع نگاری کا کام کرتی ہے۔ بھارت، پاکستان، سری لنکا ،نیپال، بنگلہ دیش کے محنت کش خلیجی ممالک ، سنگاپور، ملائیشیا میں جیسے اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ان کے حوالے سے کافی کام ہے جو مختلف ممالک کے صحافی اپنے ٹی وی چینلز میں رپورٹ بنا کر نیوز پیکج پیش کرتے ہیں‘ یا اپنے اخباروں میں نیوز سٹوریز‘ فیچر اور کالم کی صورت میں لکھتے ہیں۔ صحافیوں کی آمدورفت اوررہائش کا خرچہ نیپالی این جی او برداشت کرتی ہے۔

نیپال ایک خوب صورت ملک ہے‘ ساڑھے تین کروڑ کی آبادی کا ملک ‘ جو چاروں طرف سے ہمالیہ کی فلک بوس چوٹیوں میں گِھرا ہوا ہے۔ نیپال کے دارالحکومت کھٹمنڈو کی آبادی 65لاکھ ہے۔ نیپال میں اکثریت ہندوﺅں کی ہے‘ پھر بدھ مت اورجین مت آباد ہیں‘ عیسائی اور مسلمان بھی آباد ہیں۔ نیپال نے اپنے آئین میں اپنے آپ کو ہندو ریاست کے طور پر لکھا ہے‘ جو بھارتی آئین کے برعکس ہے۔ بھارتی آئین میں بھارت کو سیکولر ریاست لکھا ہوا ہے مگر بھارتی ارباب اختیار کا رویہ سیکولر نہیں ہے‘ نیپالی آئین میں لکھا ہندو ریاست ہے‘ مگر انکے عوام کا رویہ خاصا سیکولر ہے۔

نیپال، بدھ مت کی جنم بھومی

حکومت پاکستان کے نیپال کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ چند ماہ قبل جب نیپال میں الیکشن کے بعد نئی حکومت بنی تو وزیراعظم کے پی شرما کی تقریب حلف برداری میں اس وقت کے پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی شرکت کی تھی۔ اگر آپ کھٹمنڈو کے گلی کوچوں اور بازاروں میں گھومیں تو وہاں دو زبانوں کا بکثرت استعمال ہوتا ہے‘ نیپالی اور ہندی۔ مقامی افراد ان زبانوں میں بات چیت کرتے ہیں۔ نیپال میں اس وقت بائیں بازو کی سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے۔ نیپال کے ہمسائے میں دو بڑے ملک چین اور بھارت آباد ہیں۔ بھارت کا رویہ نیپال کے ساتھ ایسا ہی ہے جیسے ہمارا افغانستان کے ساتھ ہے‘ یہی وجہ سے جسے افغانی عوام اور حکومت پاکستان کی بجائے بھارت کے ساتھ بہتر تعلقات بنائے ہوئے ہیں۔ راقم کو ایک ٹیکسی ڈرائیور کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے دوران اندازہ ہوا۔ ٹیکسی والا ہندو تھا اس کا نام رامش تھا اس نے راقم سے پوچھا صاحب آپ بھارتی ہو‘ میں نے کہا نہیں پاکستانی ‘اس پر رامش نے گرم جوشی سے میرے ساتھ ہاتھ ملایا اور کہنے لگا آپ کی فوج کشمیر کو آزاد کیو ں نہیں کراتی‘ میں حیران کہ کیا کہہ رہا ہے‘ رامش میری طرف دیکھ کر مسکرایا اور بولا صاحب بھارتی ظالم ہیں آپ پاکستانی اچھے لوگ ہو‘ ہمیں بھارتی پسند نہیں ہیں‘انڈر 19ورلڈ کپ میں جب نیپال نے بھارت کو ہرایا تھا تو ہم نے بہت خوشی منائی تھی۔ رامش بولا ہاں مگر آپ زیادہ اچھے ہیں‘ میں نے گرم جوشی سے اس کا ہاتھ دبایا اور سوچنے لگا ہر بڑا ملک اپنے سے چھوٹے ملک کے ساتھ سامراجی برتاﺅ کیوں کرتا ہے۔

نیپال میں بھی بھارتی فلموں کا بہت جنون ہے۔ وہاں کے سینما گھروں میں بھارتی فلموں کا راج ہے۔ نیپالی فلمیں کم اور بھارت فلمیں زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ جیسے پاکستان کے سینما گھروں میں بھارتی فلمیں زیادہ دیکھی جاتی ہیں۔ ہمارے فلمساز تو دونوں عیدوں پر اس خوف سے بھارتی فلموں کی نمائش ایک ہفتہ موخر کروا دیتے ہیں کہ سارا بزنس بھارتی فلم لے جائے گی۔

کھٹمنڈوکی سب سے خوب صوت بات وہاں کے مقامی مندر ہیں جو ہندومت، بدھ مت اور جین مت عقائد کے ہیں۔ گوتم بدھ کے بت دیکھنے کے لائق ہیں۔ کھٹمنڈو سے 12سو کلومیٹر دور لویبنی ایک جگہ ہے جو گوتم کی پیدائش کا مقام ہے۔ کھٹمنڈو میں بیگم حضرت محل کا مزار بھی ہے جو اودھ کے نواب واجد علی شاہ کی بیوی تھیں۔ بیگم حضرت محل 1820ءمیں فیض آباد میں پیدا ہوئیں۔ ان کا انتقال 17اپریل 1879ءمیں کھٹمنڈو میں ہوا۔ جب ایسٹ انڈیا کمپنی بھارت میں لوٹ مار میں مگن تھی اور مختلف ریاستوں پر قبضہ کر رہی تھی‘ واجد علی شاہ اودھ کے نواب تھے۔

مصنف بیگم حضرت محل کی قبر پر

انگریز سرکاری نے ان کو گرفتار کرکے کلکتہ میں جیل میں ڈال دیا۔ اس وقت بیگم حضرت محل نے اودھ کا نظام حکومت سنبھال لیا۔ 1857ءکی جنگ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت سے تاج برطانیہ کے پاس چلا گیا۔ بیگم حضرت محل نے اودھ سے نیپال میں آ گئیں ‘وہاں سیاسی پناہ لے لی۔ 1879ءاپنی وفات تک وہاں ہی رہیں۔ کھٹمنڈو میں ایک جگہ ہے گھنٹہ گھر ‘وہاں بیگم حضرت محل کی قبر ہے۔ قبر کی حالت اچھی ہے‘ سنگ مرمر کا پتھر لگا ہوا ہے۔اردگرد مسلمانوں کی کافی دوکانیں ہیں‘ جن کے سائن بورڈ اردو زبان میں لکھتے ہوتے ہیں۔ دیارِ غیر میں اردو کا سائن بورڈ دیکھ کر یقینا خوشگوار حیرت ہوتی ہے۔ مزار کے اردگرد دو مسجدیں ہیں‘ ایک کا نام کشمیری مسجد ہے‘ دوسری کا نام نیپالی مسجد ہے۔ نیپالی مسلمان اردو بول اور لکھ سکتے ہیں۔ وہاں اردو میں کتابیں بھی دستیاب ہیں جو مذہبی موضوعات پر لکھی ہوئی ہیں۔ جب میں گھنٹہ گھر چوک میں اترا تو میں نے اردو میں سائن بورڈ پڑھے میں سمجھ گیا کہ یہ سب مسلمان ہیں‘ میں نے ان سے بیگم حضرت محل کی قبر کے بارے میں دریافت کیا‘ کسی کو پتہ نہ تھا کہ قبر کدھر ہے‘ اور بیگم حضرت محل کون ہے‘ جبکہ ان کی قبر ان دوکانوں کے بالکل ساتھ تھی۔ وہاں مجھے کہا گیا آپ جامع مسجد کی کمیٹی کے دفتر جا کر معلوم کریں۔ میں وہاں گیا دفتر کا ایک ملازم میرے ساتھ بیگم حضرت محل کی قبر تک آیا،لوہے کا گیٹ کھول کر میں اندر داخل ہوا۔ قبر کی حالت بہت اچھی تھی میں نے پھول چڑھائے‘ فاتحہ پڑھی۔ مجھے مسجد کمیٹی کے اہلکار نے بتایا جب ڈاکٹر من موہن سنگھ بھارت کے وزیراعظم تھے وہ کھٹمنڈو آئے تھے تو بیگم حضرت محل کی قبر پر پھولوں کی چادر ڈالنے آئے تھے۔ اس نے مجھے تصویریں بھی دکھائی میں نے پوچھا پاکستانی وزیراعظم شاہد خاقان عباسی یہاں آئے تھے‘ تو اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔


شیئر کریں