ہواوے گوگل تنازعے میں جیت کس کی ہو گی؟

شیئر کریں

امریکی انٹرنیٹ سرچ انجن گوگل نے چینی ٹیلی کوم کمپنی ہواوے کے ساتھ اپنے رابطے ختم کرنے کا آغاز کر دیا ہے۔ موبائل ٹیلی فونز میں استعمال ہونے والا ایک آپریٹنگ سسٹم اینڈرائڈ گوگل ہی کی ملکیت ہے۔ خود اینڈرائڈ نامی ادارے نے بھی چینی کمپنی سے تعلق ختم کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

گوگل اور اینڈرائڈ نے یہ فیصلہ واشنگٹن حکومت کی جانب سے ہواوے کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیے جانے کے بعد کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ مختلف چینی کمپنیوں کے ساتھ ٹیکنالوجی شیئرنگ کو بھی ممنوع قرار دے چکی ہے۔ ان کمپنیوں سے کاروباری روابط اب واشنگٹن کی اجازت سے ہی قائم کیے جا سکیں گے۔ گوگل نے یہ رابطے مکمل طور پر منجمد کر دینے کی کوئی حتمی تاریخ نہیں بتائی۔

ہواوے کے صارفین کے لیے اس کا کیا مطلب ہے؟

ہواوے کے موجودہ صارفین تاحال ایپس اور سکیورٹی فکسز اپ ڈیٹ کر سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ گوگل پلے سروسز بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن جب گوگل رواں سال اپنے اینڈرائڈ او ایس کا نیا ورژن لانچ کرے گا تو وہ ہواوے کے فونز پر دستیاب نہیں ہوگا۔ مستقبل کے ہواوے فون سیٹ میں اب یوٹیوب اور گوگل میپس جیسے ایپس نہیں ہو سکتے ہیں۔ اس کے باوجود ہواوے اینڈروئڈ آپریٹنگ سسٹم کا اوپن سورس لائسنس کے ذریعے استعمال کر سکتا ہے۔

ہواوے کیا کر سکتی ہے؟

ہواوے کے لیے وقتی طور پر یہ بہت ہی نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ سمارٹ فون خریدنے والے ایسا اینڈرائڈ فون خریدنا نہیں چاہیں گے جس میں گوگل کا پلے سٹور یا سکیورٹی اپ ڈیٹس نہ ہوں۔

تاہم طویل مدت میں سمارٹ فون بنانے والے اس بات پر سنجیدگی سے غور کر سکتے ہیں کہ گوگل کے آپریٹنگ سسٹم کا قابل عمل متبادل کیا ہو سکتا ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب گوگل اپنے پکسل سمارٹ فون کو بیچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جہاں تک ہواوے کا تعلق ہے، وہ بالآخر امریکی ٹیکنالوجی سے رابطہ منقطع کرنے کے لیے تیار ہے۔

ان کے سمارٹ فون ان کے اپنے پراسیسر سے چلتے ہیں اور رواں سال کے اوائل میں ان کے ایک عہدیدار نے جرمنی کے اخبار ڈی ویلٹ کو بتایا تھا کہ ہم نے اپنا آپریٹنگ سسٹم تیار کر لیا ہے جو کہ ہمارا پلان بی ہے۔

اگر ایسا ہوتا ہے، تب بھی سام سنگ کو پیچھے چھوڑ کر اگلے سال میں ہواوے ایسا سمارٹ فون لا سکتا ہے جواپنے آپریٹنگ سسٹم سے چلتا ہو گا، اس طرح سام سنگ سمیت بہت سی شمارٹ فون بنانے والے کمپنیوں کو جھٹکا لگ سکتا ہے۔



شیئر کریں