یابا: ایک سستا نشہ جو بنگلہ دیشی قوم کو کھائے جا رہا ہے

شیئر کریں

لِنڈا پریسلیبی بی سی نیوز

بنگلہ دیش میں ہزاروں افراد کو یابا نامی ایک نشہ آور گولی کی لت لگ چکی ہے۔ یابا میتھ ایمفیٹامین اور کیفین کے مرکب سے تیار کی جاتی ہے جسے لال اور گلابی رنگ کی گولیوں کی صورت میں سستے داموں فروخت کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے سرکاری ردعمل سخت رہا ہے جس کے باعث سینکڑوں لوگ مبینہ طور پر فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔

ماہر نفسیات ڈاکٹر عاشق سلیم کا کہنا ہے کہ ’یابا استعمال کرنے کے ابتدائی مراحل میں بہت سے مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔ ہر چیز یابا کی بدولت بہتر لگنے لگتی ہے۔ آپ مزید ملنسار بن جاتے ہیں۔۔۔ موسیقی، تمباکو نوشی اور سیکس سے آپ زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں۔

یابا بنگلہ دیش میں پہلی مرتبہ سنہ 2002 میں منظر عام پر آئی اور اس کے بعد سے اس کے استعمال میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ میانمار میں بڑے پیمانے پر اسے غیر قانونی طور پر بنایا جاتا ہے جس کے بعد ان منشیات کو بنگلہ دیش کے جنوبی مشرقی علاقے میں سمگل کیا جاتا ہے۔ یہ بنگلہ دیش کا وہ سرحدی علاقہ ہے جہاں دریائے ناف بہتا ہے۔

یہ وہ دریا ہے جسے پار کر کے روہنگیا پناہ گزین برما کی فوج سے بچنے کے غرض سے سنہ 2017 میں بنگلہ دیش داخل ہوئے تھے۔ اب تقریباً دس لاکھ لاچار پناہ گزین عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔ البتہ منشیات کے ڈیلروں نے کامیابی کے ساتھ ان میں سے کچھ افراد کو اپنی سرپرستی میں لے لیا ہے جن میں سے بیشتر خواتین ہیں جو گولیاں اپنی اندام نہانی میں چھپا کر سمگل کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک ایسے وقت جب بنگلہ دیش کی معیشت تیزی سے ترقی کررہی ہے، سمگلررز ایک بڑی مقدار میں یابا کو سستے دام فروخت کر کے ایک وفادار مارکیٹ تشکیل دے رہے ہیں۔

ڈھاکہ میں ماہر نفسیات عاشق سلیم کے مطابق یابا نے ان کے ملک میں وہ خلا پر کی ہے جو بنگلہ دیش میں شراب کی فروخت پر پابندی کے باعث ہے اور جہاں شراب نوشی کو بری نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

لیکن یابا استعمال کرنے والے افراد اس عادت سے چھٹکارا پانے سے قاصر ہوتے ہیں۔ اور یابا کی کھلے عام فروخت اور اس سے ہونے والی تباہی نے بنگلہ دیش کی حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ یابا استعمال کرنے والے اور رکھنے والوں کے خلاف بھاری جرمانہ عائد کریں اور اس پر مکمل پابندی عائد کریں۔
بشکریہ: بی بی سی


شیئر کریں