یکساں نصاب تعلیم

شیئر کریں

حسنین جمیل
hassnainjamil@yahoo.com

تحریک انصاف کی حکومت نے ملک بھر میں یکساں نصاب تعلیم نافذ کرنے کا فیصلہ کیاہے۔ یہ ایک بروقت اور احسن اقدام ہے۔ تاہم یہ سوال ضرور کیا جا سکتا ہے کہ حکومت اس اقدام کو من و عن نافذ کرنے میں کس حد تک کامیاب ہوتی ہے۔ اس کا فیصلہ آنے والا وقت کرے گا۔

وطن عزیز میں اس وقت سکولوں میں کئی قسم کے نظام تعلیم نافذ ہیں ایک نجی سکولوں میں انگریزی میڈیم سکول میں جو شہر کے پوش علاقوں میں واقع ہیں جہاں اے لیول ، او لیول پڑھایا جاتا ہے۔ ہماری تمام حکمران اشرافیہ کے بچے ان سکولوں میں پڑھتے ہیں۔ نجی سطح پر چلنے والے سکول اور سرکاری طور پر چلنے والا ایچی سن کالج بھی اسی زمرے میں آتے ہیں۔ پوش علاقوں میں باہر نکلیں تو درمیانہ طبقہ، مڈل کلاس شروع ہو جاتی ہے۔ ان کا نصاب اے لیول کی طرز کا تو نہیں ہوتا تاہم انگریزی میڈیم ضرور ہوتا ہے۔ سکول کی فیس مڈل کلاس کی معاشی حیثیت کو مدنظر رکھ کر رکھی جاتی ہے۔ پھر سرکاری سکولوں کا ایک سلسلہ ہے جہاں فیس کم ہے اور نصاب بھی سرکاری ہے وہاں انگریزی لازمی ہے۔ باقی تمام مضامین اردو میں پڑھائے جاتے ہیں۔ ایک قسم مشنری سکولوں کی ہے جہاں انگریزی میڈیم طرز تعلیم رائج ہے۔ ایک اور قسم کی اسلامی طرز کے مدرسوں کی ہے۔ جہاں اس وقت پورے ملک میں لاکھوں بچے زیر تعلیم ہیں۔وہاں انگریزی بالکل نہیں پڑھائی جاتی۔

اس ساری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے آپ خود اندازہ لگائیں ہمارے بچے جتنی قسم کے نظام تعلیم میں گزر رہے ہیں ہر بچہ ایک مختلف سوچ کے ساتھ جوان ہوگا۔ ہر بچہ اپنے ذریعہ تعلیم اور نصاب کے زیر اثر رہ کر اپنی ایک مخصوص سوچ کے تحت جوان ہوگا۔ ان بچوں کا الگ الگ مائنڈ سیٹ ہوگا۔ اردو زبان کے ایک محاورے کے تحت کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا بھان متی کا کنبہ جوڑا کے مترادف ہے۔ اس تناظ رمیں آپ کیسے توقع رکھ سکتے ہیں ایک قومی سوچ کو پروان چڑھایا جا سکتاہے۔

دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ جویقینا شروع میں ہماری نہیں تھی ہمارے حکمران اشرافیہ نے اوکھلی میں سر دے دیا۔ اب یہ جنگ ہمارے گلے پڑ چکی ہے۔ ہماری بن چکی ہے۔ ہمارے گلی کوچوں میں پھیل چکی ہے۔ ہمارے شہدا اس جنگ کو لڑتے لڑتے وطن پر قربان ہو چکے ہیں جن میں فوجی اور شہری دونوں شامل ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کو مختلف مکتبہ فکر اپنی اپنی عینک سے دیکھتے ہیں۔ بچے اور نوجوان جو مختلف ذریعہ تعلیم میں پڑھ کر جوان ہو رہے ہیں وہ اس جنگ کو اپنی اپنی سوچ کے تحت دیکھ رہے ہیں اور ایک نکتے پر ہرگز متفق نہیں ہوں گے۔تحریک انصاف کی حکومت نے مرکز میں شفقت محمود اور پنجاب میں داکٹر مراد راس کو وزیر تعلیم بنایا ہے۔ دونوں انتہائی سلجھے ہوئے، پڑھے لکھے اور قابل لوگ ہیں۔ دونوں کا تعلق لاہور سے اور قومی اور صوبائی حلقے بھی ایک ہیں۔ لہٰزا ہم ان سے بہترین فیصلوں کی امید رکھتے ہیں۔

لاہور میں یوم دفاع کے موقع پر ایک مقامی سکول میں تقریب کا اہتمام ہمارے دوست شفیق چیمہ نے کیا جو ڈاکٹر مراد راس اور شفقت محمود کے علاقے میں سیاسی طور پر بہت متحرک ہیں۔ ڈاکٹر مراد راس نے وہاں اپنی تقریر میں ملک بھر میں تعلیمی صورت کے حوالے اپنے عزم کا اظہار کیا ہے جو قابل تحسین ہے۔ہمارے خیال میں یکساں نصاب تعلیم کا پورے ملک میں نافذ ہونا بہت ضروری ہے۔ اس کے بغیر قومی سوچ کا بیدار ہونا ناممکن ہے۔ تحریک انصاف اس وقت مرکز ، پنجاب، خیبرپختونخواہ میں حکومت میں ہے۔ بلوچستان میں مخلوط حکومت کا حصہ ہے۔ سندھ میں پیپلزپارٹی کی حکومت ہے۔ وہاں ان کو مشکل پیش آ سکتی ہے۔

اس وقت وطن عزیز کا سب سے بڑا چیلنج بچوں کو مذہبی رواداری کے فلسفے سے آگاہی دینا ہے۔ ہمارے نصاب میںمذہبی رواداری کا بہت بڑا فقدان ہے اس میں غیرمسلموں کے حوالے سے خاصا نفرت انگیز مواد موجود ہے یہ صرف مدارس کی سطح پر نہیں بلکہ سرکاری سکولوں میں بھی پڑھایا جاتا ہے۔ میں وفاقی وزیر تعلیم اور صوبائی وزیر تعلیم دونوں سے توقع رکھتا ہوں وہ اس سلسلے میں احکامات جاری کریں گے اور نفرت آمیز مواد کو نصاب سے حذف کرای اجائے گا۔ معاشرے میں برداشت عدم تعاون کی روایت کو ختم کرنا ہوگا۔ عدم تشدد کے حلقے کو پروان چڑھانا ہوگا۔ اس کے لیے نچلی سطح سے کام کرنا ہوگا۔ ہر محلے میں ایک لائبریری کا قیام بہت ضروری ہے۔ بچوں میں کتب بینی کے رواج کو فروغ دینا ہوگا۔

فنون لطیفہ کی تمام شاخوں پر توجہ دینا ہو گی۔ ادب، شاعری، ناول، افسانہ، مصوری، سنگ تراشی ، موسیقی ،ڈرامہ اور فلم ان اصناف کے ذریعے بچوں کے دماغوں کو کھولا جا سکتا ہے۔ ان کے اندر سے تنگ نظری ،دوسرے مذہب سے نفرت ختم کی جا سکتی ہے۔ بچوں کو اپنے مذہب سے محبت کرنا ضرور سکھائی مگر خدا کا واسطہ ہے دوسرے مذہب سے نفرت کرنا نہ سکھائیں ۔ میں موجودہ حکومت کے وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود اور صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر مراد راس سے بھی درخواست ہے کہ وہ یکساں نصاب تعلیم میں سے نفرت انگیز مواد کو ختم کریں۔


شیئر کریں