کیا آصف علی زرداری پیپلز پارٹی کو منظم کر سکیں گے ؟

18

علی تارڑ

…..صدارت کے عہدے سے سبکدوش ہو کر آصف علی زرداری بلاول ہاوٴس لاہور پہنچے جہاں ان کی پارٹی کے سینئر رہنماوٴں اور کارکنوں نے بھر پور طریقے سے ان کا استقبال کیا۔ اس موقع پر آصف علی زرداری کی تقریر کو مستقبل میں ان کے سیاسی عزم اور پروگرام کے حوالے سے کلیدی اہمیت حاصل ہے۔
اس تقریر میں بیرونی مداخلت اور خطرات کی واضح نشاندہی کرتے ہوئے سابق صدر نے زور دے کر کہا کہ کچھ طاقتیں پاکستان کو کمزور کرنا چاہتی ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ آگ لگانا آسان اور اسے بجھانا بہت مشکل ہے۔ خطے کی صورتحال اور پچھلی ایک دہائی کے حالات کے پیش نظر سلامتی اور امن کے خطرات کو باور کرنا ایسا مشکل تاہم آصف علی زرداری کو یہ کریڈٹ ضرور جاتا ہے کہ انہوں نے اس خطرے کو بھانپ کر اس کی مدافعت میں اپنی پارٹی کے کردار کی بات بھی کی ہے۔
اس تقریر میں تشدد کی پرچارک قوتوں کو بھی پیغام دیا گیا۔ بے شک یہ جمہوریت کی سپرٹ ہی ہے جو پیپلز پارٹی کے قالب میں بول رہی تھی کہ بندوق کی سیاست کرنے والے سن لیں ہم جنگ ہارے نہیں۔ اس خطاب کے دوران آصف علی زرداری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پچھلے انتخابات میں پیپلز پارٹی کا مینڈیٹ چھینا گیا ،بقول ان کے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی سو فیصد کامیابی حاصل کرے اور پنجاب کے بارڈر پر آ کر بالکل دب جائے۔ان کے بقول مینڈیٹ چھیننے کا مقصدملک میں آگ لگانا تھا، مگر آنے والی نسلوں کی خاطر اور جمہوریت کے استحکام کے لیے پیپلز پارٹی نے یہ نتائج تسلیم کیے۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا پیپلز پارٹی نے ملک کے جمہوری کلچر میں نئی روائتیں قائم کی ہیں اور اس یقین کے باوجود کہ ان انتخابات میں پیپلز پارٹی کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہم جمہوریت کے ساتھ کھڑے ہیں، ہم میاں نواز شریف سے یہ وعدہ کرتے ہیں کہ انہیں کمزور نہیں ہونے دیں گے۔آنے والے وقت میں بھی جمہوریت کے لیے مشکلیں برداشت کرنا پڑی تو کریں گے۔ ہم جمہوریت کے ساتھ ساتھ کھڑے ہوں گے اور انشاء اللہ مدد کریں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ نواز شریف کو تعاون کی پیشکش اس لیے کی کیونکہ اس میں ہم سب کی بقا ہے۔ زرداری صاحب کے یہ عزائم جمہوریت کے لیے نیک شگون قرار دیے جا سکتے ہیں کیونکہ ماضی میں سیاستدان ایک دوسرے کے لیے ہی گڑھا کھودتے رہے ہیں اور اسی چپقلش میں جمہوریت پٹڑی سے اترتی اور آمریت کی راہیں ہموار ہوتی رہی ہیں، تاہم اب سیاستدان اگر مفاہمت ، تدبر اور برداشت کو وتیرہ بنا لیں تو اس سے جمہوریت یقیناً مستحکم ہو گی۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ وہ طاقتیں جو ووٹ کے بجائے بندوق کی سیاست سے ملک کو کمزور کرنا چاہتی ہیں ان کو میں بتانا چاہتا ہوں کہ ہم جنگ ہارے نہیں ہم جمہوریت کو آگے بڑھا کر آئے ہیں۔ آج جمہوریت کی فتح ہو ئی اور ملک و قوم کی خاطر ہر قیمت پر جمہوریت کے اس سفر کو جاری رکھا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے لیے کردار ادا کرنے پر میں خود سے مطمئن ہوں، میں چاہتا تھا کہ نئی روایات قائم کی جائیں اور میں نے ایسا کر دکھایا۔ ہم نے اقتدار کو پرامن طور پر منتقل کیا۔
اس موقع پر سابق صدر نے پارٹی میں اپنے کردار اور مستقبل میں اپنی سیاسی مصروفیات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عہدہٴ صدارت چھوڑنے کے بعد اب میں اپنے کارکنوں اور عوام کے پاس واپس آ گیا ہوں، میری مجبوریاں ختم ہو چکی ہیں اب میں آزادی سے اپنے کارکنوں سے ملوں گا، میرے دروازے کارکنوں کے لیے کھلے ہیں، اب مجھ پر ملک کی نہیں کارکنوں کی ذمہ داری ہے۔ مجھے میرے کارکنوں سے ملنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا۔ اب میں اپنے انداز سے سیاست کر کے دکھاؤں گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی کے عہدے دار تبدیل کروں گا، البتہ سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی بدستور قائم رہے گی۔
پچھلے انتخابات میں سندھ کے علاوہ پورے ملک میں شکست پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقوں میں بھلے ہی دھاندلی کا نتیجہ باور کی جائے تاہم اس میں شک نہیں کہ اپنے پانچ سالہ دور میں پیپلز پارٹی جماعتی سطح پر خوفناک بحران کا شکار تھی۔ عوامی رابطہ اور تنظیم سازی تو گویا اس جماعت کا مسئلہ ہی نہ تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر الیکشن میں پیپلز پارٹی کی کارکردگی کے بارے خدشات پہلے ہی سے موجود تھے۔ چنانچہ عہدہٴ صدارت سے فراغت کے بعد آصف علی زرداری کا تنظیم سازی اور پارٹی کی سطح پر قریبی رابطے بحال کرنے کی طرف توجہ دینے کا فیصلہ پیپلز پارٹی کے لیے حیات نو کا درجہ رکھتا ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکنوں میں جماعتی وابستگی کے جذبے کی شدت ہمیشہ رہی ہے اور شاید کسی دوسری سیاسی جماعت کے مقابلے میں زیادہ مخلص ، سنجیدہ اور مضبوط رہی ہے جبھی تو اس جماعت کے کارکنوں کو جیالے کا صفاتی نام بھی نصیب ہوا۔ تاہم ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی کرشماتی شخصیت کے ہوتے ہوئے جیالوں اور پارٹی میں تعلق کی کیفیت اور تھی اور موجودہ حالات میں جب یہ جماعت قیادت کے اعتبار سے بالکل نئی بنیاد پر قائم ہے ، جماعت اور کارکنوں میں تعلق کی گرفت مزید مضبوطی کی متقاضی ہے۔ 2008ء کے انتخابات بالکل الگ ماحول میں ہوئے تھے، خاص کر پیپلز پارٹی کے لیے تو وہ انتخابات بالکل ہی مختلف ماحول میں تھے، تاہم یہ ماننا پڑے گا کہ اپنے پانچ سالہ اقتدار کے دوران پیپلز پارٹی نے اس حقیقت کو پوری طرح سمجھا نہیں کہ ملکی سیاست اور پارٹی کے حالات پہلے جیسے نہیں ۔ اب آصف علی زرداری کے میدان سیاست میں واپس آنے سے پیپلز پارٹی کے لیے یہ امید پیدا ہو رہی ہے کہ پارٹی اپنی اس کمی پر قابو پانے کی طرف توجہ کرے گی۔ اگرچہ آئین کی رو سے ابھی دو سال تک آصف علی زرداری پارٹی کا کوئی منصب اختیار نہیں کر سکیں گے لیکن پارٹی کے معاملات کو صحیح خطوط پر چلانے کے لیے جماعت کے رہنماؤں کی رہنمائی کرنے پر کوئی پابندی نہیں۔ پچھلے پانچ سال کے دوران جب زرداری ایوان صدر میں تھے، پارٹی کی عوامی مقبولیت میں شدید کمی آئی جس کی ذمہ داری دونوں وزرائے اعظم پر عائد ہوتی ہے۔ اس عرصے کے دوران پیپلز پارٹی قومی زندگی کے کسی شعبے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ نہ کر سکی۔ اگرچہ پیپلز پارٹی کے اندرونی حلقے الیکشن میں شکست کا الزام دھاندلی پر عائد کرتے ہیں۔ تاہم یہ بھی ہے کہ انتخابات کے وقت پیپلز پارٹی مقبولیت کے اعتبار سے بہت ہی نیچے تھی۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کو دوبارہ مقبول عام بنانا اس جماعت کی نشاة ثانیہ کے برابر ہے۔ اس موقع پر یہ بھی خوشی کی بات ہے کہ آصف علی زرداری حکمران جماعت سے اُلجھنے میں وقت گزارنے کے بجائے اس وقت اور موقعے کو کارکنوں اور عوام سے رابطے جیسی مثبت سرگرمی میں گزارنا چاہتے ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ان حالات میں پیپلز پارٹی کو کھڑا کرنا، مضبوط کرنا اور اگلے انتخابات میں کامیابی کے قابل بنانا ایسی آسان مشق نہیں۔ اگر مسلم لیگ( ن) کی حکومت نے اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تو یہ کام اور مشکل ہو جائے گا۔ تاہم اگلے پانچ سال میں پتہ چل جائے گا کہ زرداری صاحب پارٹی کو مضبوط کرنے میں کتنا کامیاب ہوئے ہیں۔
بہرکیف ایوان صدر سے رخصت ہوتے ہوئے آصف علی زرداری نے حکومت کے لیے جن نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے، تدبر اور مفاہمت کے اس جذبے کے نتائج ابھی سے ظاہر ہونا شروع ہو چکے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) کی طرف سے اس مخلصانہ جذبے کا جواب بھی بڑا مثبت آیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان خوشگوار تعلقات کا ایک عکس اس وقت سامنے آیا جب اسلام آباد کے ایک وکیل کی طرف سے سپریم کورٹ میں دی گئی درخواست جس میں عہدہٴ صدارت سے فراغت کے بعد آصف علی زرداری کے بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرنے کی استدعا کی تھی اور عدالت نے اس حوالے سے حکومت سے جواب طلب کیا تھا، تاہم حکومت نے اس پٹیشن کو حقائق کے برخلاف، غلط فہمی پر مبنی اور واہیات قرار دیا ہے۔ وزارتِ قانون کی طرف عدالت میں جمع کروائے گئے سرکاری جواب میں کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 46 کے تحت وزیراعظم اس بات کا پابند ہوتا ہے کہ وہ تمام داخلی اور بیرونی معاملات اور قانون سازی کے متعلق تمام تجاویز جنہیں حکومت پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، کے بارے صدر کو آگاہ کرے لہٰذا عدالتی انکوائری میں صدر کی حاضری کے لیے آئین پر غور کرنا ضروری ہے۔ جواب میں مزید کہا گیا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 41( 1) کے تحت صدر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے، جو ریاستی اتحاد کی نمائندگی کرتا ہے اور صدر کا وقار ایوان صدر کے ساتھ منسلک ہوتا ہے اور عدالتی کارروائی سے بچنے کے لیے صدر کے سیکرٹریٹ میں انکوائری کی جاسکتی ہے۔