بنگلہ دیش کی طرح جماعت اسلامی پر پابندی نہ لگائی گئی تو یہ ۔۔۔۔ پاکستان کیلئے خطرناک ہو گا؟

بنگلہ دیش کی طرح جماعت اسلامی پر پابندی نہ لگائی گئی تو یہ ۔۔۔۔ پاکستان کیلئے خطرناک ہو گا؟

عون علی
لاہور کے علاقے اچھرہ کے زیلدا ر پارک کی ایک گلی جماعت اسلامی کی جنم بھومی ہے ۔ سیدحیدر فاروق مودودی اسی گلی کے باسی ہیں۔ والد گرامی نے جماعت اسلامی کی بنیاد رکھی ،بیٹا جماعت کے ایک جید نقاد کے طور پر معروف ہوا۔جماعت کو اپنے بانی کے بیٹے کی یہ آزاد روش پسند نہیں آئی۔بات زبانی دھمکیوں سے بڑھ کر زمینی حقائق کی صورت میں یوں سامنے آئی کہ جماعت کے بزرجمہروں نے دیوار کھڑی کرکے مولانا مودودی کے گھر کا بٹوارا کر دیا۔ بڑے حصے پر جماعت کے منہ زور دھڑے اسلامی جمعیت طلبا کا قبضہ ہے جہاں ان کے تنظیمی عناصر کی نظری تربیت کی اکیڈمی چلتی ہے۔ نسبتاً چھوٹا اور پچھواڑے کا حصہ حیدر مودودی صاحب اور ان کے خاندان کے پاس ہے۔جمعیت کی اکیڈمی والے حصے کا صحن خاصہ کھلا ہے ،بڑا سا آہنی گیٹ، راہداریوں پر ٹائلیں ،تراشیدہ لان ، ولائتی کھجور کے اونچے درخت۔مگر پچھواڑے میں حیدر صاحب کے حصے کی شان استغنیٰ بھی دیکھنے کے لائق ہے۔الٹی اینٹ کا پرانا فرش، سادہ چونے سے نکھری دیواریں اور دہائیوں کی امانت السٹونیا کا تناور درخت۔
جماعت اسلامی کے اس کوچے میں کوئی حیدر فاروق مودودی کے گھر کا پتہ بتانے کا روادار نہ تھا۔ پوچھ پوچھ کر پہنچے تو صاحب مکان کے کھلے دل اور وسیع ظرف کی علامت ، قد آدم گیٹ کھلا پایا۔ سیدھے اندر چلے جائیں تو بانس کی عارضی دیوار کے دائیں جانب جالی دار دروازے والا دالان سید حیدر فاروق مودودی کی نشست گاہ ہے۔ دیوار تا دیوار کتابوں ، رسالوں اور پرانے اخبارات کی فائلوں سے آباد اس کمرے میں حیدر فاروق کی آواز اگر بتی کی خوشبو کی طرح پھیل رہی تھی۔دل کے شیشے میں بال نہ ہو تو خیالات کی رو ہموار بہتی چلی جا تی ہے۔ اس روز ان کی باتوں میں نکھرے ہوئے خیالات کے ساتھ صاف، نستعلیق ارد و کا رس بھی شامل تھا۔

13
ہم شہری:جماعت اسلامی کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ نظر آتا ہے کہ یہ جماعت پاکستان کے مفادات کے الٹ چلتی ہے، آپ کیا سمجھتے ہیں؟

حیدر فاروق مودودی:ایوب خان کے دور تک تو یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ اس دور تک ان کا اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ لڑائی جھگڑا تھا۔ لیکن ایوب خان کے بعد یحییٰ خان کے دور میں جماعت اسلامی نے حکومت کے ساتھ مل کر ہی تو اس وقت کے مشرقی پاکستان میں الشمس اور البدر نامی نیم فوجی دستے بنائے تھے۔جنرل یحییٰ نے خود کہا تھا کہ الشمس اور البدر ہم نے بنائی تھی اس کے لیے ہم نے ہی پیسے اور ٹریننگ دی تھی۔خرم مراد جو جماعت اسلامی کا نائب امیر تھا ، وہ الشمس اور البدر کا سربراہ تھا۔حمود الرحمان کمیشن رپورٹ میں لکھا ہے کہ ِاس نے تیس ، تیس بنگالیوں کو لائن میں کھڑا کر کے تھری ناٹ تھری رایفل کی گولیاں ماریں۔الشمس اور البدر نے وہاں تیس لاکھ افراد قتل کئے تھے۔ مطلب یہ کہ جماعت اسلامی پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کا حصہ ہے۔آج وہاں بنگلہ دیش میں مقدمہ چل رہا ہے الشمس، البدر کے لوگوں پر جنہوں نے وہاں قتل و غارت کی ہے، اصل میں مقدمہ تو یہاں چلنا چاہیے تھا۔کتنے افسوس کی بات ہے کہ بندوق بھی پاکستانی تھی، گولی بھی پاکستانی تھی، مارنے والا بھی پاکستانی تھا اور مرنے والا بھی پاکستانی۔مارنے والا اللہ اکبر کہہ رہا تھا مرنے والا لا الہ الا اللہ پڑھ رہاتھا۔ اب طالبان کے ساتھ بھی تو یہی صورتحال ہے۔طالبان بھی تو یہی کہہ رہے ہیں کہ ہم اسلام نافذ کرنا چاہتے ہیں۔اگر ملک اسلام ہی کے نام پر بنا ہے اور اس کا نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اللہ ہے تو پھر جھگڑا کس بات کا ہے، طالبان کو وہ سب کرنے دیجیے جو وہ کرنا چاہتے ہیں۔
سوال:تو آپ کے خیال میں سیاست میں مذہبی جماعتوں کا بالکل کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے؟
جواب: پاکستان کی سیاست میں مذہبی کرداروں نے کیا اودھم مچایا اس کی بہت سی مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ ان واقعات میں ہمیشہ کوئی نہ کوئی خفیہ بیرونی ہاتھ کارفرما ملے گا ۔سی آئی اے کی مالی امداد سے ایوب خان کے خلاف مہم چلی۔ہوا یہ کہ1965 ء کی جنگ کے بعد ایوب خان بھانپ گیا کہ امریکہ قابل بھروسہ ساتھی نہیں ، چنانچہ ایوب خان نے ترکی کا دورہ کیا اور ترک حکومت سے کہا کہ ہم چین سے تعلقات بنانے جارہے ہیں آپ بھی بنائیں ، اس کے بعد ایوب خان نے شاہ ایران سے ملاقات کی اور شاہ ایران سے بھی وہی بات کی، مگر شاہ نے فوراً امریکی ایجنسیوں کو ایوب خان کے ان ارادوں سے مطلع کر دیا۔ سعودی شاہ فیصل نے بھی امریکہ کو بتا دیا کہ ایوب کہہ رہا تھا امریکہ قابل بھروسہ نہیں ہم چین سے وسیع تعلقات قائم کرنے والے ہیں۔اورایوب خان ابھی اس دورے سے واپس بھی نہیں آیا تھا کہ یہاں مخالف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو پیسے بانٹ دئیے گئے اور ایوب کے خلاف وسیع مہم چل نکلی۔ یہی حال بھٹو صاحب کا ہوا۔بھٹو صاحب نے بہت کوشش کی کہ ان پر سوشلزم کا جو ٹھپہ ہے اسے مولویوں کے ساتھ مل کر دھو لیا جائے اور مولویوں کو اپنے ساتھ ملا لیا جائے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ مولوی ان کے سیاسی پروگرام کے لیے رکاوٹ ثابت ہو سکتے ہیں، چنانچہ انہوں نے مذہبی جماعتوں کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کی کوشش کی۔ مولویوں کو خوش کرنے کے لیے ہی بھٹو صاحب نے قادیانیوں کو اقلیت قرار دیا تھا۔ اسی سلسلے میں انہوں نے جماعت اسلامی سے بھی تعلق بنانے کی کوشش کی مگر اسی غلط فہمی میں مارے گئے ۔ پی این اے (پاکستان نیشنل الائنس ، بھٹو مخالف سیاسی اتحاد)نے بھی باہر سے پیسے لے کر بھٹو مخالف مہم چلائی۔ہمیں در اصل یہ پتہ نہیں چلتا کہ کون کس کا ایجنٹ ہے اور کس سے پیسے لے رہا ہے اوراسلام کے نام پر جو نعرے مار رہا ہے اس کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے۔

17
سوال:کیا آپ پاکستانی مذہبی رہنما وٴں کے تصور جہاد اور شہادت سے متفق ہیں؟
جواب :اس سلسلے میں یہ سن لیجئے کہ 1948 ء میں ہمارے والد صاحب کو پہلی دفعہ گرفتار کیا گیا۔قصہ یہ تھا کہ کشمیر پر جناح صاحب نے سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کر رکھا تھا۔ کہ کشمیر میں دونوں ملک نہیں آئیں گے۔ابھی یہ ایگریمنٹ ختم نہیں ہوا تھا کہ نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کی سربراہی میں ایک وفد بھیجا ۔ سردار شوکت حیات نے اپنی کتابThe Nation thatlost its Soulمیں لکھا ہے کہ ولبھ بھائی پٹیل کی سربراہی میں بھارتی وفد نے پاکستان میں لیاقت علی خان کے ساتھ ملاقات کی اور یہ پیشکش کی کہ حیدر آباد ہم لے لیتے ہیں، کشمیر آپ لے لیجئے اور جونا گڑھ پر بات کر لیتے ہیں۔ شوکت حیات نے لکھا ہے کہ میں نے لیاقت علی خان سے کہا کہ بڑی اچھی تجویز ہے فوراً مان لیجئے جس پر ان کا کہنا تھا کہ کشمیر کی خشک پہاڑیوں کے بدلے سونے کی چڑیا حیدر آبادکو کیوں چھوڑ دوں اور کشمیر تو ویسے بھی ساتھ لگتا ہے جب چاہوں گا اس پر قبضہ کر لوں گا۔اس طرح حیدر آباد بھی نہ ملا جونا گڑھ بھی گیا اور کشمیر کا مسئلہ بیچ میں لٹک رہا ہے۔ادھر کشمیر پر بھارت کے ساتھ سٹینڈ سٹل ایگریمنٹ کی معیاد بھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ پاکستان نے قبائلی لشکر کشمیر میں داخل کر دیا ، اس پر ہری سنگھ نے بھارت کو فوری مداخلت کی درخواست کی۔ ادھر وزیر اعظم لیاقت علی خان نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی سے کہا کہ آپ کشمیر میں قبائلی لشکر کی مداخلت کو جہاد قرار دیں۔اس پر انہوں نے کہا کہ جہاد کا اعلان کرنا مولوی کا کام نہیں ہے۔یہ ریاست کا کام ہے۔اسلام میں ریاست کی توثیق کے بغیر جہاد نہیں ہوتا۔اور جس ریاست کے ساتھ آپ کے سفارتی تعلقات ہیں اس کے خلاف جہاد کا جواز نہیں بنتا ،اسلام میں چھپ کر وار کرنے کی ممانعت ہے، اگر کسی ریاست کے خلاف اعلان جہاد ہے تو ضروری ہے کہ اس کے ساتھ آپ کے سفارتی تعلقات نہ ہوں ۔اس پر مولانا مودودی کو جیل میں ڈال دیا گیا۔
سوال:منور حسن کے حالیہ متنازعہ بیانات ملا ملٹری الائنس پر کس طرح اثر انداز ہوئے ہیں؟
جواب:یہ متنازعہ بیان دے کر منور حسن کا مقصد دراصل یہ ہے کہ ان کا وظیفہ بڑھایا جائے کیونکہ یہ اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے۔ فوج کی مدد کے بغیر یہ کچھ بھی نہیں ہیں، اگر فوج چاہے تو آج ہی ختم ہو سکتے ہیں۔ آپ دیکھیں حافظ سعید نے چوبرجی چوک میں قبضہ کیا ہوا ہے اور بھارت کو کھلم کھلا دھمکیاں دیتا پھرتا ہے ، کیا فوج کی مدد کے بغیر یہ سب کچھ کر سکتا ہے؟یہ سب فوج کے اپنے پالے ہوئے لوگ ہیں۔جہاں تک منور حسن کا سوال ہے تو سوال ہی پیدا نہیں ہو سکتا کہ وہ فوج سے بگاڑے۔ یہ جو اس نے کہا ہے تو اس کا مطلب یہی ہے کہ جناب ہمارے پیسے بڑھا دیجئے۔
سوال:آپ کے خیال میں کیا فوج اب بھی ان لوگوں کو ساتھ رکھنے میں دلچسپی رکھتی ہے؟
جواب:یہی تو ہمارا رونا ہے ، کہ فوج ہی ان لوگوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔ فوج یہ تو طے کرے کہ وہ کس کے ساتھ ہے ، وہ کرنا کیا چاہتی ہے۔اگر طالبان کو یہ ملک دینا ہے تو آپ سیدھے طریقے سے دے دیجئے۔اب فوج میں بھی وہ لوگ اوپر آ رہے ہیں جو طالبان کی ذہنیت رکھنے والے لوگ ہیں۔ اگر یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ملک کا قیام اسلام کے نام پر ہوا تو پھر آپ طالبان کو آنے سے کسی صورت نہیں روک سکتے۔ اس طرح یہ ملک افغانستان بن کر رہے گا ،اس کے لیے آپ تیار ہو جائیے۔اور یہاں سے جب یہ انتہا پسندی کے کام کریں گے تو ان کو نشانہ بنانے کے بہانے عالمی طاقتیں بھی یہاں مداخلت کرتی رہیں گی۔آپ دیکھیں کہ نجیب اللہ کے دور تک افغانستان میں اینٹ سے اینٹ نہیں بجی تھی ، مگر اس کے بعد افغانستان کھنڈر بن گیا۔آپ اس نکتہ ٴ نظر سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر یہ بھی مد نظر رکھیں کہ وہ (شدت پسند)آپ کو یہاں تک تو لے آئے ہیں کہ آپ ان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں۔مگر آپ کو سمجھ نہیں آ رہی کہ جو آدمی بندوق اٹھا کر آپ سے مذاکرات کرے گا تو آپ کیوں اس کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں،کیا آپ اتنے ہی کمزور ہو چکے ہیں۔اس طرح وہ بتدریج آگے بڑھ رہے ہیں۔
سوال:کیاطالبان کے خلاف فوج کے حوصلے بلند نظر نہیں آتے؟
جواب:خدا کرے کہ ایسا ہو جائے۔میں کہتا ہوں کہ یہ آخری معرکہ ہے ، آگے بڑھیں اور ان کے ساتھ وہ سلوک کریں جو خوارج کے ساتھ بنی امیہ نے کیا تھا۔
سوال:جماعت اسلامی کے تین امیر آ ئے ہیں، آپ موجودہ امیر کو کیسا دیکھتے ہیں؟
جواب:جماعتیں بنتی ایسے ہیں کہ ایک کے بعد دوسرا ، پھر تیسرا پھر چوتھا اس طرح سلسلہ چلتا ہے لیکن ہمارے ہاں مذہبی جماعتوں کی بنیاد ایسے بنتی ہے کہ ایک کے بعد صفرصفر اورصفر ۔جماعت اسلامی ہی کو لیں، جب میاں طفیل محمد امیر بنے تو ان پر ہمارے والد کا تبصرہ تھا کہ اللہ نے عقل کی جگہ بھی ان کو خلوص ہی عطا کر دیا تھا ۔ان کے بعد قاضی صاحب آئے۔ وہ جہاد افغانستان کا رونا رو کر آئے تھے اور یہ منور حسن صاحب پہلے این ایس ایف(نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن ، بائیں بازو کی طلبہ تنظیم )میں تھے ، وہاں گٹار بجایا کرتے تھے۔ اس کے بعد یہ جمعیت میں آ گئے۔ پہلے این ایس ایف کے وظیفہ خوار تھے پھر جمعیت اور جماعت کے وظیفہ خوار بن گئے۔ ایک پیسہ آج تک انہوں نے رزق حلال کمایا نہیں۔ اب انہوں نے جو کہا ہے کہ طالبان کے خلاف لڑنے والا پاکستانی فوجی شہید نہیں ، کیا کوئی عقل مند آدمی یہ بات کر سکتا ہے۔ اس بیان سے تو یہی نظر آتا ہے کہ بیان دینے والا یا تو سخت غیر محتاط آدمی ہے یا کسی کا ایجنٹ ہے۔
سوال:لیکن وہ اسلامی ریاست کی بات بھی توکرتے ہیں؟
جواب:تو کیا اسلامی ریاست کی بات کرنے کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان کی ریاست کی جڑیں کھودی جائیں۔ پاکستان کی حکومت تو دہشت گر د عناصر کے خلا ف آپریشن کر رہی ہے ، ہمارے فوجی جان دے رہے ہیں اور آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ یہ شہید نہیں ہیں، وہ شہید ہیں جو ہم پر حملے کرنے آ رہے ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آج اگر جماعت اسلامی کی حکومت ہوتی تو کیا منور حسن یہ کہہ سکتے تھے ۔ مگراللہ اس وقت سے اپنی پناہ میں رکھے جب جماعت اسلامی کی پاکستان میں حکومت ہو۔ یہ سب مذہبی جرائم پیشہ لوگ ہیں، یہی بات مولانا ابو الکلام آزاد نے ہمارے والد کو سمجھائی تھی جب جماعت اسلامی کی انہوں نے بنیاد رکھی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ میں نے یہ سب کرکے دیکھ لیا ہے ، کچھ حاصل نہیں ہے، یہ مت کرو تم۔ جب تم یہ کام کرو گے تو سارے مذہبی جرائم پیشہ تمہارے گرد جمع ہو جائیں گے اور ان کو ساتھ لے کر کچھ نہیں ہو سکتا۔ اور آپ دیکھ لیجئے۔ اب جماعت پر جمعیت کا قبضہ ہے، جو کچھ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی اور باقی یونیورسٹوں میں کر رکھا ہے وہی ملک میں کرنا چاہتے ہیں۔
سوال:تو کیا جماعت اسلامی بنا کر مولانا مودودی نے غلطی کی تھی، کیا یہ جماعت نہیں بننی چاہیے تھی؟
جواب:بات یہ ہے کہ مذہب کی رو سے آپ مسلمانوں کے اندر کوئی جماعت نہیں بنا سکتے۔ رسول اللہ ساری امت مسلمہ کو ایک جماعت بنا کر گئے تھے، اور شرک کے بعد تفریق بین الملت سب سے بڑا جرم ہے۔جماعت بنتی ایسے ہے کہ میں صحیح ہوں باقی سب غلط ہیں۔ جماعت اسلامی بھی ایسے ہی بنی تھی ۔ جیسے جناح صاحب نے کہا تھا کہ مسلم ہے تو مسلم لیگ میں آ ایسے ہی جماعت اسلامی نے کہا تھا کہ ہم اسلام پسند ہیں جو ہم سے اتفاق نہیں کرتا وہ اسلام پسند نہیں ہے ، اگر آپ اسلام پسند ہیں تو جماعت اسلامی میں آ جائیے۔ اس کا نتیجہ اب آپ دیکھ لیجئے کہ مسلمان تقسیم ہو کر رہ گئے ۔ کیا مسلمانوں کی تقسیم مسلمانوں کے حق میں بہتر تھی؟
سوال:آپ کے پاس کوئی پولیٹیکل پروگرام ہے جس سے حالات کو بہتر کرنے میں مدد لی جا سکے؟
جواب: میرے پاس تو یہی پروگرام ہے کہ خدارا ٓپ کے پاس جو ملک ہے اس کو بچایا جائے۔ اگر یہ تباہ ہو گیا تو برصغیر کے مسلمان تباہ ہو جائیں گے اس لیے کہ 71 ء کی جنگ کے بعد بھارت کے مسلمان بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے تھے ، ہندو انہیں طعنہ دیا کرتے تھے کہ جاوٴ پاکستان۔ تو اس کو خدارا بچائیے ، اور یہ بچ ایسے ہی سکتا ہے کہ اسے سیکولر ڈیکلئیر کر دیجئے، یہاں مذہب کے نام پر سیاست بین کر دیجئے ، جیسا کہ بنگلہ دیش میں ہوا ہے۔ انہوں نے مجبور ہو کر یہ کام کیا ہے،آپ بھی یہی کام کیجئے ورنہ یہ ملک قائم نہیں رہے گا۔ کیونکہ مذہب کے نام پر نہ ملک بنتے ہیں نہ چلتے ہیں۔ سیکولر لوگوں کو منظم کیا جائے اور ان کے ساتھ پاکستان کو بچانے کی جدوجہد کی جائے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ جنہوں نے اس ملک کے قیام کی اصولی مخالفت کی تھی انہیں یہاں سیاست کا حق نہ دیا جاتا کیونکہ جس ریاست کی آپ اصولی مخالفت کر چکے ہوتے ہیں وہاں آپ سیاست نہیں کر سکتے۔ یہ شرعی مسئلہ بھی ہے کہ ناجائز بچہ وارث نہیں ہوتا۔

14