حکیم اللہ محسود کی ہلاکت ۔۔۔۔ کیا امن مذاکرات کا امکان مکمل طور پر ختم ہو گیا؟

8

سجاد انور
……جمعہ اور ہفتہ  دونوں دن… میران شاہ کا ملحقہ علاقہ طالبان نے پوری طرح کارڈن آف کر رکھا تھا۔ ان کے امیر کی نماز جنازہ جو ہونے جا رہی تھی…
ڈرونز کے نئے حملوں کیساتھ ساتھ وہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں سے بھی مکمل طور پر چوکس تھے…
اسلام آباد میں قائم حکومت  اس کے ریاستی ادارے اپنے ہی ملک کے اندر موجود جنوبی وزیرستان میں جاری ان آخری رسومات میں شامل ہونے یا طالبان کو پرسہ دینے کا سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اپنی تمام تر وضاحتوں اور معذرت خواہانہ رویوں کے باوجود طالبان کے دل میں ان کے لئے کوئی نرم گوشتہ نہ تھا…
سو یہ اسلام آباد میں بیٹھے ڈرون حملے کی مذمت کر سکتے تھے وہ اب تک کر رہے ہیں۔ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد وفاقی حکومت کے مذاکرات کی ساری کہانی آغاز سے قبل ہی اپنی موت آپ مر چکی ہے ۔اب آپ امریکہ کو کو سیں یا اسے پاکستان میں امن کا دشمن قرار دیں… جو ہونا تھا وہ تو ہو چکا…
پہلے نیک محمد…
پھر بیت اللہ محسود…
اور اب حکیم اللہ محسود
اب تک نامزد ہونے والے تحریک طالبان کے تینوں سربراہ امریکی ڈرون حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں…
نہ جانے نئے ٹی ٹی پی چیف کی قسمت کیا ہو گی؟
سیفما کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز عالم کا حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر فوری ردعمل تھا کہ کاش انہیں پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں نے ہلاک کیا ہوتا…ان کے نزدیک حکیم اللہ محسود پاکستان میں سینکڑوں معصوم افراد کے قتل کا ذمہ دار ہے…
حکومت پاکستان کا ردعمل نہ جانے کن مصلحتوں مجبوریوں اور پریشانیوں کا غماز ہے…انہوں نے بیت اللہ کے قتل کو امن مذاکرات کیخلاف سازش قرار دیا ہے۔
پاکستان دفتر خارجہ نے اس ڈرون حملے کی شدید مذمت بھی کی ہے…
…یوں حکیم اللہ محسود پہلے خوش قسمت طالبان کمانڈر ہیں جن کی ہلاکت پر نواز حکومت نے سابقہ حکومتوں کی طرح خوشی کے کا اظہار نہیں کیا…
جنوبی وزیرستان میں جنڈولہ کے کوٹکئی کے علاقے میں 1979ء میں پیدا ہونے والے حکیم اللہ محسود تحریک طالبان میں شامل ہونے سے قبل کریانہ کی ایک چھوٹی سی دکان سے اپنی گزر بسر کرتے تھے البتہ فاٹا کے سابق سیکرٹری بریگیڈیئر(ر)محمود شاہ کے مطابق اب ان کی حیثیت کئی ارب روپے تک پہنچ چکی تھی۔ تحریک طالبان کا سربراہ بننے سے قبل وہ بیت اللہ محسود کے نائب تھے۔ انہیں خیبر  کرم اور اورکزئی ایجنسی میں ٹی ٹی پی کا کمانڈر تعینات کیا گیا تھا۔ وہ طالبان کمانڈر قاری حسین کے کزن بھی تھے۔ وہ شروع میں ڈرائیور کے طور پر بھی خدمات انجام دے چکے تھے اور بیت اللہ محسود کے انتہائی قابل اعتماد تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ حکیم اللہ محسود نے القاعدہ افغان طالبان اور پاکستان کے دیگر جہادی گروپوں جن میں لشکر طیبہ لشکر جھنگوی اور جیش محمد کے ساتھ بھی گہرے روابط قائم کیئے تھے اور ان کی معاونت سے پاکستان بھر میں اپنا جہادی نیٹ ورک قائم کر لیا تھا۔ لیکن حال ہی میں نواز حکومت قائم ہونے کے بعد لشکر جھنگوی سے وابستہ پنجابی طالبان کا ایک بڑا حصہ حکیم اللہ کی کمانڈ سے اختلاف کر رہا تھا اور تحریک طالبان پاکستان کو مجبور کر رہا تھا کہ وہ وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہو جائے۔ کہا جاتا ہے کہ سوات کے کمانڈر میجر جنرل ثناء اللہ نیازی کی ہلاکت اور پشاور میں چرچ پر خودکش حملہ اسی اختلاف کا شاخسانہ تھا۔ تاہم بعد ازاں ماضی قریب میں طالبان کے تمام دھڑے حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے بظاہر تیار نظر آ رہے تھے اور حکیم اللہ محسود نے ایک مثبت بیان بھی دیا تھا کہ مذاکرات سے قبل دونوں فریقوں کو اپنے مطالبات پیش نہیں کرنے چاہئیں لیکن حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے ایک روز قبل تحریک طالبان کے ترجمان نے مذاکرات کیلئے ایک لمبی فہرست بطور شرائط پیش کر دی تھی۔ اسی لیے یہ تاثر تھا کہ یہ مذاکرات بے سود رہیں گے۔بعض حلقوں کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو یہ مذاکرات صرف اسی صورت شروع کرنے چاہئیں جب طالبان ملک بھر میں دہشت گردی کا اپنا نیٹ ورک ختم کرنے پر تیار ہوں۔ تاہم طالبان اس طرح کی کسی پیشگی شرط کو ماننے کیلئے تیار نہ تھے البتہ اس دن جب حکومت طالبان سے مذاکرات کیلئے تین رکنی وفد اسلام آباد سے روانہ کرنے والی تھی کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کی خبر آ گئی۔
حکیم اللہ محسود اس سے پہلے بھی موت کو انتہائی قریب سے دیکھ چکے تھے۔ 14 جنوری 2010ء میں بھی ایک ڈرون حملے میں وہ شدید زخمی ہوئے تھے اور یہ خبر پھیل گئی تھی کہ حکیم اللہ ہلاک ہو گئے ہیں لیکن بعد ازاں 2010ء اور 2011 ء میں طالبان نے جو ویڈیوز جاری کیئے ان سے ثابت ہو گیا کہ وہ زندہ ہیں لیکن اب کی بار وہ اس قاتل ہتھیار کا اسی طرح نشانہ بن گئے جیسے ان کے خودکش بمبار اپنے ہدف کو گلے لگا کر اگلے جہان لے جاتے ہیں۔
پشاور کے باخبر اور سینئر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اب حکومت پاکستان کو وہ حکیم اللہ محسود دستیاب نہیں رہا جو مذاکرات کیلئے آمادہ تھا…لیکن پشاور میں ہی مقیم بریگیڈیئر محمود شاہ کا ماننا ہے کہ حکیم اللہ کی زندگی میں بھی طالبان کے ساتھ مذاکرات کی کامیابی کی امید دس فیصد سے بھی کم تھی…
پاک فوج کے سابق ترجمان میجر جنرل(ر)اطہر عباس کا بھی یہی موقف ہے کہ امریکہ نے اپنے ڈرون حملے سے وہ ہدف حاصل کیا تھا جو پاکستان کا سب سے بڑا دردِ سر تھا۔ لہٰذا ہمیں امریکہ دشمنی میں اس حد تک نہیں جانا چاہیے کہ اپنے قومی مفاد کو نظر انداز کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیک محمد ہو یا بیت اللہ محسود ولی الرحمن ہو یا حکیم اللہ محسود سب پاکستان کی سرزمین میں دہشت پھیلا رہے تھے اور ان کی ہلاکت خواہ جیسے بھی ہو ہمیں خوش ہونا چاہیے۔
حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو صحافیوں اور دانشوروں کا ایک بڑا حصہ نقصان  قرار دے رہا ہے ان کا کہنا ہے حکیم اللہ کی ہلاکت سے امن مذاکرات کا امکان مکمل طور پر ختم ہو گیا ہے۔ جبکہ دانشوروں کا ایک بڑا حصہ اس واقعے کو پاکستانی ریاست کیلئے ایک سنہری موقع قرار دے رہا ہے۔اب یہ حکومت کی دانش کا امتحان ہے کہ وہ اس بڑے واقعے کو اپنے لیے ایک اچھے موقعے  میں کیسے تبدیل کرتے ہیں۔ کیا وہ طالبان کی نئی قیادت کے ساتھ بات کرنے کی پوزیشن میں ہونگے یا طالبان کے تقسیم شدہ حصوں سے الگ الگ بات کر کے دہشت گردی کے اس عفریت سے قوم کو نجات دلا سکیں گے؟ یہی آج کے سب سے اہم سوالات ہیں۔ اس وقت نواز حکومت کے سامنے ناکامی کوئی آپشن نہیں ہے۔ رواں ہفتے میں ہی میں نواز شریف کو نئے آرمی چیف کا اعلان کرنا ہے اور طالبان نے بھی اپنے نئے لیڈر کو چننا ہے ۔
…سو جن کا یہ خیال ہے کہ گزشتہ دس سال سے مسلسل لڑتے ہوئے طالبان اب تھک چکے ہیں اور وہ مذاکرات کے ذریعے قومی سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہتے ہیں ان کا نظریہ بھی اگلے چند دن میں بے نقاب ہو جائے گا۔ لہٰذا حکومت کے سامنے شاید سوات کی طرح طاقت کا استعمال ہی آخری آپشن ہو۔ اگر دانش اور حکمت عملی کو بروئے کار لایا گیا تو پاکستان کے پاس اس وقت حصوں میں تقسیم مختلف جہادی گروپ کو قومی دھارے میں لانے کے عوض دینے کیلئے بہت کچھ ہے۔کیونکہ بہرحال امریکہ نے اپنے تمام کنٹینرز سڑک کے ذریعے کراچی کے ساحل تک پہنچانے تو ہیں لہٰذا تقسیم کرنے کیلئے حکومت اور مسلح جتھوں کے لئے مال غنیمت کافی بڑی تعداد میں آنے والا ہے۔