باغی شاعرہ سارا شگفتہ، ایک اُداس کہانی

باغی شاعرہ سارا شگفتہ، ایک اُداس کہانی

طاہر اصغر

اردو شعر ادب میں بغاوت رقم کرنے والوں کی تعداد اگرچہ بہت کم ہے لیکن باغی ادیبوں نے نا روا اقدار کو نہ صرف قبول کر نے سے انکا ر کیا بلکہ اپنے افکا ر کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا ۔ سارہ شگفتہ کو ایک اداس کہا نی سے تعبیر کر نا بے جا نہ ہوگا ۔اس کی ذاتی زندگی مکروہ رویوں سے نبردآزما ہو نے کی داستاں ہے ۔ زندگی بھر محبت کی تلا ش میں سرگرداں سارہ شگفتہ کے لیے ہر نو ع کا التفات نا یاب تھا …اس کی تلا ش میں اس نے ان ہی دنو ں میں ٹرین کی پٹری پر خود کو پھینک کر موت کو گلے لگا لیا ۔سارہ نے اردو اور پنجا بی میں خوبصورت نظمیں لکھیں ۔ اس کی رازداں وارث شاہ کو پکا رنے والی سرحد کے اس طرف امرتا پریتم تھی ۔ جس سے زندگی بھر اس کی ملا قات نہ ہو ئی ۔ سارہ اپنی زندگی میں بھی گم شدہ تھی اور آج بھی اس کی یا دیں کسی نامعلو م کتا ب کا حصہ ہیں ۔ اس اداس کہا نی کا المنا ک اختتام عورت کے کبھی نہ ختم ہو نے والے استحصال کا ایسا تذکر ہ ہے جو آج بھی دہرایا جا رہا ہے ۔ سارہ شگفتہ آج بھی کسی عورت کی کچلی ہوئی روح میں مو جو د ہے….وہ ایک ایسی نظم تھی جو اپنے لفظ لفظ میں جذبوں کے دیپ جلا تی تھی اور محبت کی آرتی اتارتی ہے . آج اس کی آنکھیں اس کے اشعار میں ہو یدا ہیں اور کچھ کھوجتی ہیں
پاکستان میں شاعرات شاعری کے میدان میں شعری معیار و مقدار کے اعتبار سے شاعروں سے کہیں آگے نکل گئی ہیں جس کی مثال دنیا کے کسی اور ملک میں کسی بھی عہد کے حوالے سے نہیں ملے گی۔ ان شاعرات میں جو جدید تر شاعری سے متعلق ہیں، سارا شگفتہ، عذرا عباس، کشور ناہید، نسرین انجم بھٹی، تنویر انجم، شائستہ حبیب زیادہ نمایاں ہیں لیکن سارا شگفتہ ان سب میں سرفہرست ہے۔ بطور سپر پوئٹس اور کوئین آف پوئٹکس وہ معجزہ سے کم نہیں۔ یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ اس کا مجموعۂ کلام کُل نہیں بلکہ کُل کا ایک جزو ہے اور جوں جوں کلام ترتیب پاتا گیا، سارا شگفتہ کے مزید شعری مجموعے اشاعت پذیر ہوتے گئے اور اس ارفع سطح کی شاعری مغرب میں بھی نہیں ہورہی۔ یہ شاعری ہرچند کہ بیشتر موجودہ جدید تر شعری روایت کی صورت مربوط نہیں لیکن اثر انگیزی میں اپنا جواب نہیں رکھتی، اور اعلیٰ سطح کی مربوط شاعری کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ جاتی ہے اور یہ بھی کہ جدید تر شاعری نے غالب کے پوئٹک بیرئیر کو کراس کرتے ہوئے نئی شعری روایت کو جنم دیا ہے جو اس صدی کا قابل قدر کارنامہ ہے اور سارا شگفتہ اس کی بہترین مثال ہے۔
برصغیر میں سارا شگفتہ کی شاعری کی غیر معمولی شکتی سے کم و بیش لوگ باخبر ہوچکے تھے ۔ مگر مسئلہ ابھی شعری و ادبی تاریخ میں اس کے مقام کے دیانت دارانہ تعین کا ہے جبکہ وہ جیتے جی ایسی بحثوں سے سخت بیزار تھی، جو شاعری کو رجحان سازی اور عصریت کے نارم (NORM ) سے جبراً وابستہ رکھنے کے لیے کی جاتی ہیں۔ اسے ایسے نقادوں سے شدید نفرت تھی جو شعری تنقید خاص کر اردو کی شعری تنقید میں پیٹینٹ مغربی حوالوں سے باز نہیں آتے اور اپنی زبان کے شاعروں کی تخلیقی اہمیتوں کو دانستہ یا غیر دانستہ یا دریافت کر نے کی درد سری سے بچنے کے لیے دھوکا دینے والی تن آسانی میں ان کے نام ایک ہی سطر میں بریکٹ کر دیتے ہیں جبکہ سارا شگفتہ کے نام اور اس کی شاعری کو دوسرے ہم عصروں اور ان کی شعری و ادبی کارروائیوں سے بریکٹ نہیں کیا جاسکتا۔ یہ ضرور ہے کہ اس نے اکثر نظمیں نثری نظم کی فارم میں لکھیں۔ مگر اس کی نثری شاعری گزشتہ تین دہائیوں سے اب تک کی نثری شاعری سے بالکل مختلف نظر آتی ہے۔ اس کی ووکیبلری کی ساخت بے مثل ہے۔ اگر ہم اس کے شعری تھیم کا احاطہ کریں تو اس کا مجمو عہ کلا م آنکھیں ایک کلیدی عرصہ، انتہائی زندگی اور انتہائی موت پر محیط ہیں۔ کم از کم برصغیر میں سارا شگفتہ کے سوا کوئی ایسی عورت نظر نہیں آتی جس نے شعرو ادب کے میڈیم سے اس انتہا پر سچ بلکہ برہنہ سچ بولاہو۔۔۔ کہ اس سے اس کی ذاتی دیو مالائی (Self Myth ) بن گئی ہو۔
سارہ شگفتہ کی یہ نظمیں اس کی مثال ہیں
عورت اور نمک
عزت کی بہت سی قسمیں ہیں
گھونگھٹ ، تھپڑ ، گندم
عز ت کے تابوت میں قید کی میخیں ٹھو نکی گئی ہیں
گھر سے لے کر فٹ پا تھ تک ہما ر ا نہیں
عزت ہما رے گزارے کی بات ہے
عزت کے نیزے سے ہمیں داغا جا تا ہے
عزت کی کنی ہماری زبان سے شروع ہو تی ہے
کو ئی رات ہما را نمک چکھ لے
تو ایک زندگی ہمیں بے ذائقہ روٹی کہا جا تا ہے
یہ کیسا بازار ہے کہ رنگ ساز ہی پھیکا پڑا ہے
خلا کی ہتھیلی پر پتنگیں مر رہی ہیں
میں قید میں بچے جنتی ہو ں
جا ئز اولا د کے لیے زمین کھلنڈری ہو نی چاہیے
تم ڈر میں بچے جنتی ہو اسی لیے آج تمہا ری کو ئی نسل نہیں
تم جسم کے ایک بند سے پکا ری جا تی ہو
تمہا ری حیثیت میں تو چال رکھ دی گئی ہے
ایک خوبصورت چال
جھو ٹی مسکر اہٹ تمہا رے لبو ں پہ تراش دی گئی ہے
تم صدیو ں سے نہیں روئی
کیا ما ں ایسی ہو تی ہے
تمہار ے بچے پھیکے کیو ں پڑ رہے ہیں
تم کس کنبے کی ما ں ہو
ریپ کی ۔ قید کی۔ بٹے ہو ئے جسم کی
یا اینٹوں میں چُنی ہو ئی بیٹیوں کی
بازاروں میں تمہا ری بیٹیاں
اپنے لہو سے بھوک گوندھتی ہیں
یہ تمہاری کو ن سی آنکھیں ہیں
یہ تمہا رے گھر کی کو ن سی چُنا ئی ہے
تم نے میری ہنسی میں تعارف رکھا
اور اپنے بیٹے کا نام سکہ رائج الو قت
آج تمہاری بیٹی اپنی بیٹیوں سے کہتی ہے
میں اپنی بیٹی کی زبان داغوں گی
لہو تھوکتی عورت دھا ت نہیں
چوڑیو ں کی چور نہیں
میدان میرا حوصلہ ہے
انگارہ میری خواہش
ہم سر پہ کفن باندھ کر پیدا ہو ئے ہیں
کو ئی انگو ٹھی پہن کر نہیں
جسے تم چو ری کرلو گے
…………………………………………………………..

تجھے جب بھی کو ئی دکھ دے
اس دکھ کا نا م بیٹی رکھنا
جب میر ے سفید بال
تیرے گالو ں پر آن ہنسیں ، رولینا
میرے خواب کے دکھ پہ سو لینا
جن کھیتوں کو ابھی اگنا ہے
ان کھیتو ں میں
میں دیکھتی ہو ں……
بس پہلی بار ڈر ی بیٹی
میں کتنی بار ڈری بیٹی
ابھی پیڑوں میں چھپے تیرے کما ن ہیں بیٹی
میرا جنم تو ہے بیٹی
اور تیرا جنم تیر ی بیٹی
تجھے نہلا نے کی خواہش میں
میر ی پوریں خون تھو کتی ہیں
…………………………………………….
اگ دی لوڑ
مینوں اگ دی لوڑ اے جیہڑی میرے اندر بجھے
تے فالتو چیزاں ساڑ چھڈے
کدی کدی اگ انکاری وی ہوجاندی اے
تے بعض ویلے اذاناں وی نہیں دتیاں جاندیاں
ہنیرے وچ اکھاں گواچ جاندیاں نیں
پھل ڈگ کے اپنی چھاں گنوا د یندا اے
تے انسان دے بعض کفن مردے نالوں وی
ٹھنڈے ہندے نیں!
ادھے کمرے وچ ادھی روح نہیں ڈکیّ دی
سورج پستیاں وچ وی رہندا اے
چپ انسان نوں مار دی اے
تے انسان چپ کولوں نہیں لُک سکدا
ہنیرے وچ اگے ہوئے پھل چھاں نہیں لبھدے
اگ دے جگر وچ کوئی چیز لکی نہیں رہ سکدی
اگ بجھ جاندی تے واج کما لیندی
تے ایس دور دی زبان کاغذ توں وی نکی اے
ہنیرے وچ اکھاں سٹ کے چیزاں لبھیاں جاندیاں نیں
………………………………………………………….

یہ روز کون مر جاتا ہے
میں ٹوٹے چاند کو صبح تک گنوا بیٹھی ہوں
اس رات کوئی کالا پھول کھلے گا
میں ان گنت آنکھوں سے ٹوٹ گری ہوں
میرا لہو کنکر کنکر ہوا
میرے پہلے قدم کی خواہش دوسرا قدم نہیں
میرے خاک ہونے کی خواہش مٹی نہیں
اے میرے پالنے والے خدا
مرا دکھ نیند نہیں ترا جاگ جانا ہے
کون میری خاموشی پر بین کرتا ہے
کون میرے سکھ کے کنکر چنتا ہے
یہ روز، یہ روز کون مر جاتا ہے
جاگ اپاہچ بچوں کے رب
کہ میری آنکھیں جوان ہوئیں
نیت کی آستین پر رات پھنکارتی ہے
وقت کی سلاخوں پر
انسانوں کے چراغ جلائے جاتے ہیں
میں اپنے لہو سے اپنے جذبے چنتی
تو میرے ہاتھ جل جاتے
اس بھوک کا میرے بچوں کے ساتھ
انکار دیکھ