!بندروں کی دنیا پر حکمرانی کے لیے انسانوں سے جنگ

!بندروں کی دنیا پر حکمرانی کے لیے انسانوں سے جنگ

ف س سلہری۔۔۔۔۔۔۔۔

ہالی وڈ کی مقبول ترین سائنس فکشن فلم ’پلانٹ آف ایپس ‘ ایک دفعہ پھر دنیائے فلم پر راج کرنے کے لئے تیار ہے۔ اس فلم کا نیا پارٹ ’ ڈان آف دی پلانٹ آف ایپس ‘ کے نام سے ریلیز کے لئے تیار ہے۔ یہ فلم سیریز کا مسلسل آٹھواں پارٹ ہے جو اس کی کامیابی کی ایک دلیل ہے۔ یا د رہے کہ یہ کہانی انسانوں سے زیادہ بندروں کے گرد گھومتی ہے جو ایک مختلف اوتارمیں اس دنیا پر حکمرانی کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ فلم کے ہدایتکار ماٹ ریوز ہیں جبکہ اس کی کاسٹ میں اینڈی سرکس، گیری اولڈ مین، جیسن کلارک اور کیری رسل موجود ہیں۔ سنچری فاکس اسٹوڈیو کی جانب سے پروڈیوس کردہ یہ فلم جولائی کی گیارہ تاریخ کو دنیا بھر کے سینما گھروں کی زینت بنے جارہی ہے۔ 
اس فلم کے پلاٹ کا ذکر کریں تو اس میں دکھایا جاتاہے کہ بندروں کی ایک اعلٰی نسل ایک قوم کی صورت میں ابھر رہی ہے جس کا سربراہ سیزر ہے۔ اس نسل کو محسوس ہوتا ہے کہ انہیں انسانوں کے اس بچے کھچے قبیلے سے خطرہ ہے جس میں سے بیشتر انسان ایک دہائی پہلے خطرناک وائرس کی زد میں آکر ہلاک ہوگئے تھے۔ بندر اور انسان آپس میں امن کا ایک معاہدہ کرتے ہیں لیکن وہ وقتی ثابت ہوتا ہے جس کے بعد دونوں اقوام کے مابین جنگ کا خطرہ اُمڈ آتا ہے۔ اس جنگ کو عظیم ترین معرکہ قرار دیا جاتا ہے کیونکہ یہی ثابت کرے گا کہ آیا اس دنیا پر کون حکمرانی کرے گا، انسان یا بندر۔ جب یہ جنگ شروع ہوتی ہے تو ہر طرف جنگ و جدل اور تباہی کا دور دورہ ہوتا ہے، جس میں کبھی اشرف المخلوقات کی جیت یقینی نظر آتی ہے تو کبھی لگتا ہے کہ زمین پر بلآخر بندروں کا کنٹرول ہوجائے گا۔ اس فلم کی کہانی کو گذشتہ حصے کی کہانی سے آٹھ سال بعد شروع کیا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی گئی ہے کہ اس سے بندروں اور انسانوں کی نئی نسل کو ایک دوسرے سے برسر پیکار دکھانے میں آسانی ہوئی ہے اور کہانی میں تازگی کا عنصر محسوس ہوگا۔
لیکن یہ نئی فلم، اس مقبول فلم سیریز کااختتام نہیں بلکہ نکتہ آغاز ثابت ہوگیا، کیونکہ اس کے بعد فلمسازوں نے ابھی سے نئے سیکولز کی تیاری کا آغاز کردیا ہے اور ڈائریکٹر کے بقول انہوں نے پہلے اس سیریز کا یہاں پر اختتام کرنے کا سوچا تھاتھا مگر پھر انہیں جو کہانی پیش کی گئی اسے دیکھ کر انہیں لگا کہ فلم کی مقبولیت میں کمی نہیں بلکہ مزید اضافہ ہوگا، اس لئے نت نئے تجربات کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ فلمی دنیا کے نامور تجزیہ کار ایلف دال کا کہنا ہے کہ اس فلم کی غیر روایتی کہانی اس کا مضبوط نکتہ ہے، دوسری جانب حالیہ سالوں میں فلمسازوں کی کوشش ہے کہ وہ اپنی کامیاب فلموں کے زیادہ سے زیادہ سکیولز متعارف کروائیں کیونکہ کامیاب فلم کے اگلے حصے کو کیش کرانا نسبتاً آسان ہوتا ہے۔ لوگ اس کی جانب کھچے چلے آتے ہیں، اس کے لئے نہ زیادہ تخلیقی کوشش کرنی پڑتی ہے اور نہ ہی پیسہ لگانا پڑتا ہے۔ لیکن اس سے فلم بین ضرور نت نئے آئیڈیاز کی فلمیں دیکھنے سے محروم ہوجاتے ہیں۔
اس فلم کی خصوصیات یہ ہے کہ اس میں بندروں کا انسانی خصوصیات کے زیادہ قریب دکھانے کے لئے انسانوں کو ہی بندروں کا روپ دیا گیا ہے۔ بعدازاں ایڈیٹنگ کے ذریعے یہ انسان ہمیں بندروں کے روپ میں دکھائی دیتے ہیں جس کے لئے خصوصی ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔اس میں اینڈی سرکس، ایک بار پھر بندروں کے لیڈر یعنی سیزر کے روپ میں واپس آرہے ہیں، یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس فلم کے لئے انہیں بے حد خطیر رقم کی پیشکش کی گئی تھی۔اینڈی کو ہم پہلے بھی کئی computer generated کرداروں میں دیکھ چکے ہیں جن میں ’ دی لارڈ آف دی رنگز ‘‘میں گولم کا کردار شامل ہے جبکہ وہ ’ ہابٹُ میں بھی اہم کردار نبھاتے دکھائی دیے۔سٹیوین اسپیلز برگ نے انہیں اپنی اینیمیٹڈ فلم ’ دی ایڈونچر آف ٹائٹن ‘ میں کاسٹ کیا۔ اپنے ایک حالیہ انٹر ویو میں اینڈی کا کہنا تھا کہ لوگ مجھ سے پوچھتے ہیں کہ میں ایسے کردار کیوں کرتا ہوں جس میں، میرا چہرہ تو دکھائی نہیں دیتا جس پر میں انہیں یہی کہتا ہوں کہ فنکار کو اداکاری سے غرض ہونی چاہئے، اپنی ذاتی تشہیر سے نہیں جبکہ میں جن فلموں میں کام کرتا ہوں وہ عموماً کمپیوٹر کی مدد سے بنائی جاتی ہیں اوریہ ٹیکنالوجی کازمانہ ہے اور مجھے زمانے کے ساتھ چلنے میں کوئی مسئلہ نہیں۔
اس فلم میں انسانوں کے لیڈر کا کردار گیری اولڈ مین نے بطور ڈریفس نبھایا ہے۔ یہ بھی فلم کے دومرکزی کرداروں میں سے ہے۔ ڈریفس کی خواہش ہے کہ وہ زمین پر بسنے والے تمام بندروں کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دے اور ایسا کرنے میں اس کا ذاتی مفاد بھی ہے،کیونکہ ڈریفس کے دونوں بیٹے اس مہلک وائرس سے مارے گئے تھے جو اِس کو شک ہے کہ ایپس یعنی کہ بندروں کی نسل نے پھیلایا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اس معاہدے کو بھی جلد از جلد ختم کرنے کا خواہاں ہے جس کی وجہ سے وہ بندروں پر حملہ نہیں کرسکتا۔ گیری اولڈ مین اپنے اس کردار کے بارے میں بے حد پرجوش ہیں جنہیں ہم اس سے قبل کئی اہم فلموں مثلاً ’ائیر فورس ون ‘ میں بھی دیکھ چکے ہیں۔اُن کا کہنا ہے کہ ’میرے اس فلم میں حصہ بننے کا مقصد ایک تو اپنے اندر کے اداکار کو تسکین دینا تھا دوسرا میرے بچے، اس فلم سیریز کے بہت بڑے شائق ہیں، اس لئے میں اگر اُس فلم کو ناں کردیتا تو انہوں نے دوبارہ میری کبھی شکل بھی نہ دیکھنا تھی۔ مجھے لگتا ہے یہ ایک بہترین فلم ہوگی جو طویل عرصے تک لوگوں کو یاد رہے گی۔‘‘ ان کے علاوہ ایک اور اداکار ہ کیری رسل بھی ایلی کا اہم کردار نبھا رہی ہے جو انسان ہوتے ہوئے بھی ایپس کی نسل یعنی بندروں کی ہمدرد ہوتی ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جنگ نہ ہو اور معاملات پر امن طریقے سے حل ہوجائے۔ یعنی انسانوں کی نظر میں وہ غدار ہے اور بندروں کی ہیرو لیکن مجموعی طور پر وہ پوری دنیا کی محسن ہے جو سب کو تباہی سے بچانا چاہتی ہے۔ 
اس فلم کو دنیا کے کچھ حصوں میں تھری ڈی ایفکٹس کے ساتھ پیش کیا جارہا ہے تاکہ دیکھنے والے اس سائنس فکشن فلم کا بھرپور انداز میں حظ اٹھا سکیں۔بہرحال، یہ بات تو طے ہے کہ ’ڈان آف پلانٹ آف دی ایپس ‘ کا ابھی سے شائقین کو بے حد انتظار ہے جس کی وجہ اِس کے گذشتہ حصے ہیں جو لوگوں کوبے حد بھائے تھے۔ لیکن کیا یہ فلم لوگوں کی امیدوں پر پورا اترنے میں کامیاب ہوگی، اس کا فیصلہ تو گیارہ جولائی کو ہی ہوگا جب یہ فلم دنیا بھرمیں ریلیز کی جائے گی۔ اب بندروں کی نسل باکس آفس پر کیسے یلغار کرے گی، اس کا انتظار فلمسازوں کو بھی ہے اور فلم شائقین کو بھی۔