وزیرستان کے متاثرین اور سرکاری مشینری کا زوال پذیرڈ ھانچہ

وزیرستان کے متاثرین اور سرکاری مشینری کا زوال پذیرڈ ھانچہ

ثقلین شوکت۔۔۔۔۔
پاکستان ایسا عجیب و غریب ملک ہے کہ اس کی نظیر ملنا دشوار ہے۔ قدرتی آفات ہوں یا ہمارے اپنے ہاتھوں جنم دیے گئے تباہی کے نسخے کسی سے نپٹنے کے لیے ہمارے پاس کوئی منصوبہ موجود نہیں ہوتا۔ قدرتی آفات کے سلسلے میں تو نااہلی دکھانے کا کوئی جواز ہو سکتا ہے لیکن جو کام ہم بڑے سوچ سمجھ کے کرتے ہیں اس کے اثرات سے نپٹنے کے بارے میں بھی ہم نے کبھی نہیں سوچا۔ ہماری قومی غفلت کا ایک شان دار مظاہرہ وزیرستان کے وہ متاثرین ہیں جو اپنے علاقے میں آپریشن کے آغاز کے بعد وہاں سے چار و ناچار جان بچا کر نکلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ تادم تحریر ان لوگوں کی تعداد چار لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ 
آپریشن کے لیے وفاقی حکومت کی تیاری کا عالم کیا تھا اس کا اندازہ عمران خان کے ایک بیان سے بہ خوبی ہو جاتا ہے۔ ’’ آپریشن کے تمام نقصانات خیبرپختونخوا کی حکومت کو اٹھانا پڑیں گے۔نہ صرف متاثرین بلکہ شدت پسندوں کی جوابی کارروائیوں کا نشانہ بھی یہی بنے گی۔ صوبائی حکومت پر یہ اچانک افتاد آن پڑی، اس لیے اب تک صوبائی حکومت کی کوئی تیاری نہیں ہے۔‘‘ عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ’ ’اصل میں یہ منصوبہ بندی پہلے ہونی چاہیے تھی، جو اصل میں خیبر پختونخوا کی حکومت کی ذمہ داری تھی، جسے پتہ ہی نہیں تھا کہ آپریشن ہو رہا ہے۔‘‘کیا حکومت نے راتوں رات وہاں آپریشن کا فیصلہ کر لیا تھا؟ اگر حکومت طالبان سے مذاکرات میں مصروف تھی تو بھی اس بات کے امکان کو مدنظر رکھ کر تیاری کرنا اس کی ذمہ داری تھی کہ اگر آپریشن کرنا پڑا تو اس کے اثرات سے کیسے نپٹا جا سکتا ہے۔ کیا وفاقی حکومت کو اس آپریشن کے اعلان سے پہلے صوبائی انتظامیہ کو اعتماد میں نہیں لینا چاہیے تھا؟ 
ہماری حکومت کی بد انتظامی اور نااہلی کے حوالے سے اہم بات یہ ہے کہ حکومتی اداروں کو ایسے متاثرین سے واسطہ پہلی بار نہیں پڑا، سوات اور خیبر پختوانخوا کے دوسرے علاقوں میں آپریشن اور قدرتی آفات کے نتیجے میں کئی بار لاکھوں لوگوں کو اندرونی ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ حکومتی اداروں کو ان تجربات کی روشنی میں اپنی تیاری کرنا تھی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایسی کوئی تیاری کسی بھی سطح پر ہمیں نظر نہیں آئی۔
ان لوگوں کی اکثریت نے وزیرستان سے نکلنے کے لیے بنوں کی راہ اختیار کی۔ حکومت کی جانب سے ان لوگوں کو ٹھہرانے کے لیے جو کیمپ لگائے گئے وہاں صورت حال اتنی مخدوش ہے کہ ان متاثرین آپریشن کی اکثریت نے ان کیمپوں کا رُخ کرنا گوارا نہیں کیا۔آفات سے نپٹنے کے قومی ادارے (این ڈی ایم اے) کے ممبر آپریشنز بریگیڈئیر مرزا کامران کے بقول اب تک شمالی وزیرستان سے آنے والے نوے فی صد متاثرین کیمپوں میں نہیں آئے۔ ’’کیمپوں میں خیموں کا انتظام ہوتا ہے،گرمی زیادہ ہے، اس کے علاوہ مقامی ثقافت کے مسائل بھی ہیں، ان چیزوں کے مدنظرلوگ مقامی طور پر مہمان بن جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ لوگوں کو سکیورٹی کے خدشات ہوتے ہیں، لیکن اب کیمپوں کی سکیورٹی کے انتظامات میں پولیس کے ساتھ فوج بھی شامل ہے۔‘‘کیا ہماری حکومت اتنی ہی بے بس ہے کہ اپنے مال اور اپنے گھر بار کی قربانی دے کر آنے والوں کے لیے کسی باپردہ رہائش کا انتظام تک نہیں کر سکتی؟
ان متاثرین کے لیے پہلے تو وزیرستان سے نکلنا ہی جوئے شیر لانے کے مترادف تھا ۔ کرفیو میں نرمی کے دوران گاڑیوں کی طویل قطاروں کے باعث لوگ میلوں پیدل چلنے پر مجبور ہو گئے۔ فاٹا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے ایف ڈی ایم کے مطابق سوا چار لاکھ افراد اب تک نقل مکانی کر چکے ہیں جبکہ مزید ابھی راستے میں ہیں۔ نقل مکانی کرنے والے لوگوں نے بتایا کہ کھجوری چیک پوسٹ سے سیدگئی چیک پوسٹ تک 13 کلومیٹر کا فاصلہ 18 سے 20 گھنٹوں میں طے کر رہے ہیں۔نقل مکانی کرنے والوں میں تقریباً پونے دو لاکھ بچے اور ایک لاکھ سے زیادہ خواتین شامل ہیں۔
خدا خدا کرکے اگر یہ لوگ بنوں پہنچنے میں کامیاب بھی ہو گئے تو یہاں انہیں نئی طرح کے مسائل نے آن گھیرا۔ مرزا کامران نے جن مشکلات کے بارے میں بتایا ہے یہ تو ان مسائل کا عشر عشیر بھی نہیں جن کا ان لوگوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کیمپوں میں راشن کا حصول کسی بھی انسان کی عزتِ نفس کو کچل دینے کے مترادف ہے۔ طویل قطاروں میں لگ کر ایک وقت کے کھانے کے حصول سے بہت سے لوگ بھوکے رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ اب بھی ایسی خبریں تواتر سے آرہی ہیں کہ راشن کے حصول کے پیچیدہ طریقۂ کار کے باعث متاثرین احتجاج پر اتر آئے ہیں۔ یہ کوئی ایسا پیچیدہ مسئلہ نہیں جسے حل کرنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت ہو۔ مختلف جگہوں پر تقسیم کے کاؤنٹر بنا کر اس طویل اکتا دینے والے عمل کو مختصر کیا جا سکتا ہے۔
پاکستانیوں کو پولیو کے باعث پہلے ہی سفری پابندیوں کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اگر شمالی وزیرستان سے آنے والے لوگ اپنے ساتھ یہ بیماری لے کر آئے ہیں اور یہ لوگ بے ہنگم طریقے سے سارے ملک میں پھیل رہے ہیں تو اس کے نتیجے میں پولیو وائرس ان علاقوں میں بھی منتقل ہو سکتا ہے جہاں اس سے پہلے یہ موجود نہ تھا۔ اس وائرس کے پھیلاؤ اور شمالی وزیرستان سے آنے والے اس کے مریضوں کو اس مہلک مرض کا شکار ہونے سے بچانے کے لیے جنگی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ لیکن جو حکومت اور اس کے ادارے خوراک کی تقسیم جیسے سادہ کام میں ناکام ہوتے دکھائی دیتے ہیں ان سے اتنی دور اندیشی اور مہارت کی توقع عبث ہے۔ 
حکومت نے فی خاندان جس گذارہ الاؤنس کا اعلان کیا ہے اور وہ جس طرح ان لوگوں کو ملے گاوہ بھی نہایت پیچیدہ عمل ہے۔ بریگیڈیئر مرزا کامران کے مطابق ’’ہر خاندان کو موبائل فون کی سم دی جائے گی جس سے شناختی کارڈ کی تصدیق ہوگی۔ اگر وہ شخص خاندان کا سربراہ ہے تو پھر اس کو پیغام بھیجا جائے گا کہ وہ آ کر سات ہزار رپے وصول کرے۔ 15 روز کے اندر وطن کارڈ کی طرح پلاسٹک کارڈ بن جائے گا جس کے ذریعے اگلے چھ ماہ تک 11 ہزار روپے فی ماہ اکاؤنٹ کے ذریعے دیے جائیں گے۔‘‘پہلے تو اتنی کم رقم پر ہی سوالیہ نشان کھڑا ہو جاتا ہے۔ دوسرے اس کے ملنے کا طریقہ کار چیخ چیخ کر اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ حکومت ان متاثرین کی بے بسی کا تماشا دیکھنا چاہتی ہے۔ مقصد ان لوگوں کی امداد نہیں انہیں خجل خوار کرنا لگتا ہے۔
رمضان کی آمد آمد ہے۔ اس دوران ان متاثرین کے لیے نئی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔ سارے ملک میں یوں لگتا ہے جیسے افرتفری کی سی کیفیت ہے اور کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ اسے کیا کرنا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ یہ ملک چار منہ والی ایک گاڑی بن چکا ہے۔ جس کا جو جی چاہے وہ کر رہا ہے۔ کیا وزیراعظم اس معاملے میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اعتماد میں نہیں لے سکتے تھے؟ انتظامی معاملات سے انہی لوگوں کو نپٹنا تھا۔ اب سندھ کے وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ ان متاثرین کے لیے کراچی میں گنجائش نہیں۔ اگر کراچی میں امن وامان اور بے ہنگم طور پر بڑھی ہوئی آبادی پر نظر ڈالی جائے تو ان کی اس بات میں وزن لگتا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ کو بنی گالا کے دوروں سے فرصت ملے تو وہ ان متاثرین کی جانب بھی دیکھیں۔پنجاب میں آنے والے متاثرین کے کئی خاندانوں کو ٹیکسلا سے واپس بھجوایا جا چکا ہے۔ ان متاثرین کا قصور صرف اتنا ہے کہ یہ لوگ شمالی وزیرستان میں رہتے ہیں۔ اگر حکمرانوں کی طرف سے وزیرستان کے متاثرین کے ساتھ یہ سلوک جاری رکھا گیا تو شدت پسندی سے متاثرہ افراد جو پہلے ہی سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں سے ناراض نظر آتے ہیں ان کی شکایات میں مزید اضافہ ہو گا۔
حکومت نے ان متاثرین کو اپنے وسائل اور اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر سنبھالنے کا جو فیصلہ کیا ہے وہ الفاظ کی حد تک بہت خوش کن ہے۔ لیکن اگر ان متاثرین کی مشکلات کو جلد از جلد دور کرنے کے لیے کسی بین الاقوامی ادارے سے مدد لینی پڑے تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔ اگر حکمران پر تعیش انداز زندگی کو برقرار رکھنے کے لیے امداد اور قرض لینے میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تو ان متاثرین نے کیا قصور کیا ہے کہ انہیں جرم ضعیفی کی اتنی کڑی سزا دی جائے۔ امداد دینے والے ادارے آکسفیم کا کہنا ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے رہی ہے اور حکومتی اداروں سے رابطے میں ہے، اور اگر حکومت نے مدد کی اپیل کی تو وہ معاونت کے لیے تیار ہوں گے۔