کیا مولانا عبدالکلام آزاد کو سمجھنے میں غلطی کی گئی

کیا مولانا عبدالکلام آزاد کو سمجھنے میں غلطی کی گئی

محمد سلیم الرحمن۔۔۔۔۔

بعض حضرات ایسے معاملات میں دخل دینا اپنا فرض تصور کرتے ہیں جن کے بارے میں ان کا علم واجبی ہوتا ہے۔ یہی ڈاکٹر عبدالقدیر خاں نے کیا۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو اپنا ہیرو تسلیم کرتے ہوے ان کی پیش گوئیوں پر کئی کالم لکھ ڈالے۔ ڈاکٹر موصوف تاریخ سے تقریباً نابلد ہیں اور دورِ حاضر کی سیاست کے ایچ پیچ سمجھنے کی صلاحیت بھی ان میں کم ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے اپنی تحریروں کے آغاز میں میکالی کا ایک اقتباس پیش کیا ہے جس کے بارے میں اب کوئی شبہ نہیں کہ جعلی ہے اور کسی نے اپنی طرف سے گھڑ کے میکالی سے منسوب کر دیا ہے۔ اس کے بعد چرچل کو سراہتے ہوئے اس کا قول اس طرح نقل کیا ہے جیسے، بطور غیب داں، اس پر مستقبل آئینہ ہو چکا ہو۔ چرچل نہایت گھٹیا سطح کا غالی نسل پرست تھا۔ چرچل ایشیا کے لوگوں کو نہایت حقارت کی نظر سے دیکھتا تھا، انگریزوں کے نزدیک بڑا آدمی ہوگا۔ اس کے اقوال و افعال میں جو تضاد تھا اس کے پیش نظر کو صحیح الدماغ آدمی اس کے سے کسی قسم کی عظمت وابستہ نہیں کر سکتا۔سیاسی سوجھ بوجھ اتنی تھی کہ دوسری عالمی جنگ سے پہلے مسولینی کی تعریفیں کرتے نہ تھکتا تھا، ہٹلر کے بارے میں اچھی رائے رکھتا تھااور سوویت یونین اور ستالن کو گالیاں دیتا تھا۔ جہاں تک پیش گوئی کا تعلق ہے تو اس کا پول کھولنے کے لیے چرچل کا 1924ء کا یہ بیان کافی ہوگا: ’’جاپان سے جنگ؟ اس بات کا ہماری زندگیوں کے دوران ذرہ برابر بھی امکان نہیں۔‘‘ آخر میں کسی امریکی پروفیسر (جو نام سے یہودی معلوم ہوتا ہے) کی پاکستان کے خلاف تقریر سے اقتباس پیش کیا ہے۔ یہ پروفیسر کون تھا یا تھا بھی؟ ایسے پروفیسر امریکہ میں ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں۔
بعد ازاں مولانا ابولکلام کی پیش گوئیوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ روایت یہ ہے کہ اپریل 1946ء میں مولانا ابو الکلام نے شورش کاشمیری کو ایک طویل انٹر ویو دیا تھا۔ یہ انٹر ویو 1946ء میں تو کہیں شائع نہیں ہوا۔ البتہ مولانا کے بارے میں شورش کاشمیری کی ایک کتاب میں شامل ہے جو 1988ء میں شائع ہوئی تھی۔ معلوم نہیں کہ اس انٹرویو میں کتنی باتیں فی الحقیقت مولانا نے کہی تھیں اور کتنی شورش کاشمیری نے دانستہ یا نا دانستہ طور پر اپنی طرف سے بڑھا دیں۔ حافظے پر تکیہ کرنا خطرے سے خالی نہیں ہوتا۔
جیسا کہ منیر احمد منیر نے لکھا ہے، اس انٹرویو میں مولانا کی زبانی ایسی باتیں بھی کہلوائی گئی ہیں جو 1946ء کے اوائل میں کسی کے خیال میں بھی نہ تھیں۔ جو پیش گوئیاں مولانا سے منسوب کی گئی ہیں وہ اس قدر سطحی اور عمومی نوعیت کی ہیں کہ انہیں کم و بیش کسی بھی نو زائیدہ ملک پر منطبق کیا جا سکتا ہے بلکہ ان کا اطلاق صدیوں سے قائم ملکوں پر بھی ممکن ہے۔ چناں چہ اس انٹر ویو کی ثقاہت مشکوک ہی رہے گی۔ مولانا سے کتنے ہی اختلافات سہی لیکن، بہر حال، وہ جیّد عالم تھے۔ اس قسم کی باتیں کیسے کہہ سکتے تھے جو ذیل میں درج ہیں۔ مثال کے طور پر دو تین محاکمے نقل کیے جاتے ہیں۔ ’’نا اہل سیاست داں اپنے اعمال سے ملٹری ڈکٹیٹر شپ کو دعوت دیں گے جیسا کہ کئی دوسرے اسلامی ممالک میں ہوا ہے۔‘‘ 1946ء تک ترکی کے علاوہ کسی مسلم ملک کے پاس منظم فوج نہ تھی۔ اگر تھی بھی تو اسے معروف معنی میں فوج سمجھنا بجائے خود لطیفہ ہو گا۔ یہ جملہ مولانا نے نہیں کہا ہو گا۔ اس کے سر مڑھ دیا گیا ہے۔ ’’ہندوستان کے تین اطراف اسلامی دنیا پھیلی ہوئی ہے۔ ہندوستان کی اکثریت مسلمانوں کو مٹا کر کیوں کر پنپ سکتی ہے۔‘‘ مولانا کا جغرافیے کا علم اتنا گیا گزرا نہ تھا کہ ایسی بات کہتے۔ ہندوستان کے مغرب میں افغانستان اور ایران تھے۔ یہ سمت تو صحیح ہے۔ شمال میں تبت تھا، مشرق میں برما اور جنوب میں سری لنکا۔ کیا ان ملکوں یا علاقوں کو اسلامی دنیا سمجھا جائے؟ ایک پیش گوئی یہ بھی ہے: ’’کانگریس کے دوش بدوش سوشلزم اور کمیونزم کی تنظیمیں اور تحریکیں پیدا ہو چکی ہیں اور انہیں آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ مسلمانوں کو جس ہندو سرمائے سے ڈرایا جا رہا ہے یہ تحریکیں اور تنظیمیں اس کے خلاف صف آرا ہوں گی۔‘‘افسوس کہ یہ آرزو اور پیش گوئی خاک میں مل چکی ہے۔ ہندو سرمایہ داری اول تو مضبوط سے مضبوط تر ہوتی جا رہی ہے۔ کوئی بہت بڑا الٹ پھیر ہی اس کی کمر توڑ سکتا ہے۔

اس انٹرویو میں مولانا کی زبانی ایسی باتیں بھی کہلوائی گئی ہیں جو 1946ء کے اوائل میں کسی کے خیال میں بھی نہ تھیں۔ جو پیش گوئیاں مولانا سے منسوب کی گئی ہیں وہ اس قدر سطحی اور عمومی نوعیت کی ہیں کہ انہیں کم و بیش کسی بھی نو زائیدہ ملک پر منطبق کیا جا سکتا ہے

ہمیں مولانا ابو الکلام سے ہم دردی ہونی چاہیے۔ برطانوی تسلط کے دوران میں برصغیر میں مسلمانوں کی صفوں سے جو بڑی شخصیتیں منظرِ عام پر آئیں ان میں مولانا بھی شامل ہیں۔ شاید ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انہوں نے کانگریس اور اس کے قائدین پر ضرورت سے زیادہ اعتبار کیا۔ وہ انہیں مخلص سمجھتے رہے۔ جو فرد اپنی ذات میں مخلص ہو وہ دوسروں کے بارے میں بھی حسنِ ظن رکھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اپریل 1946ء میں یہ تک کہا: ’’کانگریس تقسیمِ ہند کو کبھی اور کسی حالت میں قبول نہ کرے گی۔‘‘ وہ سچ مچ یہی سمجھا گئے۔ لیکن گاندھی، نہرو اور پٹیل کسی اور ہی راستے پر گامزن تھے اور ان کے نزدیک ابوالکلام کی کوئی افادیت نہ رہی تھی۔ مطلبی لوگ کام نکل جانے کے بعد منہ پھیر لیا کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب جوش ملیح آبادی پاکستان منتقل ہونے سے پہلے مولانا سے ملے تو انہوں نے کہا: ’’میری رائے ہے کہ آپ ہجرت کر جائیں…نہرو کے بعد آپ کا یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں رہے گا۔ آپ تو آپ خود مجھے کوئی نہیں پوچھے گا۔‘‘ اور شیخ عبداللہ سے کہا: ’’میں تو اب صدا بصحرا بن کر رہ گیا ہوں۔‘‘ یہ ان کا بڑا المیہ تھا۔ وہ موقع پرست نہ تھے اور خلوصِ دل سے کانگریس کے ساتھ تھے۔ کانگریس نے بالآخر انہیں مایوسی کے سوا کچھ نہ دیا۔ سیاست میں غلطیاں کس سے نہیں ہوتیں۔ مولانا سے بھی ہوئیں۔ حساس آدمی تھا۔ اپنا بھرم رکھنے کے لیے سیاسی مؤقف نہ بدلا۔ شاید یہی ان کے حق میں بہتر ہوا۔ اگر بگڑ بیٹھتے تو انہیں بھی شیخ عبداللہ کی طرح نظر بندی کا مزہ چکھنا پڑتا۔
نثر میں جو اسلوب انہوں نے اختیار کیا وہ انیسویں صدی کے اردو ادب سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ شاید یہ کہنے میں کوئی حرج نہیں کہ مولانا مزاجاً انیسویں صدی کے آدمی تھے۔ بیسویں صدی کی سیاست میں جو بے اصولی اور موقع پرستی در آئی ہے اور مفسدانہ رویے راہ پا گئے ہیں ان سے وہ نباہ نہیں کر سکے۔
مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان از منیر احمد منیر۔ ناشر، آتش فشاں، لاہور۔ صفحات 292، چار سو روپیے۔