زرداری کا اسٹیبلشمنٹ سے جھگڑا کیا ہے

زرداری کا اسٹیبلشمنٹ سے جھگڑا کیا ہے

امام بخش۔۔۔۔۔

مقتدر قوتوں کے سامنے آداب و تسلیمات کے خْوگر نوازشریف نے پرویز مشرف کے محاسبے کے سلسلے میں آنکھیں دکھائیں تو ’’پْروقار‘‘ اِشارے پر عمران خان نیازی نے دھرنے کا نقارہ بجادیا۔ اِنھی مقتدر قوتوں کی ہدایت پر ہی میڈیائی بھونپوں نے اُفق تا اُفق غلغلہ بپا کر دیا، ان کی گنتی کو ایسی ضرب لگی کہ دھرنے میں درجنوں کو ہزاروں اور سینکڑوں کو لاکھوں لوگ کہہ کر دھوم مچا دی گئی۔ اِس دوران عمران خان نیازی کا کردار بھی مزید کْھل کر اس طرح سامنے آیا کہ دھرنے کے دوران 126 دنوں تک مہنگے طبلے کی تھاپ پر گائی گئی قوالیوں میں سے ایک دعویٰ بھی سچ نہ نکلا۔
دھرنے کے دوران مقتدرین کے کڑے تیوروں نے نُونیوں کو لرزا کر رکھ دیا۔ نوازشریف حکومت کا اَنت سمے قریب آ پہنچا۔ بس’’اناّللّہ واِناّ الیہ راجعون‘‘ ہونے ہی والا تھا کہ آصف علی زرداری نے فقط وطنِ عزیر میں جمہوریت کی بقا کے لیے نُونی حکومت کو پارلیمنٹ کے ذریعے بچا لیا۔ نُونیوں نے اپنے خلاف مْستقبل میں درپیش ممکنہ طوفانوں کے ڈر سے پرویزمشرف کے احتساب کا دفتر ٹھپ کیا اور خود سپردگی، بزدلی اور بے حمایتی کی کیفیت میں ’’پْروقارسرکار‘‘ کے حضور سر بسجود ہوگئے۔ ناک سے بوٹوں پرلکیریں نکالیں، گڑگڑا کر فریادیں کیں کہ غلطی معاف فرمائی جاوے، آج کے بعد ماضی کی طرح حضور کا ہر حکم آنکھیں بند کر کے بِلا چْوں چراں بجا لایا جائے گا۔ معافی قبول ہوئی اور نُونیے اپنا وعدہ پوری طرح نبھا رہے ہیں اور آج اِن کی حیثیت پُروقار سرکار کے بُوٹوں کے تسموں کے سِوا کچھ بھی نہیں۔ ہاں البتہ یہ تسمے مہنگے ریٹوں پر بھاری قرضے لینے، اُن قرضوں سے دْنیا بھر سے کئی گنا مہنگے مگر ناکارہ پروجیکٹ لگانے اور میڈیا پراربوں روپے خرچ کر کے بَلے بَلے اپنی مرضی سے کروائے جا رہے ہیں۔ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی تازہ رپورٹ کے مطابق اکیلی وفاقی وزارت اطلاعات ونشریات نے میڈیا ہاؤسز میں قومی خزانے سے 308 ملین روپے بانٹ دیئے ہیں۔ میڈیا کو بھی فقط اپنی جیب میں آنے والے مال مُفت سے دلچسپی ہے، ورنہ اِس شوبازی کے کھیل کو یہ ’’لفافے‘‘ بھی سمجھتے ہوں گے کہ شوبازی کرنے والے تو واہ واہ کروا کرچلے جائیں گے مگر آنے والی نسلیں یہ قرضے اُتارتے اُتارتے قبروں میں اُتر جائیں گی۔ قومی خزانے سے لٹائے گئے اربوں روپوں کا ہی یہ کمال ہے جو سپریم کورٹ کے کمرانمبر ایک میں لگنے والے کھڑکی توڑ شو میں مشہورِزمانہ ’’رینٹل پاورز فلم‘‘ کے جھوٹے طوفان سے تین گنا زیادہ لاگت کے نندی پور پاور پلانٹ کا ناقابلِ ترید حشرنشر سامنے آنے کے باوجود پورا میڈیا صُمً بُکمً کا نشان بنا بیٹھا ہے۔
بڑی باریک بینی اور اہتمام سے بچھائے گئے اپنے دھرنا نامی جال کے بُری طرح بخیے اپنی آنکھوں کے سامنے اُدھڑنے پر کینہ پرور مقتدرین کو بہت طیش آیا اور اُنھوں نے بجا طور پر یہ حقیقت جان لی کہ پورے پاکستان میں اُن کی راہ میں آصف علی زرداری نامی فقط ایک کانٹا رہ گیا ورنہ ہر سیاسی پارٹی اِشارہ پاتے ہی حکم بجا لانے کی عادت اختیار کر چکی ہے (صرف اے این پی کو آپ اِس لِسٹ سے نکال سکتے ہیں)۔ جی ہاں یہ آصف علی زرداری ہے جو اُن کی مَن مانیوں کی راہ کھوٹی کرتا ہے۔ ’’تقدس‘‘ کو پامال کرتا ہے۔ حکومت میں ہوتے ہوئے آئی ایس آئی کو سول حکومت کے ماتحت کرنے کے سرکلر جاری کرواتا ہے، فارن پالیسی کے ذریعے کیری لوگر بِل پاس کرواتا ہے، سیکریٹ ایجنسیوں کے بجٹوں کے آڈٹ کروانے کی قانون سازی کروانے کے ’’ناقابل معافی جرم‘‘ کا مرتکب ہوتا ہے، پاکستان کے کور ایشوز کو ایڈریس کرتا ہے، قانون سازی کرتے ہوئے اپنے اختیارات تک قربان کردیتا ہے اورملکی مفادات پر خطرناک حد تک اپنی سیاسی پارٹی کے مفادات تک کو حائل نہیں ہونے دیتا۔ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی کمالِ دانائی سے ہر اہم معاملے کے فیصلے کو پارلیمنٹ کی منظوری سے نتھی کردیتا ہے (دھرنا، یمن جنگ اور چین کے ساتھ نون لیگ حکومت کے پوشیدہ معاہدے تازہ مثالیں ہیں)، جس کی وجہ سے جَمْورا حکومت اور مقتدرقوتوں کی من مانیوں پر قدغن لگتی ہے۔ سب سے بڑھ کرجمہوریت کی راہ ہموار کرنے کے ساتھ ساتھ زرداری ہی اِسے اِرتقائی طریقے سے مضبوط سے مضبوط تر بھی کیے جا رہا ہے۔ اِس لیے مقتدرقوتیں اور اِن کے حواری آج کل آصف علی زرداری کو پہلے سے زیادہ سخت سزا دینے کے لیے بے چین ہیں۔ اِس لیے نت نئے ’’چابی والے روبوٹ‘‘ دریافت ہو رہے ہیں، پھرسے گِھسے پٹے جھوٹے مقدموں کو کھول دیا گیا ہے۔ پروپیگنڈا فیکٹریوں کی پیداوار بڑھ گئی ہے۔ اِس پر آمرانہ دور میں آسودگی سے زندگی کی رعنائیوں سے لطف اندوزہونے والوں کی آنکھیں بھی چمک اُٹھی ہیں۔ دروغ گوئی کے عالمی چیمپئن میڈیائی بھونپوں کے قلم تیز اور آواز بلند سے بلند تر ہورہی ہے۔
اربوں، کھربوں، ڈالروں کی بربادی کے باوجود پورا پاکستان دہشت گردی کی آگ میں بُری طرح جل رہا ہے۔ مگر مقتدر قوتوں نے اپنی پوری توجہ صرف اور صرف صوبہ سندھ پر اور وہ بھی دہشت گردی کی بجائے وہاں کی سِول حکومت پر فوکس کردی ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کی منظوری سے حکومت نے کراچی میں آپریشن کے لیے فوج اور رینجر کو کلی طور فری ہینڈ دیا ہوا ہے۔ مزید برآں مِلٹری کورٹس کی فرمائش بھی پوری کردی گئی ہے۔ اس کے باوجوداپنے فرائض یکسر پسِ پشت ڈالنے والے ’’پْروقار ماتحت‘‘ آئے روز اپیکس کمیٹی کی میٹنگوں میں عوام کے خون پیسنے سے خریدی ہوئی بندوق کی طاقت کے خمارمیں عوام ہی کے منتخب نمائندوں کو ایسے ڈانٹ ڈپٹ کر رہے ہیں، جیسے وہ ان کے ماتحت یا غلام ہیں۔
اِرشاد ہوا ہے کہ ’’کراچی میں سیاسی اور انتظامی نااہلی نے مسائل میں اضافہ کردیا ہے، متوازی حکومتوں اور ان کے طاقت کے مراکز کا خاتمہ ناگزیر ہے، پولیس کو غیر سیاسی کرنا ہوگا۔متوازی حکومتوں اور طاقت کے مراکز کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ کراچی میں ہر قسم کے جرائم پیشہ افراد کے خلاف آپریشن جاری ہے، جس میں ناکام ہونے کا آپشن نہیں ہے۔‘‘ اِس باکمال فرمان پر ہمیں مرزا غالب بے اختیار یاد آگئے ہیں۔
ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے
مرزا غالب کیوں یادآئے، وہ بھی آپ کو بتائے دیتے ہیں کہ وطنِ عزیز میں ساری بُرائیوں کی پنیری لگانے والی اْم الخبائث یعنی جنرل ضیاء الحق نامی ایک آرمی چیف نے سندھ میں کراچی میں ’’سیاسی اور انتظامی مسائل‘‘ اپنے کنٹرول میں رکھنے کے چکر میں ایم کیو ایم کو ناجائز بچے کے طور پر جنم دیا اور نازونعم سے پرورش کی۔ دوسرے آرمی چیف جنرل آصف نواز جنجوعہ نے کراچی کا بے رحمانہ آپریشن کر کے ایم کیو ایم کو بالکل ایکسپوز کردیا، پاکستان توڑنے اور علیحدہ ملک جناح پور بنانے کے نقشے برآمد کیے اور ایم کیو ایم کو غدار قراردے دیا۔ تیسرے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف نے 1999ء میں پورے میڈیا کے سامنے فرمایا ’’آپ۔مجھے اِجازت دیں، میں لندن میں اپنے پستول سے الطاف حسین کو قتل کرآؤں‘‘۔ مگر بعد میں اُسی سال کے دوران جب دہشت گردی کو بامِ عروج تک پہنچانے والے پرویزمشرف نے اپنے حلف کی دھجیاں اْڑاتے ہوئے جمہوریت پر ڈاکہ مارا، تو ایم کیوایم کے خلاف ملک توڑنے کی گھناؤنی سازشوں کے ثبوتوں کو پس پشت ڈال کر اْسے محب وطن قراردے دیا اور پھر اس کے ساتھ نوسال تک اقتدار کے جھولے جھولتا رہا۔ اس دور میں ایم کیوایم کو اِتنی کھلی چھٹی دے دی گئی کہ اُس نے ہر غیرقانونی کام ڈنکے کی چوٹ پر کرنا شروع کر دیا۔ اب نئے چیف صاحب تشریف لائے ہیں ، دیکھتے ہیں کہ ایم کیوایم کے بارے میں اُن کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے ؟
یہاں یہ یاد رہے کہ1992ء میں آرمی کی طرف سے کیا گیا آپریشن ناکام رہاتھا جبکہ 1996ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے کراچی میں باکمال آپریشن کر کے ایم کیو ایم ایسی ناسور پارٹی کی دہشت گردی کا خاتمہ کر دیا تھا۔ٹارچر سیل ختم کردیئے، نوگو ایریاز کھول دیئے،ٹارگٹ کِلرز کو گرفتار کیا، قبضہ اور بھتہ مافیاز کو قانون کے شکنجے میں کس کر عدالتوں میں لا پھینکا۔ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے اُس وقت کے وزیرِ داخلہ جنرل نصیراللہ بابر مرحوم کو ایم کیوایم کے نام نہاد لیڈر دیکھتے ہی مارے دہشت کے، مثانے کا پریشر ریلیز فرمادیا کرتے تھے۔ مگر پی پی پی کی حکومت کے جانے کے بعدجب نون لیگی حکومت آئی تو سندھ میں، اْس نے ایم کیوایم کو شریکِ اقتدار کرلیا۔ ایم کیو ایم کو قومی اسمبلی کے فلور پر دہشت گرد تنظیم کہنے والے نوازشریف نے ایم کیو ایم سے معافی مانگی اور آپریشن کے دوران مارے جانے والے دہشت گردوں کا معاوضہ قومی خزانے سے اربوں روپوں کی صورت میں ادا کیا۔ ایم کیوایم کو ایک بار پھر کھلی چھٹی دے دی گئی۔ پی پی پی دور میں آپریشن میں حصہ لینے والے 495پولیس اہلکاروں کو چُن چُن کر شہید کردیا گیا۔ اب بھی کوئی یہ نہ سمجھے کہ ڈوریاں کہاں سے ہلتی ہیں ؟ کِس وجہ سے ہلتی ہیں اور ہلتی ہلتی یکدم رک کیوں جاتی ہیں؟ ایسی کْھلی حقیقتیں کھل جانے کے بعد ڈوریاں ہلانے والے ہی پْرزور مطالبات پر اُتر آجائیں کہ اُن کی ہاں میں ہاں ملائی جائے، تو یہ سمجھناکون سا مشکل ہے کہ اِس سارے کھیل میں ایک زِیرک سیاستدان یقیناً ’’مداری‘‘ کا ساتھ دینے کی بجائے ’’جمورے ‘‘کا ساتھ دے گا تاکہ ’’تماشے‘‘ کا کچا چٹھہ کْھل کر باہر آسکے (زیرک سیاستدان کا اندازہ درست نکلا اورجمورا ایسا بولا کہ مداری کے دانتوں تلے پسینہ آگیا)
نیا حکم یہ دیا جارہا ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘کی وطنِ عزیز میں کارروائیوں کا مؤثر جواب دینے کے لیے ، اِس ایشو کو عالمی سطح پر اٹھایا جائے۔ اب کوئی دِل جلا یہ سوال کردے کہ’’پْروقارسرکار‘‘نے 1977ء سے ملک کی خارجہ پالیسی کْلی طور پر اپنے ہاتھ میں لے رکھی ہے، تو ایسے میں ہماری وزارتِ خارجہ اِنڈیا کے پروفیشنل سفارت کاروں کا مقابلہ کرنے کی ذرا سی اہلیت کا بھی مظاہرہ کرسکتی ہے؟
حیرانی سی حیرانی ہے کہ بھارتی خفیہ ادارے ’’را‘‘ ایسے پاکستان دْشمن ادارے کو وار کرنے سے قبل ہی منہ توڑ جواب دینے کی، جن کی اوّلین ذمہ داری ہے، وہی بھولی پاکستانی عوام کو ’’را‘‘کی کامیابیوں کی داستانیں تھوک کے حساب سے سنا کر گویا داد طلب فرما رہے ہیں۔
آج کا سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ذی شعور اور پاکستان کے لیے دردِ دل رکھنے والا ہر پاکستانی آخر اپنی ہی فوج سے دہشت زدہ کیوں ہے؟ ہم نے آج تک کوئی پارلیمنٹیرین، بیوروکریٹ اور صحافی ایسا نہیں دیکھا جو درست ترین سمت میں بھی قدم اٹھانے سے قبل کئی بار سوچنے پر مجبور نہ ہو کہ اس کے اس قدم سے ’’پروقار سرکار‘‘ کہیں ناراض نہ ہوجائے؟
دْنیا کے ساٹھ سے زائد ممالک میں قدم جمائے بیٹھی امریکی فوج کے جرنیل بھی کیا ہمارے سالاروں کے سے انداز میں سوچتے اور عمل کرتے ہیں۔ کیا وہ بھی اپنے اجلاسوں میں حکومتی کارکردگی کو دیکھتے اور اس پر رائے زنی کی ہمت رکھتے ہیں۔ ملک کے معاشی ، داخلی اور خارجی معاملات ازخود ترتیب دیتے ہیں؟ اپنے ہی عوام کی آزادئ اظہار پر پابندی لگاتے ہیں؟ ملکی میڈیا میں ایک بھی غیرجانبدار اور ضمیر کی آواز پر لبیک کہنے کے عادی کسی صحافی کو بھی نہیں رہنے دیتے؟ کیا وہاں بھی پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں نوے فیصد سے زیادہ جھوٹی خبروں، فیڈڈ کالموں اور من پسند تجزیوں کی بھرمارزبردستی کروائی جاتی ہے؟
جس ملک میں عوام پر جبر روا رکھاجائے مگر آئین شِکن (جس کے جرم کی چشم دیدگواہ پوری قوم ہو) کو عزت ، وقار اوروی آئی پی پروٹوکول سے نوازا جائے، کیا اُس ملک کی بربادی کے لیے’’را‘‘ ایسی کسی دْ شمن سیکرٹ ایجنسی کی ضرورت ہے؟ اِس طرح یہ بھی روزِروشن کی طرح واضح ہے کہ وطنِ عزیز موجودہ حالات تک پہنچانے میں سب سے بڑا کردار آئین شِکنوں کا ہے۔ جب تک آئین وقانون کی بے حْرمتی کرنے والوں کی حوصلہ شکنی نہیں ہو گی۔ نئے جمورے جنم لیتے رہیں گے، ملک میں لاقانونیت پروان چڑھتی رہے گی ، کرپشن بڑھتی رہے گی، دھاندلی زدہ پارلیمنٹ بنتی رہے گی، دہشت گردوں کی پنیری لگتی رہے گی، جانبدار آپریشنوں کا کھیل جاری رہے گا، ’’را‘‘ مزید مضبوط ہوکر اپنی کامیابی کے جھنڈے گاڑتی رہے گی اور ملک مزید پستیوں میں گِرتاجائے گا۔پاکستان کو اِنصاف تب ملے گا، جب آئین شِکن سزاپائیں گے۔ کیا اِتنی سی بات سمجھنا مشکل ہے کہ کسی بھی اِدارے کے لیے عوام میں ہردلعزیز بننے کا واحد راستہ یہ ہے کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہ کر ذمہ داریاں ادا کرے۔ آئین اور عوام کااحترام کرے تو عوام ہر جنگ میں اس کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ اپنی ذمہ داریوں کا بیڑا غرق کرنے اور دوسروں کی ذمہ داریوں کو زبردستی چمٹنے والے ’’ بیک اینڈ‘‘ پر بیٹھے ہوؤں کوبھی عوام اْتنی ہی محبت اور عزت دیں گے، جتنی وہ فرنٹ لائن پر قربانیاں دینے والے سپاہیوں کو دیتے ہیں۔

دھرنے کے دوران مقتدرین کے کڑے تیوروں نے نُونیوں کو لرزا کر رکھ دیا۔ نوازشریف حکومت کا اَنت سمے قریب آ پہنچا۔ بس’’اناّللّہ واِناّ الیہ راجعون‘‘ ہونے ہی والا تھا کہ آصف علی زرداری نے فقط وطنِ عزیر میں جمہوریت کی بقا کے لیے نُونی حکومت کو پارلیمنٹ کے ذریعے بچا لیا۔ نُونیوں نے اپنے خلاف مْستقبل میں درپیش ممکنہ طوفانوں کے ڈر سے پرویزمشرف کے احتساب کا دفتر ٹھپ کیا اور خود سپردگی، بزدلی اور بے حمایتی کی کیفیت میں ’’پْروقارسرکار‘‘ کے حضور سر بسجود ہوگئے۔ ناک سے بوٹوں پرلکیریں نکالیں، گڑگڑا کر فریادیں کیں کہ غلطی معاف فرمائی جاوے، آج کے بعد ماضی کی طرح حضور کا ہر حکم آنکھیں بند کر کے بِلا چْوں چراں بجا لایا جائے گا۔ معافی قبول ہوئی اور نُونیے اپنا وعدہ پوری طرح نبھا رہے ہیں اور آج اِن کی حیثیت پُروقار سرکار کے بُوٹوں کے تسموں کے سِوا کچھ بھی نہیں

آخر میں ہم یہ کْھلی حقیقت سب متعلقین کو یاد کرانا ضروری سمجھتے ہیں کہ تاریخ ہمیشہ سچ اْگلتی ہے۔ ’’کن فیکون‘‘ والے اختیارات رکھنے والے آئین شکن اپنے پیشروؤں کاانجام ہی دیکھ لیں، جوغیرآئینی طور پر وطنِ عزیز کے کْلی طور پرسیاہ و سفید کے مالک تھے، اخبارات کے ڈکلریشن منسوخ کرتے تھے، صحافیوں کو کوڑے لگاتے تھے، جھوٹے وائٹ پیپر چھاپتے تھے، سنسر شِپ کے ذریعے اخبارات کے پورے کے پورے صفحات پر سیاہی پھیر دیتے تھے۔ نیز رائے عامہ بنانے کے لیے بدبودار صحافیوں کی موج ظفرموج رکھتے تھے۔ وہ سب آج اپنے قصیدہ نگاروں سمیت تاریخ کے کوڑے دان پر لاوارث پڑے گل سڑ رہے ہیں۔ ان کی اولاد تک اُن کا دفاع کرنے سے قاصر ہے۔ اِ س کے برعکس آئین سازی اور اس کی پاسداری کرنے والوں کا تاریخ میں عظیم مقام اظہرمن الشمس ہے۔ مت بھولیں کہ تاریخ آنے والے کل میں بھی اپنی یہی روش جاری وساری رکھے گی۔