جون ایلیا، ایک سیماب صف شاعر

جون ایلیا، ایک سیماب صف شاعر

طاہر اصغر۔۔۔۔۔

علم و ادب کا بحر بیکراں اس کی سو چ و فکر میں رواں تھا۔ بنیا دی طور پر وہ شاعر تھا۔ جس کی شاعری میں اس کی اپنی فکر کا پرتو تھی۔ وہ انکار پسند تھا۔ لیکن روایت کو نیا مفہوم دینے میں بھی کو شاں رہتا تھا۔ وہ ان راستوں پر قدم نہیں رکھتا تھا جہا ں دوسرے گزرتے ہوں ، یو ں اس نے اپنے لیے ایک الگ راہ دریافت کی تھی۔ جو ن ایلیا کا شما ر اردو کے عظیم المرتبت شعرا میں ہو تا ہے۔ ادبی افق کا وہ ایک روشن ترین ستارہ ہے۔ اسے کو ئی نقا د میسر نہ آیا اور نہ ہی اس نے کبھی اس کی پرواہ کی تھی۔ وہ ایک ایسا شاعر تھا جس کاانتخاب سخن نے خود کیا اور ایک آمد کا سلسلہ تھا جو اس کے خلاق ذہن میں مو جزن رہتا تھا۔ اس نے معروف شاعری کرنے کا کبھی نہیں سوچا لیکن اس کی شخصیت اور سوچ نے اس کے اشعار کو معروف بنادیا اور خود وہ اپنے عہد کا ایک نمائندہ شاعر بن گیا۔ کسی بھی مشاعرے میں جب وہ مو جو د ہو تا تو پھر کسی شمع کی ضرورت نہ تھی کہ اس کے آگے رکھی جا ئے کہ اس کے اشعار کے چراغ بجا ئے خود جھلملاتے تھے اور اس کا لہجہ اس کی سوچ کا غماز بن کر باز گشت کی صورت اختیا ر کر جا تا تھا۔
جون ایلیا برصغیر میں نمایاں حیثیت رکھنے والے پاکستانی شاعر، فلسفی، سوانح نگار اور عالم تھے۔ وہ اپنے انوکھے انداز تحریر کی وجہ سے سراہے جاتے تھے۔ وہ معروف صحافی رئیس امروہوی اور فلسفی سید محمد تقی کے بھائی تھے۔ بالی وڈ کے معروف ہدایت کار اور شاعر کمال امروہی بھی ان کے چچازاد بھائی تھے جنہوں نے ’’پاکیزہ ‘ ‘فلم سے شہرت پا ئی تھی اور اداکارہ مینا کماری سے شادی کی تھی۔ جون ایلیا کو عربی، انگریزی، فارسی، سنسکرت اور عبرانی زبانو ں پر دسترس حاصل تھی۔ ان کے مجموعہ ہا ئے کلا م ’’شاید‘‘ یعنی۔ ’’گمان ‘‘۔’’گویا‘‘ اور’’لیکن ‘‘ہیں جبکہ نثری مضامین ’’ فرنوط ‘‘کے نام سے شائع ہوئے۔

جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’شاید‘‘ اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔’ نیازمندانہ ‘کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے

جون ایلیا 14 دسمبر، 1937ء کو امروہہ، اتر پردیش کے ایک نامور خاندان میں پیدا ہوئے۔ وہ اپنے بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ ان کے والد، علامہ شفیق حسن ایلیا کو فن اور ادب سے گہرا لگاؤ تھا اس کے علاوہ وہ نجومی اور شاعر بھی تھے۔ اس علمی ماحول نے جون کی طبیعت کی تشکیل بھی انہی خطوط پر کی۔ انہوں نے اپنا پہلا اردو شعر محض 8 سال کی عمر میں لکھا۔ اپنی کتاب شاید کے پیش لفظ میں رقم طراز ہیں:
’’میری عمر کا آٹھواں سال میری زندگی کا سب سے زیادہ اہم اور ماجرا پرور سال تھا۔ اس سال میری زندگی کے دو سب سے اہم حادثے، پیش آئے۔ پہلا حادثہ یہ تھا کہ میں اپنی نرگسی انا کی پہلی شکست سے دوچار ہوا، یعنی ایک قتالہ لڑکی کی محبت میں گرفتار ہوا۔ دوسرا حادثہ یہ تھا کہ میں نے پہلا شعر کہا:
چاہ میں اس کی طمانچے کھائے ہیں
دیکھ لو سرخی مرے رخسار کی……
جون اپنے لڑکپن میں بہت حساس تھے۔ ان دنوں ان کی کل توجہ کا مرکز ایک خیالی محبوبہ کا کردار صوفیہ تھی، اور ان کے غصے کا نشانہ متحدہ ہندوستان کے انگریز قابض تھے۔ وہ ابتدائی مسلم دور کی ڈرامائی صورت میں دکھاتے تھے جس کی وجہ سے ان کے اسلامی تاریخ کے علم کے بہت سے مداح تھے۔ جون کے مطابق ان کی ابتدائی شاعری سٹیج ڈرامے کی مکالماتی فطرت کا تاثر تھی۔
ایلیا کے ایک قریبی رفیق، سید ممتاز سعید، بتاتے ہیں کہ ایلیا امروہہ کے سید المدارس کے بھی طالب علم رہے۔ یہ مدرسہ امروہہ میں اہل تشیع حضرات کا ایک معتبر مذہبی مرکز رہا ہے۔چونکہ جون ایلیا خود شیعہ تھے اسلئے وہ اپنی شاعری میں جابجا شیعی حوالوں کا خوب استعمال کرتے تھے۔حضرت علی کی ذات مبارک سے انہیں خصوصی عقیدت تھی اور انہیں اپنی سیادت پر بھی ناز تھا۔۔ سعید کہتے ہیں’’جون کو زبانوں سے خصوصی لگاؤ تھا۔ وہ انہیں بغیر کوشش کے سیکھ لیتا تھا۔ عربی اور فارسی کے علاوہ، جو انہوں نے مدرسہ میں سیکھی تھیں،انہوں نے انگریزی اور جزوی طور پر عبرانی میں بہت مہارت حاصل کر لی تھی۔‘‘
اپنی جوانی میں جون کمیونسٹ خیالات رکھنے کی وجہ سے ہندوستان کی تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن بعد میں اسے ایک سمجھوتہ کے طور پر قبول کر لیا۔ ایلیا نے 1957ء میں پاکستان ہجرت کی اور کراچی کو اپنا مسکن بنایا۔ جلد ہی وہ شہر کے ادبی حلقوں میں مقبول ہو گئے۔ ان کی شاعری ان کے متنوع مطالعہ کی عادات کا واضح ثبوت تھی، جس وجہ سے انہیں وسیع مدح اور پذیرائی نصیب ہوئی۔
جون ایک انتھک مصنف تھے، لیکن انھیں اپنا تحریری کام شائع کروانے پر کبھی بھی راضی نہ کیا جا سکا۔ ان کا پہلا شعری مجموعہ ’’شاید‘‘ اس وقت شائع ہوا جب ان کی عمر 60 سال کی تھی۔’ نیازمندانہ ‘کے عنوان سے جون ایلیا کے لکھے ہوئے اس کتاب کے پیش لفظ میں انہوں نے ان حالات اور ثقافت کا بڑی گہرائی سے جائزہ لیا ہے۔ جس میں رہ کر انہیں اپنے خیالات کے اظہار کا موقع ملا۔ ان کی شاعری کا دوسرا مجموعہ ’’یعنی‘‘ ان کی وفات کے بعد 2003ء میں شائع ہوا اور تیسرا مجموعہ بعنوان’’ گمان‘‘ 2004ء میں شائع ہوا۔
جون ایلیا مجموعی طور پر دینی معاشرے میں علی الاعلان نفی پسند تھے۔ ان کے بڑے بھائی، رئیس امروہوی، کو مذہبی انتہا پسندوں نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وہ عوامی محفلوں میں بات کرتے ہوئے بہت احتیاط کرنے لگے۔
جون ایلیا تراجم، تدوین اس طرح کے دوسری مصروفیات میں بھی مشغول رہے۔ لیکن ان کے تراجم اور نثری تحریریں آسانی سے دستیاب نہیں۔ فلسفہ، منطق، اسلامی تاریخ، اسلامی صوفی روایات، اسلامی سائنس، مغربی ادب اور واقعہ کربلا پر جون کا علم کسی انسائکلوپیڈیا کی طرح وسیع تھا۔ اس علم کا نچوڑ انہوں نے اپنی شاعری میں بھی پیش کیا تھا جو انہیں اپنے ہم عصروں سے ممتاز بنا تا تھا ۔
جون ایک ادبی رسالے’’ انشاء‘‘ سے بطور مدیر وابستہ رہے جہاں ان کی ملاقات اردو کی ایک صاحب اسلو ب مصنفہ زاہدہ حنا سے ہوئی جن سے بعد میں انہوں نے شادی کر لی۔ زاہدہ حنا اپنے انداز کی ترقی پسند دانشور اور افسانہ نگار ہیں اور ایک قومی روزنامہ میں ’نرم گرم ‘کے عنوان سے کالم لکھتی ہیں۔ جون کے زاہدہ سے 2 بیٹیاں اور ایک بیٹا پیدا ہوا۔ 1980ء کی دہائی کے وسط میں ان کی طلاق ہو گئی۔ اس کے بعد تنہائی کے باعث جون کی حالت ابتر ہو گئی۔ وہ پژمردہ ہو گئے اور شراب نوشی شروع کر دی۔ اسی عالم مدہوشی میں ان کا 8نومبر 2002 کو کر اچی میں انتقال ہو گیا۔ جون ایلیا کے اقوال ان کے اشعار کی طرح معروف ہو ئے۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’ ہم ایک ہزار برس سے تاریخ کے دستر خوان پر حرام خوری کے سوا کچھ نہیں کر رہے۔‘‘
جون ایلیا کے منتخب اشعار
جی ہی جی میں وہ جل رہی ہو گی
چاندنی میں ٹہل رہی ہو گی
چاند نے تان لی ہے چادر ابر
اب وہ کپڑے بدل رہی ہو گی
سو گئی ہو گی وہ شفق اندام
سبز قندیل جل رہی ہو گی
سرخ اور سبز وادیوں کی طرف
وہ میرے ساتھ چل رہی ہو گی
چڑھتے چڑھتے کسی پہاڑی پر
اب وہ کروٹ بدل رہی ہو گی
پیڑ کی چھال سے رگڑ کھا کر
وہ تنے سے پھسل رہی ہو گی
نیلگوں جھیل ناف تک پہنے
صندلیں جسم مل رہی ہو گی
ہو کے وہ خواب عیش سے بیدار
کتنی ہی دیر شل رہی ہو گی
***
مر مٹا ہوں خیال پہ اپنے
وجد آتا ہے حال پہ اپنے
تو بھی آخر کمال کو پہنچا
مست ہوں میں زوال پہ اپنے
***
میرا میری ذات میں سودا ہوا
اور میں پھر بھی نہ شرمندہ ہوا
کیا سناؤں سرگزشت زندگی
اک سرائے تھا میں ٹھہرا ہوا
***
خود کو برباد کر لیا ہے سو اب
محو ہے اپنی دلدہی میں ہم
الغرض چین سے نہ بیٹھیں گے
اے خدا تیری زندگی میں ہم
***
کیا ستم ہے کہ اب تری صورت
غور کرنے پہ یاد آتی ہے ……
کون اس گھر کی دیکھ بھال کرے
روز ایک شے ٹوٹ جاتی ہے
***