کیا پاکستان بائیں بازو کی تاریخ کا قرض اتار پائے گا

کیا پاکستان بائیں بازو کی تاریخ کا قرض اتار پائے گا

مر ریاض۔۔۔۔۔

پاکستان میں جب بھی مزدوروں، کسانوں ،طالب علموں اور اساتذہ کے حوالہ سے تاریخ لکھی جائے گی تو اس میں جن نمایاں گروہوں کا ذکر ہوگا ان میں پاکستانی بائیں بازو کا نام چند اہم گروہوں میں نمایاں ہوگا۔ پچھڑے ہوئے طبقوں کے حقوق ہوں یا مذہبی اقلیتوں کے تحفظات یا پھر تمام پاکستانیوں کو بلا امتیاز طبقہ و عقیدہ معیاری تعلیم و صحت کی سہولتیں دینے کا عزم، ایسے تمام تر امور پر پاکستانی لیفٹ سے وابستہ گروہوں بشمول پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ آواز بلند کی۔ مگر آج جب ہم یہ تحریر لکھ رہے ہیں تو اس لیفٹ کی آواز کہیں کھوچکی ہے۔ جن باتوں کو بائیں بازو کے کارکن سرخ پرچموں، سرکلروں، عوامی جمہوریتوں، منشوروں اور جمہوری پاکستانوں میں چھپ چھپ کر پڑھتے تھے اب وہی باتیں چینلوں پر سرعام ہوتی ہیں اور اخبارات میں ان بارے کالم لکھے جاتے ہیں۔ اب تو وہ بھی مارشلاؤں کے خلاف لکھتے، بولتے بلکہ چلاتے ہیں جو انہی مارشلاؤں کی پیداوار ہیں۔ جو 16 دسمبر 1971 تک بنگالیوں کے خلاف سینہ سپر رہے وہ آج شستہ اور یوپی کی اُردو میں بنگالیوں کے قصیدے کمال ہوشیاری سے لکھتے ہیں۔ ان کے تازہ کالم پڑھنے کے بعد قاری بیچارہ یہ ہمت ہی نہیں کرتا کہ وہ پوچھے’’ حضرت خود آپ 16۔ دسمبر 1971 تک کیا بیچتے رہے‘‘۔ اب بنگالی تو آج پاکستان میں ہے نہیں کہ بتائیں کہ کس کس کی ہے مہر سرِ محصر لگی ہوئی۔ مگر پاکستانی لیفٹ کا ابھی اتنا برا حال نہیں ہوا کہ وہ تو اپنے ’’قتل نامہ‘‘ پر لگی مہروں پر بات بھی نہ کرسکے۔ البتہ اس کے لیے لیفٹ والوں کو گم شدہ جمہوری تاریخ کے ابواب رقم کرنے کا قصد کرنا پڑے گا۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ پاکستانی نوجوان یہ جان سکیں کہ انتہا پسندیوں اور فرقہ واریت کے خلاف گذشتہ 68 سالوں میں کون کون لڑتا رہا ہے اور وہ کون ہیں جن کی 9/11 کے بعد بوجوہ کایا کلپ ہوئی۔

اس بات کا خیال جس محفل میں آیا وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس والوں نے سجائی تھی اور موقعہ تھا انگریزی زبان میں چھپی پاکستانی بائیں بازو بارے لکھی اک کتاب کی مکھ وکھالی۔ کتاب لکھنے والے کامران اسدر ہیں جو امریکہ میں پڑھاتے بھی ہیں اور تحقیق بھی کرتے ہیں

اس بات کا خیال جس محفل میں آیا وہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس والوں نے سجائی تھی اور موقعہ تھا انگریزی زبان میں چھپی پاکستانی بائیں بازو بارے لکھی اک کتاب کی مکھ وکھالی۔ کتاب لکھنے والے کامران اسدر ہیں جو امریکہ میں پڑھاتے بھی ہیں اور تحقیق بھی کرتے ہیں۔ کتاب کا نام تو ’’سرخ سلام‘‘ ہے البتہ ذیلی سرخی میں درج ہے کہ یہ کمیونسٹ سیاست اور طبقاتی جدوجہد کی پاکستانی تاریخ ہے جو 1947 سے شروع ہوکر 1972 پر ختم ہوجاتی ہے۔ 2015 میں 1972 تک ہی کی تاریخ کیوں لکھی گئی اس بات سے مصنف پردہ نہ اٹھا سکے۔ پچھلے کچھ عرصہ میں یہ تیسری اہم کتاب ہے جس میں پاکستانی بائیں بازو بارے خاصی تفصیلات موجود ہیں۔ تینوں لکھاریوں کا تعلق کراچی ہی سے ہے مگر کتب سب نے انگریزی ہی میں لکھی ہیں۔ مشہور ’’منحرف‘‘ کمیونسٹ رہنما جمال نقوی کی کتاب کو تو یاروں نے لفٹ ہی نہیں کروائی کہ زندیق کی ہمارے ہاں کوئی جگہ نہیں ہوتی چاہے ہم سیکولر ہی کیوں نہ ہوجائیں۔ روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر احمد علی خان کی کتاب اس لیے اہم ہے کہ اپنے’’رضائی‘‘ رشتہ دار احمد ندیم قاسمی کی طرح انھوں نے بھی فیض صاحب کی وفات کے بعد ان کے ’’لتے‘‘ لینے کی ناکام کوشش بھی کی اور پنڈی سازش کیس بارے بھی ’’بے پر‘‘ کی اڑائی مگر خود پاکستان ٹائمز پر ایوبی قبضہ کے بعد اُس محبوس اخبار کے پہلے ایڈیٹر جا بنے۔ البتہ کامران اسدر کی کتاب پہلی دونوں سے مختلف بھی ہے اور تحقیق سے لبریز بھی۔ جو بھی دوست بائیں بازور کی تاریخ جاننا چاہتے ہیں وہ کامران اسدر کی کتاب کے حوالہ جات سے مستفید ہوکر یہ رستہ پاٹ سکتے ہیں۔ کامران اسدر نے دلچسپ انداز تحریر کو اختیار کرتے ہوئے ایک طرف مشہور لکھاری سعادت حسن منٹو کی کہانیوں کو مہارت سے کتاب کا حصّہ بنایا ہے تو دوسری طرف سجاد ظہیر، ان کی بیگم، کامل خان ممتاز کے والد، خدیجہ عمر، زیڈ اے احمد، محمود الظفر اور ان کے اعلیٰ عہدوں پر فائز رشتے داروں کا ذکر خوب کیا ہے جو روپوشی کے دنوں ان کے بہت کام آئے۔ یہ بات آئی اے رحمن کو تو پسند نہیں آئی مگر انتظار حسین نے کتاب بارے لکھے کالم میں اس کو سراہا ہے۔ یوں لگتا ہے اس پسند اور ناپسند کے پیچھے اپنے اپنے تعصبات و تحفظات کا اثرنمایاں ہے ۔
کامران اسدر نے جولکھا اس میں بہت سے گھاٹے بھی ہیں۔ مگر ان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جب ان کی توجہ ان گھاٹوں کی طرف دلوائی گئی تو اک صاحب علم کی طرح انھوں نے اسے تسلیم کیا اور جہاں تصیح کی گنجائش تھی وہاں اپنا ماضی الضمیر سانجھا کیا۔ اس تقریب میں بات کرنے والوں میں انسانی حقوق کمیشن کے آئی اے رحمن، لاہور سکول آف اکنامکس کے مارکسی پروفیسر انیس عالم، فیض صاحب کی صاحبزادی سلیمہ ہاشمی اور عوامی ورکرز پارٹی کے عابد حسن منٹو نمایاں تھے۔ تاہم کتاب پر سیر حاصل تبصرہ عابد حسن منٹو ہی نے کیا کہ بقول منٹو صاحب انہیں یہ کتاب چند دن پہلے ہی ملی تھی۔ سلیمہ ہاشمی نے اپنے والد کے حوالہ سے یادیں تازہ کیں اور کمال ہوشیاری سے پنڈی سازش کیس اور فیض صاحب بارے کچھ رازوں کو پردے میں رہنے کا عندیہ دیا۔ البتہ یہ کہہ گئیں کہ وہ فلم ضرور بنائیں گی۔ آئی اے رحمن اس سوال کو اٹھاتے رہے کہ آخر وہ کون سا ذہنی رجحان تھا جس کے تحت ابتدائی سالوں ہی سے دونوں نومولود ریاستیں یعنی بھارت اور پاکستان کمیونسٹ مخالفت پر کمر کسے بیٹھی تھیں؟ کچھ سوال انھوں نے ترقی پسندوں کے بارے بھی کیے کہ آخر انہیں اختلافات کے ساتھ زندہ رہنے کا ہنر کب آئے گا؟
البتہ عابد حسن منٹو نے کتاب میں لکھی تاریخ کو درست کرنے کا فریضہ نبھایا۔ ان کا یہ استدلال تو مصنف نے بھی تسلیم کیا کہ کتاب میں 1954 کے بعد جدوجہد کرنے والے پنجابی، پٹھان کمیونسٹوں بارے لکھا ہی نہیں گیا۔ بھلا میجر اسحاق، امین مغل، سی آر اسلم، افضل بنگش، عزیز الدین احمد، عزیز الحق، شیخ رفیق، شیخ رشید (پیپلز پارٹی والے)، شیم اشرف ملک، عارف امان وغیرہ کے بغیر 1960 کی دہائی کی کمیونسٹ تحریک بارے کیسے لکھا جاسکتا ہے۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ کی تاریخی کسان کانفرنس کا تو ہر کسی کو علم ہے مگر کامران صاحب شاید صرف کراچی کے ترقی پسندوں بارے ہی تحقیق کرتے رہے۔ البتہ منٹو صاحب کو اس بات کا ضرور احساس تھا کہ مصنف کمال محنت سے بہت سے گم شدہ حوالوں کو نکال لانے میں کامیاب رہے ہیں۔ کتاب میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی دوسری کانگرس (منعقدہ کلکتہ 1948) کی دستاویزات پر بھی سیر حاصل بحث موجود ہے اور 1943 کی پہلی کانگرس بارے بھی کہ جس میں کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا نے تحریک پاکستان کی حمائیت کا اعلان کیا تھا۔ 1943 سے 1946 کے درمیان ہندو، مسلم اور سکھ کامریڈ (بشمول سجاد ظہیر، پی سی جوشی) علامہ اقبال، محمد علی جناح اور اکثریتی مسلم علاقوں کے حق خود ارادیت کی حمائیتوں میں جو کچھ لکھتے رہے وہ اک ایسا تاریخی ریکارڈ ہے جسے بعد ازاں کمیونسٹوں ، مسلم لیگیوں اور نظریہ پاکستان کے مبلغوں نے چھپانے کی کوشش کی۔ ان حوالوں کو مصنف نے خوب استعمال کیا۔ البتہ سی آئی ڈی کے میاں انور علی کی رپورٹ نما کتاب کتنی مستند ہے اس بارے شک کی گنجائش رہے گی۔ ہندوستانی سیاست میں مسلم اکثریتی صوبوں کے کلیدی کردار بارے پیش گوئی اوّلین سطح پر تو تاریخی خطبہ آلہ آباد میں علامہ اقبال نے کی تھی کہ اس وقت خود محمد علی جناح بھی اس کو سمجھنے سے قاصر تھے۔ تاہم 1940 کی قرارداد کی منظوریوں تک بشمول قائداعظم علامہ کی بات کی حقانیت کو تمام مسلم لیگی سمجھ چکے تھے۔ کانگرسی حلقوں میں جن رہنماؤں کو مسلم اکثریتی صوبوں کے فیصلہ کن کردار کی بات اولین طور پر سمجھ آئی تھی ان میں مولانا عبیداللہ سندھی، چوہدری افضل حق، میاں افتخارالدین (صدر کانگرس پنجاب) اور راج گوپال اچاریہ پیش پیش تھے۔ اپریل 1942 میں راج گوپال اور میاں افتخارالدین جیسے کا نگرسیوں نے اپنی جماعت میں مسلم اکثریتی صوبوں کے حق خود ارادیت کے حوالہ سے قرار داد بھی پیش کی مگر گاندھی، نہرو، آزاد، پٹیل اور برلا کی موجودگی میں طوطی کی آواز کسی نے نہ سنی۔ 1943 میں کمیونسٹ پارٹی نے بھی اس بات کو انڈین سیاست کے حل کے طور پر سمجھا اور اس کے حق میں پورے تین سال دلائل دیتے رہے۔ 1946 کے آخری مہینوں میں لندن سے آنے والے برٹش کمیونسٹ رجنی پام دت نے گھپلا کردیا جس کا خمیازہ بعد ازاں پاکستانی کمیونسٹوں کو بھگتنا پڑا۔
کامران اسدر نے اپنی کتاب میں دوسری کانگرس میں تقسیم ہونے والی بدنام زمانہ دستاویز ’’پاکستان رپورٹ‘‘ کا ذکر بھی کیا جس بارے میں نے سب سے پہلے محترم ایم ڈی تاثیر کے مضمون میں تفصیلات پڑھیں تھیں۔ بھوانی سین کی لکھی اس رپورٹ اور بعدازاں پاکستان کے صرف مغربی حصّہ میں نئی کمیونسٹ پارٹی بنانے جیسے متنازعہ فیصلوں ہی کے کارن پاکستانی بائیں بازو کو ابتداء سے ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کسی بھی نئے ملک کے مشرقی حصّہ کی پارٹی کو کلکتہ(انڈیا) کے زیر کمانڈ رکھنا ایسا فیصلہ تھا جو بدگمانیاں بڑھانے کا سبب بنا مگر یہاں کامران اسدر بھی غچہ کھاگئے۔ اگر اس میں تنازعہ کشمیر پر سی پی آئی کے بھارتی اسٹیبلشمنٹ سے ملتے جلتے موقف کو شامل کیا جائے تو ساری بات سمجھ آجاتی ہے۔ جب نومولود پاکستان کمیونسٹ پارٹی یعنی سی پی پی نے بھی سی پی آئی کی تقلید کی تو فیض، ایم ڈی تاثیر، صفدر میر، ایرک سپرین، جمال الدین بخاری سمیت بہت سے ترقی پسندوں نے تحفظات کا اظہار کیا جو ریکارڈ کا حصّہ ہے۔مگر اصل مسئلہ تو’’نئے ٹھیکے داروں‘‘ کا تھا۔ پاکستان کے ابتدائی دور میں ترقی پسندوں کی مخالفت میں جو گروہ پیش پیش رہے ان میں نو آبادیاتی دور کی تربیت یافتہ بیوروکریسی کے علاوہ بہت سے خدائی خدمتگار بھی تھے جو ادب سے سیاست تک ہر جگہ خود ساختہ ٹھیکے دار بنے بیٹھے تھے۔ یہ وہی حضرات ہیں جو پاکستان میں انتہا پسندیوں کے اولین معمار بنے کہ وہ آج اس کا ذکر گول کرنا چاہتے ہیں۔
1949 میں لاہور میں انجن ترقی پسند مصنفین کی کانفرنس ہوئی تو مقتدر اخبارات میں ان ٹھیکے داروں نے ترقی پسندوں کو اسلام دشمن، غدار، بھارتی ایجنٹ اور پتہ نہیں کیا کیا لکھا۔ سعادت حسن منٹو جیسے باکمال لکھاری کا کندھا استعمال کرکے محمد حسن عسکری جیسوں کو بخشوانے والے بھی یہ نہیں لکھتے کہ کمیونسٹوں کو وطن دشمن وہ لوگ بھی کہہ رہے تھے جو 14۔ اگست 1947 تک قیام پاکستان کے سخت مخالف تھے۔ تحریک پاکستان کی حمائیت میں لکھے ترقی پسندوں کے مضمونوں کو بوجوہ بھلادیا گیا کہ کہیں نومولود ملک میں ترقی پسند جمہوری و لبرل فکر پالیسی کا حصّہ نہ بن جائے۔ بعد ازاں ان کی اس محنت کو سرد جنگ نے چار چاند لگائے اور وہ پاکستان کو قدامت پسندی کی طرف دھکیلنے میں کامیاب رہے۔ جب ہم نے خود مذہبی انتہا پسندیوں کو کمیونسٹ دشمنی میں سینے سے لگایا تھا تو پھر دوسروں سے گلہ کرنا درست نہیں۔ ملک پاکستان میں سردجنگ کے دوران سوشلزم کانام لینے والے ترقی پسندوں کو جس طرح گلیوں، محلوں، پنڈوں، کالجوں، یونیورسٹیوں اور دفاتر میں دیوار سے لگایا گیا کہ اس سے ہم سب اچھی طرح واقف ہیں۔ آج 9/11 کے بعد تو مذہبی انتہا پسندی سب کو کھلتی ہے اور ہر کوئی طالبان کے اُگلدان میں اپنا گند بھی ڈالنے میں رجھا ہوا ہے کہ گریبان میں جھانکنا جوئے شیر لانے سے زیادہ کٹھن ہوتا ہے۔ ادب سے سیاست اور تعلیم سے سرکاری اداروں تک جو کھیل اس ملک میں رچا گیا اس نے ترقی پسندوں کو نکرے تو لگادیا مگر ترقی پسند خیالات کو وہ دفن نہ کرسکے۔ ٹھیک ہے ترقی پسندوں کی اپنی غلطیاں بھی تھیں مگر جمہوری،لبرل اقدار کے لیے تو انھوں نے برابر آواز بلند کی۔ جو آج بھی آزاد میڈیا ،عورتوں اور اقلیتوں کے حقوق کی گردان کرتے ہوئے ترقی پسندوں کے کردار کو نظر انداز کرتے ہیں ان کو تاریخ کے اس گمشدہ باب کی خبر کیسے ہوگی؟ یہی وہ بات تھی جو تقریب میں موجود اک نوجوان نے کر ڈالی اور سٹیج پر بیٹھے لوگوں سے کہا کہ اب آپ بھی کچھ تحریریں عنائیت کردیں۔ اس گمشدہ باب کو لکھنے ہی سے یہ بات سامنے آئے گی کہ ملک پاکستان میں لبرل، جمہوری وترقی پسند اقدار کو قتل کرنے والوں میں کون کون حصّہ داررہا ہے اور وہ کون کون سی پالیسیاں و حرکات تھیں جن کے سبب ملک پاکستان میں قدامت پرستوں، فرقہ پرستوں، بنیاد پرستوں کو پنپنے کے مواقع نصیب ہوئے۔