کیا حمزہ علی عباسی کا جرم سوال اٹھانا ہے

کیا حمزہ علی عباسی کا جرم سوال اٹھانا ہے

فیصل سعید۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگرلیٹری اتھارٹی ( پیمرا) نے ایک یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے آج ٹی وی کے پروگرام ’رمضان ہمارا ایمان‘ کے میزبان حمزہ علی عباسی جبکہ ٹی وی ون کے پروگرام ’عشق رمضان ‘ کے میزبان شبیر ابو طالب اور شریک میزبان علامہ کوکب نورانی پر پاپندی عائد کردی ہے۔ ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے رمضان ٹرانسمیشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔پیمرا کے مطابق عوام کی جانب سے متعدد شکایات ملنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا۔ پیمرا کی جانب سے جاری نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ ان ٹی وی چینلز نے غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری کی تمام حدود کو پامال کیا ۔

آخر ان ٹی وی شوز میں ہوا کیا؟

مشہور اداکار حمزہ علی عباسی جو اپنے زوردار بیانات اور مختلف موضوعات پر غیر روایتی موقف رکھنے کے لئے معروف ہیں انہوں نے آج ٹی وی میں اپنے پروگرام میں آئین کی دوسری ترمیم پر بحث کی تھی جس کے تحت احمدیوں کو غیر مسلم قرار دیا گیا تھا۔ حمزہ علی عباسی نے علما سے پوچھا کہ کیا آئین پاکستان کسی بھی برادری کو مسلم یا غیر مسلم قرار دے سکتا ہے ،جبکہ قائد اعظم اپنی گیارہ اگست 1947 کی تقریر میں کہہ چکے کہ ریاست کا کسی شہری کے عقیدے سے کوئی تعلق نہیں۔ پروگرام میں موجود تین علما نے حمزہ کی بات کو رد کرتے ہوا کہا تھا کہ یہ علما کا کام ہے کہ وہ بتائیں کہ کون مسلمان ہے اور کون کافر، اور ریاست علمائے کے فیصلوں کی روشنی میں ایسے اقدام کی پابند ہے۔

وقت کم ہونے کی وجہ سے یہ بحث جلد ختم ہوگئی جس پر حمزہ علی عباسی نے اس موضوع پر ایک اور پروگرام، آخری روزے کو کرنے کا اعلان کیا۔ تاہم اگلے ہی دن ٹی وی ون کے شبیر ابو طالب نے اس ایشو کو مذہبی سکالر کوکب نورانی کے سامنے اٹھایا، جنہوں نے حمزہ علی عباسی کی جانب سے یہ سوال اٹھائے جانے پر انہیں غداری کا مرتکب قرار دیا۔ ساتھ ساتھ نورانی صاحب نے یہ بھی فرمایا کہ اگرکوئی فوجی اپنی فوج سے غداری کرے تو اس کی سزا موت ہے اور یہ کہ حمزہ کا بیان ناموس رسالت کے خلاف ہے۔ کوکب نورانی کی جانب سے لوگوں کو تشدد پر اکسانے کی دانستہ کوشش کی گئی۔

اس پر پیمرا نے ایکشن لیتے ہوئے ان تینوں حضراب پر پابندی لگادی کہ وہ اس موضوع پر آئندہ کسی اور ٹی وی چینل پر بات نہیں کرسکیں گے۔ اس حوالے سے قابل اعتراض بات یہ ہے کہ پیمرا کو پہلے تو ان تینوں افراد کو شوکاز نوٹس کے ذریعے اپنی اپنی پوزیشن واضح کرنے کا موقع دینا چاہئے تھا۔ خود ہی مدعی ، خود ہی وکیل اور خود ہی منصف بننے سے لگتا ہے کہ جیسے یہ کوئی جمہوری نہیں بلکہ جابر ادارہ ہے۔ پیمرا نوٹیفیکشن میں حمزہ علی عباسی کے بارے میں تحریر ہے کہ اینکر نے ایسے موضوع کو چھیڑا جس پر پارلیمنٹ پہلے ہی فیصلہ کرچکی ہے۔ تو کیا یہ پہلی دفعہ تھا کہ ٹی وی پر کوئی ایسا موضو ع زیر بحث آیا ہو جو آئین میں پہلے ہی درج ہو؟ اور کیا یہ طے ہے کہ پارلیمنٹ کے فیصلیزیر بحث نہیں آ سکتے؟

ہمارے آئین میں بائیس ترامیم ہوچکی ہیں اور احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینا بھی ایسی ہی ایک ترمیم ہے ۔ تو اگر پیمرا کا یہ قانون آئین پر لاگو کیا جائے تو اصولاًآئین پاکستان میں کوئی ترمیم ہونی ہی نہیں چاہئے تھی، کیونکہ آئین تو پہلے ہی سب کچھ تحریر کرچکا تھا تو پھر اس میں تبدیلی کرنے کی ضرورت ہی کیوں تھی۔؟ حمزہ علی عباسی نے صرف ایک سوال اٹھایا اور اسے علما کے ساتھ زیر بحث لائے جنہوں نے ان کی دلیل کو رد کیا۔ حمزہ علی عباسی نے اس حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں سنایا بلکہ صرف اپنا نکتہ نظر بیان کیا جس کے جواب میں مذہبی سکالرز نے ایک طرح سے فیصلہ سنا دیا۔ جہاں تک شبیر ابو طالب کے شو پر پابندی کی بات ہے تو اس کی توجیہہ دی جاسکتی ہے کہ انہوں نے جارحیت اور تشدد کو اپنانے کی کوشش کی۔ تو کیا حمزہ علی عباسی پر پابندی لگانے کا مقصد صرف توازن قائم کرنے کی کوشش تھا تاکہ پیمرا پر یہ الزام نہ لگے کہ انہوں نے ایک ’ممنوع‘ سوال اٹھانے والے کا ساتھ دیا!!

لیکن پیمرا کو سمجھنا چاہئے کہ توازن اسی صورت قائم ہوتا ہے جب آپ فیصلہ میرٹ پر کریں ناکہ مخصوص گروہوں کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے، جو اس قدر طاقتور ہیں کہ ان کے خلاف بولنے کی جرات کم ہی لوگوں اور اداروں میں ہے۔

سوشل میڈیا پر لوگ پیمرا کی جانب سے حمزہ علی عباسی پر پابندی لگائے جانے کی شدید مخالفت کر رہے ہیں اور اسے آزادی رائے پر قدغن قرار دے رہے ہیں۔ٹوئٹر پر ہیش ٹیگ #ISUPPORTHAMAZAALIABBASI میں لوگوں نے حمزہ کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کیا پاکستان میں کسی کو سوال اٹھانے کا بھی حق نہیں۔ اگر حمزہ نے اقلیتوں کے حقوق کے حوالے سے سوال اٹھایا تو کیا اس کا مناسب جواب ملنا چاہئے یا پھر سوال پر ہی پابندی لگا دینی چاہیے ؟ یہاں سینر اسکالر مہدی حسن کی یہ بات درست ثابت ہوتی ہے کہ بظاہر لگتا ہے کہ موجودہ پاکستان جناح کا پاکستان نہیں بلکہ ضیاالحق کا پاکستان ہے، اور یہاں مذہبی انتہا پسندی عروج پر ہے اور یہاں تمام فیصلے مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو خوش کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں اور موجودہ دور میں بھی یہی ہو رہا ہے۔