ذکا صاحب بھی چلے گئے

ذکا صاحب بھی چلے گئے

حسنین جمیل۔۔۔

ذکا صاحب کا شمار ان کہانی کاروں میں ہوتا تھاجو پڑھتے زیاہ تھے اور لکھتے کم تھے۔آج ایسے ادیب ہیں ہی کتنے ایک سلیم الرحمان ہیں، مسود اشعر صاحب ہیں۔ اور ذکا صاحب۔

ان کو ادبی محفلوں میں ہمیشہ دیکھا ان کی بات چیت سنی اور ہمیشہ ان سے سیکھنے کی کوشش کی۔ بطور افسانہ نگار اور سیکرٹری انجمن ترقی پسند مصنفین ذکا صاحب کو جب بھی اجلاس کی صدرات کے لئے بلایا وہ ہمیشہ آئے اور سیر حاصل گفتگو کی۔

کرشن چندر ، انتظار حسین، اور عبداللہ حسین پر انجمن ترقی پسند مصنفین لاہور نے اجلاس کرائے ان اجلاسوں کی صدرات ذکا صاحب نے کی ان عظیم افسانہ اور ناول نگاروں کی تخلیقات پر بھرپور طریقے سے خراج تحسین پیش کیا۔

اور زمین، خواب سنگین، زات کے اندر، شائع ہوئیں۔ ذکاءصاحب کے چار افسانوں کی کتابیں ، درد آئے گا دبے پاﺅں، میں

ذکاءصاحب نہایت وسیع المطانہ شخصیت تھے۔ ان کے وسیع مطالعے کا عکس ان کی تحریروں کے اندر نظر آتا ہے۔ ان کے افسانے پڑھ کر اس بات کا شدت سے احساس ہوتا ہے کہ آپ کسی بڑے عالم فاضل ادیب کی تحریر کا مطالعہ کررہے ہیں۔

افسانے میں کئی رنگ ہوتے ہیں۔ انسانی نفسیات کا مطالعہ کرنا ایک ادیب کے لئے بہت ضروری ہوتا ہے ذکاءصاحب نہ صرف انسانی نفسیات کی تمام جزیات کو بیان کرتے ہیں بلکہ اس میں فلسفی فکر کی گہرائی کو بھی شامل کرلیتے ہیں۔میری ان سے جب بھی ملاقات ہوتی وہ ایک ہی بات کہتے تھے کہ کسی ادیب کے لئے مطالعہ کرنا بہت ضروری ہے ۔ تم بے شک دن میں صرف آدھ گھنٹہ لکھا کرو مگر مطالعہ کم از دو گھنٹے کرنا چاہئے ۔ ادیب کو صرف شاعری افسانہ ناول کے مطالعے تک خود کو محدود نہیں رکھنا چاہئے۔ بلکہ اس کو تاریخ، سیاسیاست، سماجی ، عمرانیات ، مذہب ، مارکس ازم سب کچھ پڑھنا چاہئے ۔ اس کے بعد جب کوئی لکھاری لکھنے بیٹھے گا۔ تو لفظ خود بخود اس کے قلم سے نکلیں گے۔

قابل افسوس بات یہ ہے کہ 3 جولائی کو ذکا صاحب کی وفات ہوئی 4 جولائی کو راقم نے لاہور کے ایک قدیم کتب خانے میں بیٹھ کر اُرود کے تمام صف اول کے شائع ہونے والے اخبارات کا مطالعہ کیا ان میں سے کسی اخبار میں ذکا صاحب کے انتقال کی ایک کالمی خبر بھی نہیں شائع ہوئی تھی۔ کیسی ستم ظریفی ہے کہ اُردو کا ایک صاحب طرز ادیب وفات پاتا ہے اگلے روز اُردو کے اخبارات اس کی خبر تک شائع نہیں کرتے ۔

یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اُردو اخبارات کے مدیر اور خبرنگار کس قدر مطالعہ کرنے کی روش رکھتے ہیں ان کو ذکاءالرحمان صاحب جیسے صاحب علم ادیبوں کے بارے میں علم ہی نہیں ہمارے کارپوریٹ میڈیا کا ہی چلن ہے یہاں قندیل بلوچ تو شائع ہو سکتی ہے مگر ذکاءالرحمان نہیں۔ اس قوم کا کیا کریں جو ایک ہزار کے جوتے خریدتے ہں مگر سو روپے کی کتاب خریدنے کی خواہش نہیں۔ ذکاءصاحب کی رحلت کی ایک کالمی خبر شائع نہ کرنا ہمارے لئے مقام ماتم ہے۔

سابق سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق اور مایہ ناز افسانہ نگار ڈاکٹرغافر شہزاد سے ذکاءالرحمن کے بارے میں دریافت کیا انہوںکہا کہ ذکاءصاحب ساتویں دہائی کے اہم ترین افسانہ نگا رتھے۔ انہوں نے محض علامت کو
اپنے فکری اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا اپنا ایک الگ اسلوب ایجاد کیا جس میں اس قدر توانائی تھی وہ قاری کو اپنی گرفت میں لے سکے ، یہ کسی بھی ادیب کی بہت بڑی کامیابی ہوتی ہے وہ اپنے قاری کو اپنی گرفت میں لینے میں کامیاب ہوجائے۔اور قاری اپنی ذہنی فکری سطح کو اس قدر بلند سطح پر لئے آئے وہ ان کی تخلیقات پڑھنے کے بعد اپنے اندر تبدیلی محسوس کرسکے، ذکاءصاحب کی تحریروں میں کھوکھکی نعرے بازی نظر نہیںآتی۔ ان فکر اجتماعی سطح پر نظریاتی تبدیلی کا باعث بن جاتی ہے۔

صاحب طرز افسانہ نگار سیکرٹری حلقہ ارباب ذوق امجد طفیل نے بات کرتے ہوئے کہا ذکاءالرحمن ہمارے عہد کے صاحب اسلوب افسانہ نگاروں میں سے ہیں۔انہوں نے اپنے افسانوں کا لسانی اور اسلوبی ڈھانچہ خود تراشا ہے ۔ حقیقت نگاری کو اس قدر ٹھوس سطح پر لے گئے ہیں اور اپنی لسانی پیرائے کو ایسے باکمال انداز میں بیان کیا ہے جو ایسی حقیقت نگاری کو بیان کرنے کے لئے لازمی ہوتا ہے۔

نامور ناول نگار ریذیڈنٹ ڈائریکٹر اکادمی ادیبات لاہور عاصم بٹ نے کہا ذکاءصاحب دو سالوں سے ایک ناول لکھ رہے تھے جو بہت کمال کا تھا۔ میں نے اس ناول کے کچھ باب پڑھے ہیں مجھے افسوس ہے کہ
زندگی نے ان کو مہلت نہیں دی وہ اپنا ناول مکمل نہیں کرسکے۔وہ درویش آدمی تھے گوشہ تنہائی میں مطالعہ کو ترجیح دیتے تھے۔

نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگار عبدل وحید نے کہا ذکاءصاحب ایک بے باک آدمی تھی کسی کے بارے میں اپنی رائے مکمل کردیتے تھے۔ بڑے ناموں سے بے نیاز ہو کر کسی بھی ادبی تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرتے تھے ، ان کی کہانیوں کا اسلوب منفرد تھا جو صرف انہی کا خاصا تھا۔