سری لنکا سے پاکستان، محبت کے ساتھ

سری لنکا سے پاکستان، محبت کے ساتھ

حسنین جمیل۔۔۔

یوحنا آباد کی بدبودار گلیوں کے کئی موڑ مڑنے کے بعد میں نے موٹرسائیکل ایک اونچی عمارت کے سامنے روک لی۔ شہر لاہور میں انسانیت کی ایسی تذلیل کم ہی دیکھنے میں آتی ہے۔ میٹروبس اور اورنج لائن ٹرین یوحنا آباد اور ایسی دیگر بستیوں کی غربت پر قہقہے لگاتی ہوئی گزرتی ہے۔ بدبودار ٹوٹی پھوٹی گلیاں، گندے پانی کے جوہڑ، حشرات الارض کی طرح رینگتے ہوئے انسان ان گلیوں میں گھومتے ہوئے گلزار صاحب کا ایک فقرہ بے ساختہ یاد آتا ہے۔

موت تو سب پہ آتی ہے
زندگی سب پہ آتی کیوں نہیں

اونچی عمارت کے دروازے پر دستک دی اندر سوئے یوں لگتا تھا جیسے پورے علاقے کے آوارہ کتے یہاں پرورش پاتے ہیں۔ فادر جی پورے علاقے کے لوگوں کے گھروں سے ضائع ہونے والا کھانا لے آتے ہیں اور ان کتوں کو کھلاتے ہیں۔ میں نے حیرت سے سرمی شام جیسی انا کی طرف دیکھا او رپدرانہ شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا آپ کے فادر جی بڑے آدمی ہیں۔ تھوڑی دیر بعد فادر جیکب جوزف ایڈورڈ ہمیں پائیں باغ میں پڑی ہوئی کرسیوں پر لے کر بیٹھ گئے۔ انا اور اس کے پولیس مین شوہر باصر کی خواہش پر میں فادر جیکب جوزف سے ملنے آیا تھا۔ وہ ہمیں بہت تپاک سے ملے۔ تھوڑی دیر بعد جوس اور کیک ہمارے سامنے رکھ دیئے۔ اس سے پہلے میں بات چیت کا باقاعدہ آغاز کرتا فادر نے کیک کا ٹکڑا اٹھایا آدھا اپنے منہ میں ڈالا اور آدھا اپنے پاس بیٹھے کتے کے منہ میں ڈال دیا۔ میں یہ منظر دیکھتا رہا۔ فادر نے سری لنکن لہجے میں اردو میں کہا۔ ان کو بھی ہماری طرح بھوک لگتا ہے۔ اس دوران میں اپنے حصے کا کیک کا ٹکڑا کھا چکا تھا۔ پوچھو کیاپوچھنا چاہتے ہو۔ میں میڈیا والوں سے ڈرتاہوں۔ آج تک کسی اخبار میں میرے بارے میں کوئی خبر شائع نہیں ہوئی۔ تم پہلے اخبار والے ہو جو یہاں آئے ہو۔ میں شہرت سے گھبراتا ہوں جو سکون خاموشی کے ساتھ کام کرنے میں ہے وہ اور کہیں نہیں۔

آپ پاکستان کب آئے۔ میں 1985ءمیں پاکستان آیا۔ مشنری اداروں کا نیٹ ورک پوری دنیا میں ہے۔ ہم ایجوکیشن کے لوگ ہیں۔ میں نے فلاسفی اور انگریزی میں ایم اے کیا ہوا ہے۔ دنیا کے بے شمار ممالک میں درس و تدریس کے لیے جاتا رہتا تھا۔ اس وقت میری عمر 77برس ہے۔ 1985ءمیں ڈیوٹی پاکستان میں لگ گئی۔ چار سے پانچ سال میں کوئٹہ گزارے وہاں مشنری اداروں کے تحت چلنے والے کالجوں اور سکولوں میں پڑھاتا رہا۔ 1989ءمیں میرا تبادلہ راولپنڈی کر دیا گیا۔ 10سال وہاں گزارے۔ 1996ءمیں مجھے لاہور بھیج دیا گیا۔ تب سے میں یہیں پر ہوں۔ اور باقی زندگی بھی یہاں ہی گزارنا چاہتا ہوں۔

میں نے فادر جوزف سے پوچھا۔ مشنری اداروں میں بے شمار اساتذہ پڑھاتے ہیں آپ نے کیا تبدیل کرنے کی کوشش کی۔
ہاں یہ اچھا سوال ہے۔ وہ مسکرائے میں نے اس دوران محسوس کیا کہ پاکستان میں بہت غربت ہے۔ تعلیم کا معیار بھی بہت پست ہے۔ لوگوں کے پاس دو وقت کھانے کو روٹی نہیں ہے۔ ایسے حالات میں تعلیم کا خرچہ کیسے اٹھا سکتے ہیں اور مشنری ادارے اچھی تعلیم دیتے ہیں اور ان کی فیس بھی اچھی خاصی ہے۔ میں نے اپنے چھ بھائیوں اور دوستوں کو جو مختلف ممالک میں ہیں ان سے کہنا شروع کر دیا اپنی کمائی میں کچھ حصہ میرے غریب پاکستانی بچوں کے لیے وقف کر دو۔ یوں میرے پاس خاصی رقم آنی شروع ہو گئی۔ میں جہاں جہاں بھی رہا وہاں کے رہنے والے غریب لوگ جن کی رسائی مجھ تک تھی جن کو میں تلاش کر لیتا ان کو مجبور کیا وہ اپنے بچوں کو پڑھنے کے لیے سکول داخل کرائیں۔ آپ کا کوئی خرچہ نہیں ہو گا۔ میں نے ان بچوں کے لیے کتابیں کاپیاں پنسل، کپڑے، والدین کو دینے شروع کر دیئے ۔یوں بچوں کی تعلیم کا سلسلہ جاری رہتا۔
کیا آپ مذہبی تعلیم بھی دیتے تھے۔ اور کیا صرف مسیحی بچوں کو ہی پڑھاتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا۔ میرے اس سوال پرفادر کچھ دیر کے لیے خاموش ہوگئے۔ جوس کا ڈبہ اٹھایا اور پینے لگے۔ میری طرف دیکھ کر بولے۔ مسٹر جمیل مذہب میرا مسئلہ نہیں ہے میرے نام کے ساتھ فادر ضرور لگا ہے۔ مگر میں مذہبی تعلیم نہیں دیتا۔ میں نے کبھی کسی بچے سے نہیں پوچھا کہ تمہارا مذہب کیا ہے۔ میں صرف بچوں کو انگریزی پڑھاتا ہوں، ان سے لٹریچر کی زبان میں بات کرتا ہوں ۔ مجھے یہاں دہشت گردی کے واقعات پر دکھ ہوتاہے۔ میں اپنے بچوں کو مذہبی تعصبات سے پاک دیکھنا چاہتا ہوں۔ میری کوئی این جی او نہیںہے۔ میں نے اپنے بھائیوں اور دوستوں کے مالی تعاون سے چار سکول چلارہا ہوں۔ یہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی ہے۔ میرے بھائی اور دوستوں کی دولت میں سے میرے پاکستانی بچوں کا حصہ مل جاتا ہے۔ مجھے حکومت سے مدد کی ضرورت نہیں۔

فادر کیا وہ بچے جو آپ سے پڑھ کر بڑے ہو گئے کیا اب اپنے پاکستانی بچوں کی مالی امداد کرتے ہیں۔میں نے پوچھا ۔ فادر جوزف خاموش ہو گئے۔ صرف اتنا کہا نہیں جو پیسہ آتا ہے وہ باہر سے ہی آتا ہے۔