اپریل کے بعد پہلی بار خام تیل 40 ڈالر / بیرل سے نیچے آگیا

اپریل کے بعد پہلی بار خام تیل 40 ڈالر / بیرل سے نیچے آگیا

اکنامکس ڈیسک۔۔۔

عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 40 ڈالر فی بیرل سے نیچے آ گئی ہے۔ اس سال اپریل کے بعد خام تیل کی عالمی قیمتوں میں پہلی بار اتنی کمی دیکھی گئی ہے ۔ تیل کی منڈی میں کھپت کے مقابلے میں زیادہ سپلائی کو قیمتوں میں حیرت انگیز کمی کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے۔

نیو یارک مرکنٹائل ایکسچینج میں ویسٹ ٹیکساس انٹر میڈیٹ یعنی ڈ بلیو ٹی آئی گریڈ کے خام تیل کے ستمبر کے سودوں کی بولی 39.90 ڈالر تک ہو رہی ہے جو کہ اس سال 20 اپریل کے بعد سب سے کم قیمت تھی۔

جون کے شروع میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان رہا ، اور اس سال فروری کی قیمتوں کے مقابلے میں جون میں تیل کی قیمتوں میں خاصا اضافہ ہو گیا تاہم اب قیمتیں دوبارہ گرنا شروع ہو گئی ہیں۔

امریکہ میں تیل کے نئے کنووں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور مارچ کے بعد اس وقت ان کی تعداد بلند ترین سطح پر ہے۔امریکی انرجی انفارمیشن ڈیٹا کے مطابق 22 جولائی تک امریکہ میں تیل کی پیداوار پچھلے پانچ سال کی اوسط کے مقابلے میں 10 کروڑ بیرل زیادہ تھی۔

سعودی آرمکو نے بھی تیل کی وافر سپلائی اور کم ہوتے منافع کے پیش نظر حال ہی میں ایشیا کی مارکیٹ کے لیے تیل کی قیمت میں کمی کی ہے۔ 31 جولائی کو سعودی عرب کی سرکاری تیل کمپنی نے کہا تھا کہ وہ ایشین مارکیٹ کے لیے فی بیرل ایک ڈالر قیمت کم کر ے گی۔

آرامکو کی جانب سے تیل کی قیمتیں کم کرنے کا حربہ دراصل اپنے تیل کی زیادہ فروخت کے لیے اپنایاگیا۔ بلومبرگ کے مطابق سعودی عرب ایشیائی مارکیٹ میں ایران کے مقابلے زیادہ مارکیٹ کو اپنے کنٹرول میں لانے کے لیے یہ کر رہا ہے۔ اس سال جنوری میں پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران کی تیل کی برآمد مسلسل اوپر جا رہی ہے۔