ہماری احتجاجی تحریک کا بھرپور آغاز ہونے والا ہے، میاں محمود الرشید

ہماری احتجاجی تحریک کا بھرپور آغاز ہونے والا ہے، میاں محمود الرشید

انٹر ویو : حسنین جمیل۔۔۔

محمود الرشید پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف ہیں۔ 148ہم شہری آن لائن147 کے ساتھ ایک نشست میں انہوں نے تحریک انصاف کی تحریک احتساب، پنجاب میں بچوں کے اغوا، اورنج لائن ٹرین اور دیگر مصنوعات پر بات کی۔
سوال:میاں صاحب عام تاثر یہ ہے کہ تحریک انصاف نے جو احتساب کی تحریک شروع کی اس کو عوامی پذیرائی ویسی نہیں مل رہی جیسی دو سال قبل ملی تھی؟

جواب:میں آپ کی بات سے اتفاق نہیں کرتا ہم نے پانامہ پیپرز کے منظرعام پر آنے کے بعد ہی احتجاجی تحریک کا عندیہ دے دیا تھا۔ اب تک ہم نے پشاور سے اٹک تک اور راولپنڈی سے اسلام آباد تک احتجاجی ریلیاں نکالی ہیں۔ جو لوگ کہہ رہے ہیں کہ ان میں عوام کم تعداد میں شریک ہوئی ہیں وہ غلط بیانی کر رہے ہیں۔ ان دونوں ریلیوں میں عوام کی بڑی تعداد شریک ہوئی تھی۔ درحقیقت یہ سب احتجاجی تحریک کا ابھی آغاز ہے۔ ابھی ہم نے بڑے پیمانے پر احتجاجی تحریک شروع کرنی ہے۔ ابھی عوام کو ہم نے باہر نکالنا ہے۔ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ حکمران طبقے کی عیاشی نے ملک کو مفلس کر دیاہے۔ جیسا کہ ہمارے قائد عمران خان نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کا منظرعام پر آنا اللہ تعالیٰ کا از خود نوٹس ہے۔ عوام کو اب اس بات کا فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کرپٹ حکمرانوں سے جان چھڑانے کا وقت آ گیا ہے۔ اگر اب بھی عوام سڑکوں پر احتجاج کے لیے ہمارے ساتھ نہ آئے تو پھر ایسا موقع دوبارہ نہیں آئے گا لیکن ہمیں اس بات کا یقین ہے عوام ہمیشہ کی طرح عمران خان کے کہنے پر لبیک کہتے ہوئے ہمارے ساتھ سڑکوں پر ہوں گے۔ ہماری احتجاجی تحریک کا بھرپور آغاز اب ہونے والا ہے۔

سوال: پیپلزپارٹی کی طرف آپ کے ساتھ احتجاجی تحریک میں شامل ہونے کے واضح اشارے نہیں مل رہے اس سے حزب اختلاف کے اتحاد میں دراڑ پڑتی نظر آ رہی ہے۔

جواب:پہلی بات تو میں آپ کو ایک کلیر کر دوں کہ پاکستان تحریک انصاف احتجاج کے لیے کسی دوسری سیاسی جماعت کی محتاج نہیں ہے۔ یہ ٹھیک ہے متحدہ اپوزیشن نے فیصلہ کیا تھا کہ مشترکہ طور پر ٹرمز آف ریفرنس(ٹی او آر) بنائے جائیں جس کے تحت پانامہ لیکس پر تحقیقات کا آغاز کیا جائے۔ مگر وہ معاملہ حکومت کی بدنیتی کے باعث حل نہ ہوا۔ کیونکہ حکومت اندر سے خوف زدہ ہے۔ نوازشریف کو پتہ ہے کہ اس نے کیا کیا کرپشن کی ہوئی ہے۔ پیپلزپارٹی نے ستمبر میں احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اگر پیپلزپارٹی نے ایسا نہ کیا تو اس کو بہت بڑا سیاسی نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔

سوال:نوازشریف اور مسلم لیگ (ن) کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے وہ الیکشن کے سائنس دان ہیں۔ تحریک انصاف بڑے بڑے جلسے کرتی ہے مگر الیکشن نوازلیگ جیت جاتی ہے۔

جواب:آپ کا سوال خاصا معنی خیز ہے۔ تین سال قبل جو الیکشن ہوئے تھے اس میں عوامی پذیرائی انتخابی مہم کے دوران ہماری طرف جا رہی تھی مگر الیکشن کے نتائج ہمارے خلاف آئے ہیں۔ اس میں جہاں کچھ ہماری اپنی غلطیاں شامل تھیں، وہاں نوازلیگ کا ریاستی وسائل کو اپنے حق میں استعمال کرنے کا نہایت منظم دھندلی کا منصوبہ بھی تھا۔ وہ لوگ 35سال سے اقتدار میں ہیں۔ بیوروکریسی، الیکشن کمیشن، پولیس، ضلعی حکومتوں میں ہر جگہ ان کو اپنی پسند کے بندے مل جاتے ہیں کیونکہ ان کو بھرتی ہی اس لیے کیا جاتا ہے۔ اگلے الیکشن ہم نے ان تمام باتوں کو نظرمیں رکھا ہوا ہے۔

سوال:پنجاب میں بچوں کے اغوا کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت اس سلسلے میں کچھ کرنے سے قاصر ہے اس سلسلے میں تحریک انصاف کا کیا موقف ہے؟

جواب:یہ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ حکومتی بے حسی کی انتہا ہے۔ پنجاب میں اب تک 900کے قریب بچے اغوا ہو چکے ہیں مگر حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ آخر یہ کس بات کے انتظار میں ہیں۔ آئندہ آنے والے پنجاب اسمبلی کے اجلاس میں ہم بھرپور احتجاج کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ ایک ناقابل تلافی جرم ہے۔ بچے سب کے سانجھے ہوتے ہیں۔ ان پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ یہ انتظامیہ کی بے حسی ہے وہ اب تک بردہ فروشوں کے کسی گروہ کو گرفتار نہیں کر سکی۔
سوال:آپ نے اورنج لائن ٹرین کے حوالے سے پنجاب اسمبلی میں خاصااحتجاج کیا۔ مگر یہ منصوبہ ویسے ہی جاری ہے۔

جواب:ہم صرف احتجاج کر سکتے ہیں۔ منصوبے پر کام تو نہیں رکوا سکتے مگر ہمارے احتجاج کا ایک بہت بڑا فائدہ یہ ہوا کہ جن افراد کے گھر بار اور جائیدادیں اس منصوبے کی زد میں آئے تھے ان کی کوئی شنوائی نہیں ہو رہی تھی مگر ہمارے احتجاج کے بعد وزیراعلیٰ نے متاثرین کو فوری ادائیگی کر دی۔ اس منصوبے کے حوالے سے میں نے عدالت میں کیس دائر کر رکھاہے۔ سول سوسائٹی کے لوگ بھی عدالت میں ہیں۔ اس معاملے پر مزید رائے کیا دوں اب فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔

سوال:تحریک انصاف نے اپنے جماعتی الیکشن کروانے کی اچھی روایت ڈالی ہے مگردیکھنے میں یہ آیا ہے کہ اس سے تحریک انصاف کو خود نقصان ہو رہا ہے؟

جواب:ایک بات تو طے ہے کہ تحریک انصاف میں ہر صورت میں جماعتی انتخابات ہوں گے۔ تحریک احتساب کے بعد جماعتی انتخابات پر کام ہوگا۔