بڑا فیصلہ توسیع یا ریٹائرمنٹ ستمبر گزر رہا ہے

بڑا فیصلہ توسیع یا ریٹائرمنٹ ستمبر گزر رہا ہے

سی آر شمسی۔۔۔

بساط بچھ گئی ہے ۔۔۔کھلاڑیوں کی گرما گرمی کھیل کو سنسنی خیز بنا رہی ہے ، سیاسی شعلہ نوائی ، رخصت ہوتے بھادوں کی تپش جوبن پر تو تھی ہی عمران خان نے وزیراعظم نوازشریف کی نجی رہائش گاہ کے گھیراؤ کیلئے رائیونڈ جانے کا اعلان کرکے ستمبر کو حقیقتاً ستمگر بنا نے کی کوشش کی ہے، سیاست میں تو کچھ بھی بعید نہیں ماضی میں سیاسی محاذ آرائی کے نام پر ہر جائز ناجائز کھیل کھیلا گیا ،اخلاقیات بھی دم توڑتی رہیں ، قانون کا مذاق اڑتا رہا ،شارع دستور بھی ایک عرصہ تک’’ نظریہ ضرورت‘‘ کے کفن میں دباء رہا۔۔۔، نتیجے میں سیاست اور سیاستدان ہمیشہ ’’کٹہرے‘‘ میں ہی کھڑے نظرآئے، اول، اول تو سیاست ویسے ہی جرم ٹھہری، اختلاف رائے کو دشمنی سمجھا گیا، رہی سہی کسر یتیم اور اقتدار کے رسیا سیاستدانوں کی وابستگیاں منہ مانگے داموں بیچنے کے کاروبار نے پوری کردی، بیوفائیوں کی داستانیں رقم ہوتی چلی گئیں، مفاد اور انتقامی سیاست کے بعض اوراق تو اس لئے بھی شرمناک ہیں کہ ان میں اعلیٰ عدلیہ سمیت قومی ادارے بھی لتھڑے نظر آتے ہیں، توقع تھی کہ بے پناہ تلخ تجربوں سے سیاسی قیادت ماضی دہرانے کی بجائے اس سے سبق سیکھے گی، افسوس لمحہ موجود کا منظر اس خواہش کی نفی کرتا نظر آرہاہے، سیاستدانوں نے کچھ سیکھا ہے نہ ریاستی اداروں کی ’’بیتابی‘‘ میں کوئی کمی آئی ہے۔

بات دور نکل جائے گی ، دارالحکومت میں عیدکے بعد سیاسی قربانیوں کی کہانیاں گردش میں ہیں، اپنا ریفرنس مسترد ہونے پر عمران خان بنی گالہ سے اتر آئے ہیں پارلیمنٹ میں ان کی پرجوش دلچسپی فطری تھی ۔۔ ،سپیکر ایاز صادق نے وزیراعظم کے خلاف پی ٹی آئی کا ریفرنس مسترد کیا اور حکومتی ریفرنس کو قبولیت بخشتے ہوئے عمران اور جہانگیر ترین کے خلاف الیکشن کمیشن کو بھیج دیا حلانکہ دونوں جانب سے الزامات اور شواہد کے دعوے ایک جیسے ہی تھے سپیکر نے پاس کئی مثبت راستے موجود تھیبطور کسٹوڈینپارلیمانی تاریخ میں رقم ہوسکتے مگر انہوں نے فریق بننا پسند کیا یہ فیصلہ متنازعہ تو رہے گاہی خود ان کی شخصیت پر بھی سوال اٹھتے رہینگے۔۔۔اگر وہ اپنے ’’انصاف ‘‘پر مطمئن ہوتے تو انہیں عمران خان کا بہرحال سامنا کرنا چاہئے تھا، اپنی عدم موجودگی کی وہ جو بھی تاویل پیش کریں بے معنی ہیں، یہ ان کیلئے ایک کمزور لمحہ تھا۔۔۔، ان کے ایوان سے جانے سے عمران خان کا جوش دو چند ہوگیا ، ان کی گفتگو میں پہلی بار ٹھہراؤ محسوس ہوا ، دلیل بھی نظر آئی مگر ایک مرحلہ پر یہ کہہ کر ہوش کھو بیٹھے، میں اب سپیکر کو سپیکر نہیں ایاز صادق کہوں گا۔۔۔ وہ یہ بھول گئے ایسا کہنے کیلئے انہیں بھی اسمبلی سے باہر جانا ہوگا۔

عمران خان کی جارحانہ اننگز تو جاری ہے ہی مگر اس میں شدت پیدا کرنے میں بعض وفاقی وزراء بھی دن رات ایک کئے ہوئے ہیں، حیرت کی بات تو یہ ہے کہ وزیراعظم کا دفاع کرنے والوں میں طلال چوہدری، دانیال عزیزسمیت کم و بیش وہی چہرے ہیں جو ایک زمانے میں جنرل پرویز مشرف کی ڈھال ہوا کرتے تھے۔

وقت وقت کی بات ہے کل کے دشمن آج دوست بن رہے ہیں،میثاق جمہوریت بھی دم توڑرہاہے ، بظاہر گرینڈاپوزیشن کا خاکہ ابھر رہا ہے رنگ ابھی پھیکے ہیں ۔

مگر حکومت اسے اپنی کامیابی نہ سمجھے یہ رنگ کسی وقت بھی گہرے ہوسکتے ہیں دبئی سے خاموشی ٹوٹنے کی دیر ہے سابق صدر آصف علی زرداری کی منتظر مگر معنی خیز مسکراہٹ کسی لمحہ بھی کھیل کا پانسہ پلٹ سکتی ہے۔

عمران خان کی تو شدید خواہش تھی کہ ان کا کنٹینر اپوزیشن جماعتوں کے جھرمٹ رائیونڈ کے محل پہنچے مگر وہ شاید بھول گئے کہ سیاست میں ابھی بصیرت باقی ہے، پی ٹی آئی کے چند مدبر لیڈروں میں سرفہرست شاہ محمود قریشی کا زیادہ وقت تو قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کے چیمبر میں گزر رہا ہے ، مقصد ایک ہی ہے کہ آؤ اکٹھے ہوکر جاتی امراء کا گھیراؤ کریں۔

آخری اطلاعات تک عوامی مسلم لیگ کے کل اثاثے شیخ رشید احمد کے سوا کسی اور جماعت نے رائیونڈ قافلے کا حصہ بننا تو درکنار، اشارہ تک نہیں دیا، جس طرح حکومت کے لاتعداد ترجمان وزیراعظم نوازشریف کو دھرنوں سے ڈرا ڈر ا کر دباؤ میں لارہے ہیں اسی طرح عمران خان کے حصے میں بھی آنے والے اتحادی شیخ رشید احمد اپنی شعلہ نوائی سے اپوزیشن جماعتوں کو بکھیرے رکھنے کا فریضہ بخوبی نبھا رہے ہیں ، انہیں دعویٰ ہے کہ وہ نوازشریف سے بڑے لیڈر ہیں ، کہتے ہیں کہ میں نوازشریف کا کوچ رہا ہوں وہ میرے شاگرد تھے ۔دیکھتے ہیں کہ عمران خان کیا پسند کرتے ہیں،استاد یا شاگرد ؟

اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے سرخ جھنڈی کے اشارے تو تھے ہی عمران خان کے کزن علامہ طاہرالقادری نے رائیونڈ جانے سے انکارکرکے عمران خان کو ایسا جھٹکا دیا ہے کہ وہ ریلی کی تاریخ بدلنے پر مجبور ہوگئے ہیں ، اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے سکھر پہنچتے ہی یہ کہہ کر رائیونڈ قافلے کا خیمہ کھینچ لیا ہے کہ شریف فیملی پر کرپشن کے الزامات میں کوئی شک وشبہ نہیں مگر ہم چادر اور چار دیواری کے تقدس پر سمجھوتہ نہیں کرینگے ۔۔۔یہ ہماری سیاست نہیں۔۔۔،یہ صورتحال عمران خان کے جوش میں ٹھہراؤ کیلئے کافی تھی کہ اچانک حکمران جماعت کو احساس ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہکپتان رائیونڈ جانے کا ارادہ بدل ڈالے ،مسلم لیگی کارکنوں نے خیبرپختونخوا اسمبلی پردھاوا بول دیا ، اگرچہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی صاحبزادی مریم نواز نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ حملہ نہیں ہوا محض کچھ نوجوان گیٹ پر پرچم لہرانے کی کوشش کر رہے تھے ، حقیقت کچھ بھی ہو، اس واقعہ نے عمران خان کی احتجاجی سیاست کو آکسیجن فراہم کردی ہے، حکمران جماعت لندن میں ان کے سابق سسرالیوں کے گھر کا گھیراؤ کرکیپہلے ہی یہ ناخوشگوار روایت رقم کرچکی ہے، کامیاب ہارٹ سرجری کے بعد وزیراعظم نوازشریف خود بھی بھرپور فام میں ہیں، چہرے پر اطمینان اور غصہ سجائے کپتان کے صوبے میں جاکر للکارنے سے لگتا ہے جیسے وہ بھی چاہتے ہیں کہ سیاست گرم رہے
اور ستمبر خاموشی سے گزر جائے
امریکہ بھی تو جانا ہے

تاہم راتوں کے پچھلے پہر تک اسلام آباد اور راولپنڈی کی ویران سڑکوں پر پروٹوکول قافلوں کی غیر معمولی آمد ورفت ،چیختے چلاتے سائرن ، ایوانوں میں اضطراب کی نشاندہی کر رہے ہیں ، جہاں بڑا فیصلہ زیرغور ہے۔۔، توسیع یا ریٹائرمنٹ،
وزیراعظم تاحال ملک سے باہر ہیں اور ستمبر گزر رہا ہے